سکندر علی وجد کے کلام میں انسان ہمدردی' ہندوستانی تہذیب و تمدن' اور کائنات کی حقیقتوں کو سمجھنے کی تڑپ نظر آتی ہے۔ ایڈوکیٹ اسلم مرزا۔شعبہ اردو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی میں ایک روزہ قومی سیمنار بعنوان سکندر علی وجد شخص و شاعر۔ کا انعقاد۔
سکندر علی وجد کے کلام میں انسان ہمدردی' ہندوستانی تہذیب و تمدن' اور کائنات کی حقیقتوں کو سمجھنے کی تڑپ نظر آتی ہے۔ ایڈوکیٹ اسلم مرزا۔
شعبہ اردو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی میں ایک روزہ قومی سیمنار بعنوان سکندر علی وجد شخص و شاعر۔ کا انعقاد۔
اورنگ (راست) شعبہ اردو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی میں ایک روزہ قومی سیمنار بعنوان *سکندر علی وجد شخص و شاعر* کا انعقاد 12 فروری 2026 کو کیا گیا ۔افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر والمک سرودے ( پرو وائس چانسلر ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی) نے کی اور سیمنار کا افتتاح کا اعلان کرتے ہوئے اپنے زرین خیالات کا اظہار کیا ۔ پروفیسر کیرتی مالنی جاولے صاحبہ نے سیمنار میں شرکت کرنے والے تمام مہمانان اور طلباء و طالبات کے لیے استقبالیہ کلمات ادا کیے اور اس سیمنار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی ۔ اس سیمنار میں مہمان خصوصی کے طور موجود جناب ایڈوکیٹ اسلم مرزا معروف اردو اسکالر و مرتجم نے اس سیمنار کا کلیدی خطبہ پیش کیا اور سکندر علی وجد کے مخفی گوشوں کو بڑی باریکی سے حاضرین کے سامنے پیش کیا ۔جسے تمام طلباء و طالبات اور اساتذہ اکرام اور رسرچ اسکالر نے خوب سراہا ۔اس کے علاوہ مہمان خصوصی کے طور موجود ڈاکٹر عظیم راہی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سیمنار منعقد کرنا نہایت اہم اور آج کے دور کی ضرورت ہے۔ایسے سیمناروں سے رسرچ اسکالر اور طلباء و طالبات کو فایدہ پہنچتا ہے۔انھوں نے صدر شعبہ اردو پروفیسر کیرتی مالنی جاولے صاحبہ کو مبارک باد پیش کیں۔افتتاحی اجلاس کی نظامت سیمنار کنوینر ڈاکٹر شیخ اصغر اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو نے انجام دی جبکہ شکریہ کے کلمات ڈاکٹر رضوانہ رہبر نے ادا کیے ۔
ٹیکنیکل اجلاس اول میں تقریباً 10 مقالے رسرچ اسکالر اور اساتذہ نے پیش کیے ۔جس کی صدارت جناب ایڈوکیٹ اسلم مرزا اور ڈاکٹر عظیم راہی نے کیں اور تمام مقالہ نگاروں کو مبارک باد دیتے ہوے اپنے اپنے زرین خیالات کا اظہار کیا۔احمد اورنگ آبادی نے اپنے زرین خیالات کا اظہار کیا ۔۔اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر رضوانہ رہبر نے کیں جبکہ شکریہ کے کلمات پی ایچ ڈی رسرچ اسکالر شیخ اظہر بشیر نے ادا کیے ۔
دوسرے ٹیکنکل اجلاس میں تقریباً 12 مقالہ نگاروں نے اپنے مقالے پیش کیے جو سکندر علی وجد کی شخصیت اور شاعری پر منحصر تھے۔اس اجلاس کی صدارت پروفیسر مسعود انصاری صدر شعبہ اردو انکوش راؤ ٹوپے کالج جالنہ اور ڈاکٹر یوسف صابر اور پروفیسر سلیم محی الدین نے انجام دی اور اپنے زرین خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تمام مقالہ نگاروں کو مبارک باد پیش کیں اور اپنے مفید مشوروں سے نوازا ۔۔اس اجلاس کی نظامت سال دوم کے طالبِ علم قاضی محمد عاطف نے کیں جبکہ شکریہ کے کلمات ڈاکٹر نور جہاں نے ادا کیے ۔۔
اختتامی اجلاس پروفیسر کیرتی مالنی جاولے صاحبہ صدر شعبہ اردو کی صدارت میں منعقد ہوا ۔جس میں سیمنار میں شرکت کرنے والے تمام مہمانوں نے اپنے زرین خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدر شعبہ اردو کو مبارک باد پیش۔۔ڈاکٹر قاضی نوید احمد صدر شعبہ اردو مولانا آزاد کالج نے کہا کہ ایسے سیمنار منعقد کرنے سے یقینا آنے والے رسرچ اسکالر اور طلباء و طالبات مستفید ہو گے۔۔اسی طرح ڈاکٹر عظیم راہی نے کہا کہ یہ ایک اہم اور کامیاب سیمنار ہے جس سے سکندر علی وجد کے نمایاں گوشے ہمارے سامنے اجاگر ہوے ہیں ۔۔ایڈوکیٹ اسلم مرزا نے کہا کہ یہ سیمنار نہایت اہم ہے اور ایسے سیمناروں سے سکندر علی وجد جیسے شاعروں کو باریکی سے سمجھنے کا موقع ملتا ہے ایسے موضوعات پر سیمنار کرنا یقینا ایک اہم اور بڑا کام ہے ۔۔صدر اجلاس پروفیسر کیرتی مالنی جاولے صاحبہ نے اپنے خیالات میں کہا کہ سکندر علی وجد جیسی قد آور شخصیت پر سیمنار کروانا یہ شعبہ اردو کے لیے بڑی فخر کی بات ہے اور یقینا اس کامیاب سیمنار سے آنے والے رسرچ اسکالر اردو کے طلبہ و طالبات استفادہ کریں گے اور سکندر علی وجد پر اپنے تحقیق سے ایسے مخفی گوشوں کو قارین کے سامنے لایگے جو ابھی تک اردو ادب سے اوجھل تھے ۔ انھوں نے سیمنار کنوینر کو مبارک باد دی اور ایسے سیمنار منعقد کرتے رہنے کا وعدہ کیا ۔۔اس اختتامی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر نور جہاں بیگم نے کیں جبکہ شکریہ کے کلمات سیمنار کنوینر ڈاکٹر شیخ اصغر نے ادا کیے ۔اس سیمنار کو کامیاب بنانے میں شعبہ اردو کے اساتذہ رسرچ اسکالر اور غیر تدریسی عملے نے انتھک محنت کیں۔
Comments
Post a Comment