سحر ہونے کو ہے۔ کلر چینل کی اردو سریل میں وقار شیخ کی جانب سےنبھایا گیا کردار ان کی اداکارانہ صلاحیتوں کو نمایاں کرتا ہے۔ ایک خاکہ خصوصی پیشکش۔۔سعید پٹیل جلگاؤں۔
سحر ہونے کو ہے۔ کلر چینل کی اردو سریل میں وقار شیخ کی جانب سےنبھایا گیا کردار ان کی اداکارانہ صلاحیتوں کو نمایاں کرتا ہے۔
ایک خاکہ خصوصی پیشکش۔۔
سعید پٹیل جلگاؤں۔
کلر چینل پر ٢دسمبر ٢٠٢٥ سے شروع ہوئی اردو سریل ”سحر ہونے کو ہے“ میں وقار شیخ جو کہانی کے اہم کردار پرویز بیگ کو بہت خوبصورتی سے نبھا رہے ہے۔ اپنی اداکارانہ صلاحیتوں سے سجاۓ ہوۓ اپنے کردار کو نمایاں کرنے میں کامیابی سے ہمکنار کرتے ہوۓ نظر آرہے ہیں۔جن کے منفرد کردارنے انھیں کی دیگر سریلوں کی طرح تفریح کے ساتھ شاندار اداکاری کے ذریعے سریل کو کامیابی کی جانب رواں دواں ہے۔جو قابل ستائش ہے۔اس نمائندے کو موصوف نے اپنے کردار اور اداکاری کے تعلق سے گفتگو کی
سحر ہونے کو ہے ایک سماجی طور پر چلنے والا ڈرامہ ہے۔ جس کے تعلق سے شروع میں کچھ شائقین نے اعتراض جتایا کہ مہذیب معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔؟لیکن پھر ہم نے ان سے کہاکہ کچھ لوگ سوچ کے غلام ہوتے ہیں ، جیسے کے کردار میں میری بات پتھر کی لکیر ہے۔
تمام ہی کردار بہت اجھے رہے ، اب یہ سریل لوگوں کے سمجھ میں آرہا ہے اور پوری دنیا میں بڑی دلچسپی سے دیکھا جارہا ہے۔اس میں پرویز بیگ کے کردار کے ذریعے سماج کے دقیانوسی فکروالوں کو سمجھا رہا ہے۔کردار کو منتخب کرنا کبھی کبھی مشکل ہوتا ہے کیوں کے بار بار ایک جیسا کردار نبھانا مجھے پسند نہیں ہے۔مجھے کچھ الگ کرنا تھا اس لیۓ اس میں میرے لیۓ گذشتہ سریلوں کے کرداروں سے منفرد کردار ادا کرہا ہوں کیونکہ اداکاری کی رینج ہونی چاہیۓ۔جو اس سریل میں ہے وہ تو منفرد ہےہی لیکن اس سے قبل زی ٹی وی کی قبول ہے اور سریل انوپما تھا اور اب کلر ٹی وی کی سریل سحر ہونے کو ہے میں بھی منفرد کردار جو ایک چلینج ہے جس کے ادا کرتے وقت مدمقابل کو سوری کہتا ہوں۔ سریل سحر ہونے کو ہے ، پر گفتگو کی جو اندھیرے میں رہنے والا معاشرہ اور وہاں موجود منفی سوچ کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ ایک گھر یا ایک کردار تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں پورے شہر اور اس کے لوگوں کے درد ، خوف اور سچائی کو دکھایا گیا ہے۔
شو میں ایک ایسی کمیونٹی کی تصویر کشی کی گئی ہے جہاں ہمت ، سچائی اور سوال کرنے کو اکثر دبا دیا جاتا ہے۔ یہاں ، طاقت ، مہذب اور روایات کا غلط استعمال لوگوں کو ، خاص طور پر خواتین کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ غیرت اور روایت کے نام پر لڑکیوں کے خواب ، تعلیم اور آزادی کو قربان کر دیا جاتا ہے۔
