آئین اور اپنے حقوق کے متعلق خواتین کی آگاہی ضروری۔۔تحریر : فردوس انجم (بلڈانہ، مہاراشٹر)


آئین اور اپنے حقوق کے متعلق خواتین کی آگاہی ضروری۔۔
تحریر : فردوس انجم (بلڈانہ، مہاراشٹر)

ہندوستانی آئین دنیا کے ترقی پسند ممالک کے آئین میں شمار ہوتا ہے، جو ملک کے تمام شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ خواتین، جو طویل عرصے تک سماجی، معاشی اور قانونی عدم مساوات کا شکار رہی ہیں، آئین کے ذریعے انہیں بااختیار بنایا گیا ہے۔ بالخصوص آرٹیکل 15، 16 اور 21 خواتین کے حقوق کے تحفظ اور فروغ میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
آرٹیکل 15(3): خواتین کے لیے خصوصی مراعات : 
آرٹیکل 15 عمومی طور پر مذہب، نسل، ذات، جنس یا جائے پیدائش کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ تاہم، اس کی شق (3) ریاست کو اس بات کا اختیار دیتی ہے کہ وہ خواتین اور بچوں کے لیے "خصوصی دفعات" یا قوانین وضع کرے۔ اسی آئینی طاقت کی بنیاد پر حکومتیں خواتین کے حق میں خصوصی اسکیمیں، گھریلو تشدد کے خلاف قوانین اور پنچایتی اداروں میں تحفظ (Reservation) دیتی ہیں۔
آرٹیکل 16: سرکاری ملازمتوں میں یکساں مواقع : 
آرٹیکل 16، کے تحت سرکاری دفاتر میں ملازمت یا تقرری کے معاملات میں تمام شہریوں کے لیے مواقع کی برابری کی ضمانت دی گئی ہے۔
امتیاز کی ممانعت: اس آرٹیکل کی شق (2) واضح طور پر کہتی ہے کہ کسی بھی شہری کے ساتھ صرف مذہب، نسل، ذات، جنس یا جائے پیدائش کی بنیاد پر ملازمت کے معاملے میں امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔
معاشی خود مختاری: یہ آرٹیکل خواتین کو معاشی طور پر آزاد بنانے اور مردوں کے تسلط والے پیشوں میں جگہ بنانے کا قانونی حق فراہم کرتا ہے۔ یہ یقینی بناتا ہے کہ خواتین صرف عورت ہونے کی بنیاد پر نااہل قرار نہ دی جائیں۔
آرٹیکل 21: حقِ زندگی اور شخصی آزادی : 
 یہ آرٹیکل کہتا ہے کہ "کسی بھی شخص کو قانون کے ذریعے قائم کردہ طریقہ کار کے علاوہ اس کی زندگی یا ذاتی آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا۔" خواتین کے لیے اس کی اہمیت درج ذیل ہے:
وقار کے ساتھ جینے کا حق: عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ "زندگی" کا مطلب صرف سانس لینا نہیں بلکہ انسانی وقارکے ساتھ جینا ہے۔
کام کی جگہ پر تحفظ: مشہورِ زمانہ وشاکھا کیس میں سپریم کورٹ نے آرٹیکل 21 کے تحت ہی کام کی جگہ پر خواتین کو جنسی ہراساں کیے جانے کے خلاف گائیڈ لائنز جاری کی تھیں۔
تولیدی حقوق اور انتخاب: خواتین کو اپنی مرضی سے شادی کرنے، زچگی (Reproductive rights) کے فیصلے کرنے اور اپنی نجی زندگی کو محفوظ رکھنے کا حق بھی اسی آرٹیکل سے ملتا ہے۔
صحت اور تعلیم:صحت کی سہولیات، تعلیم، صاف ماحول، ذہنی و جسمانی سلامتی، جنسی خودمختاری، رازداری (Privacy) اور تشدد سے تحفظ جیسے بنیادی حقوق بھی آرٹیکل 21 کا حصہ ہیں۔ گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی، عصمت دری اور جبری شادی جیسے جرائم کو عدالتوں نے اسی آرٹیکل کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
حالیہ قانونی پیش رفت اور ترامیم : 
خواتین کو سیاسی اور معاشی طور پر مزید مستحکم کرنے کے لیے حالیہ برسوں میں اہم اقدامات کیے گئے ہیں:
ناری شکتی وندن ادھینیم (2023): 106 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی (33%) نشستیں مختص کی گئی ہیں۔
لیبر کوڈز (2025): نئے لیبر کوڈز جنس کی بنیاد پر امتیاز کو روکنے اور مساوی اجرت کو لازمی بناتے ہیں۔ یہ خواتین کے لیے نائٹ شفٹ اور کانکنی جیسے شعبوں میں کام کے دروازے کھولتے ہیں، بشرطیکہ ان کی حفاظت اور رضا مندی یقینی ہو۔