کہانی ایسے کرداروں کے ساتھ کھلتی ہوئی نظر آتی ہے جو اس اندھیرے کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت کرتے ہیں۔ کچھ والدین اپنی بیٹیوں کے لیے تعلیم اور بہتر مستقبل چاہتے ہیں ، کچھ لڑکیاں اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے آواز اٹھاتی ہیں، اور دیگر نظام کے اندر رہتے ہوئے سچائی سے پردہ اٹھانے کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان افراد کے درمیان تنازعات ، جذباتی جدوجہد اور سخت فیصلے کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں ، اور معاشرے کو پیغام بھی دیتے ہیں۔ جس میں کہانی جہاں تفریح فراہم کرتی ہے وہی اس
شو کا ایک مضبوط پیغام یہ ہے کہ محبت صرف ایک ڈگری نہیں بلکہ ایک سوچ ہے جو انسان کو آزاد کرتی ہے۔ خواتین کی تعلیم ، کام اور زندگی میں فیصلہ سازی کسی کے خلاف نہیں ہے۔ بلکہ ، یہ دکھایا گیا ہے کہ سچا مہذب معاشرہ انسانیت نواز ، انصاف پسند اور مساوات کا درس دیتا ہے۔مجموعی پیغام یہ ہے کہ جب لوگ خوف کو چھوڑ کر سچائی کا ساتھ دیں گے ، والدین اپنی بیٹیوں کے خوابوں کو سمجھیں گے، اور اپنے مہذب ہونے کو صحیح تناظر میں سمجھا جائے گا ، تب ہی معاشرہ صحیح معنوں میں امن کا تجربہ کر سکتا ہے۔ یہ شو امید ، تبدیلی اور روشنی کی کہانی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر اندھیری رات کے بعد صبح ہوتی ہے۔
وقار شیخ بطور پرویز بیگ کہانی کےاس کردار میں علاقہ خاندیش کے شہر جلگاؤں کے مشہور سالار خانوادے کے چشم چراغ ہے۔ وقار شیخ اب تک کے منفرد کردار میں ہے۔جو خود بھی سنجیدہ ذہن کے مالک ہے۔جن کی فکری و فنی صلاحتیں اس کو چار چاند لگاتی ہے۔انھوں نے مذکورہ دوران گفتگو اس نمائندے کو بتایا کہ اس سریل میں وقار شیخ نے ایک ایسا کردار ادا کیا ہے جو ایک ایسے معاشرے کی نمائندگی کرتا ہے جہاں عزت اور مقام کو بہت زیادہ عزت دی جاتی ہے۔
جو اپنی بیٹی کی شادی مفتی کے بیٹے سے کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کے خاندان کو زیادہ عزت ، پہچان اور سماجی حیثیت حاصل ہو۔ ان کے لیے یہ رشتہ صرف شادی نہیں بلکہ معاشرے میں ان کے مقام اور اختیار کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔
لیکن کہانی یہاں ایک طاقتور موڑ لیتی ہے کیونکہ ان کی بیٹی اپنی زندگی کے لیے کچھ اور چاہتی ہے۔ وہ ڈاکٹر بننے کےلیۓ پڑھنا اور اپنی شناخت بنانا چاہتی ہے۔ اس کی ماں اس پورے سفر میں اس کا ساتھ دیتی ہیں۔ اس کی والدہ کا خیال ہے کہ شادی سے پہلے بیٹی کے مستقبل کو اس کے اپنے خیالات سے بچانا چاہیے۔
یہیں سے شو کا حقیقی تنازعہ شروع ہوتا ہے ، جب شادی اور تعلیم ، معاشرے کے خیالات اور خواتین کے خواب آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ شو خواتین کے حقوق اور تعلیم کو ترجیح دیتا ہے، اور یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ لڑکی کے لیے تعلیم حاصل کرنا ، ترقی کرنا اور اپنے فیصلے خود کرنا بالکل جائز ہے۔
سحر ہونے کو ہے یہ پیغام دیتا ہے کہ حقیقی عزت رشتوں یا سماجی حیثیت سے نہیں ہوتی بلکہ علم ، سوچ اور انسانیت سے ہوتی ہے۔ جب عورت کو سکون ملتا ہے تو نہ صرف گھر بلکہ پورا معاشرہ روشن ہو جاتا ہے۔
Comments
Post a Comment