فوجداری قوانین میں تبدیلی (2024): یکم جولائی 2024 سے نافذ العمل بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) اور دیگر قوانین میں خواتین کے خلاف جرائم کے لیے سخت دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ای-ایف آئی آر (e-FIR) اور زیرو ایف آئی آر کی سہولت نے انصاف تک رسائی آسان بنا دی ہے۔
تاریخی عدالتی فیصلے : 
سپریم کورٹ نے مختلف کیسز کے ذریعے خواتین کے حقوق کی تشریح کی ہے:
ایئر انڈیا بمقابلہ نرگس مرزا (1981): اس کیس میں ایئر انڈیا کے ایک قانون کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت ایئر ہوسٹسز کو شادی کرنے یا پہلی بار حاملہ ہونے پر ملازمت سے نکال دیا جاتا تھا۔سپریم کورٹ نے اسے آرٹیکل 16 اور 21 کی خلاف ورزی قرار دیا۔
" عدالت نے حاملہ ہونے پر ملازمت سے نکالنے کو غیر آئینی قرار دیا گیا۔اس فیصلے نے ملازمت پیشہ خواتین کے لیے زچگی کے دوران ملازمت کے تحفظ کی راہ ہموار کی۔"
پی بی وجے کمار کیس: خواتین کے لیے خصوصی ریزرویشن کو "حقیقی مساوات" کے قیام کا ذریعہ قرار دیا گیا۔
جسٹس کے ایس پٹاسوامی کیس (2017):
اس کیس میں "حقِ رازداری" (Right to Privacy) کو بنیادی حق قرار دیا گیا، جس سے خواتین کو اپنی جسمانی اور نجی زندگی پر مکمل اختیار ملا۔
مینکا گاندھی بمقابلہ یونین آف انڈیا 1978۔ : 
اس تاریخی فیصلے میں آرٹیکل 21 کی تشریح کو انقلابی وسعت دی گئی اور کہا گیا کہ زندگی اور آزادی سے محرومی کا طریقہ منصفانہ، معقول اور انسانی وقار کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس فیصلے نے خواتین کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی بنیاد فراہم کی۔
سوچتا سری واستو بمقابلہ چندی گڑھ ایڈمنسٹریشن 2009 ۔
اس کیس میں عدالت نے عورت کے تولیدی حقوق (Reproductive Rights) کو آرٹیکل 21 کے تحت تسلیم کیا اور کہا کہ عورت کو اپنی جسمانی خودمختاری پر مکمل اختیار حاصل ہے۔
سماجی و معاشی چیلنجز: 
 بے شک بھارتی آئین خواتین کو تحفظ فراہم کرتا ہے ، تاہم آئینی ضمانتوں کے باوجود، زمینی حقائق اب بھی ایک طویل جدوجہد کے متقاضی ہیں۔
مساوی اجرت کا فقدان: غیر منظم شعبوں (Unorganized Sector) میں آج بھی خواتین کو مردوں کے مقابلے کم اجرت دی جاتی ہے۔
گھریلو تشدد: اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گھروں کے اندر تشدد کے واقعات میں کمی نہیں آئی، جس کی بڑی وجہ سماجی دباؤ اور قانونی آگاہی کی کمی ہے۔
سیاسی نمائندگی: پنچایتوں میں تو خواتین موجود ہیں، لیکن اکثر " پتی " (شوہر) ان کے اختیارات کا استعمال کرتے ہیں، جو آئین کی روح کے خلاف ہے۔
 تجاویز : 
خواتین کو صحیح معنوں میں بااختیار بنانے کے لیے صرف قوانین کافی نہیں، بلکہ درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
قانونی خواندگی (Legal Literacy): اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر خواتین کو ان کے آئینی حقوق سے آگاہ کیا جائے۔
عدالتی اصلاحات: خواتین کے خلاف جرائم کے مقدمات کے لیے "فاسٹ ٹریک" عدالتوں کو مزید فعال بنایا جائے۔
سماجی بیداری: سماج کی ذہنیت میں تبدیلی لانے کے لیے سماج بیداری مہمیں چلائی جائیں ۔
بلا شبہ آرٹیکل 15، 16 اور 21 مل کر خواتین کو ایک بااختیار اور باوقار شہری بنانے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، عملی سطح پر صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔ حقیقی انصاف تب ہی ممکن ہے جب آئین کی روح کاغذ سے نکل کر معاشرے کی مجموعی سوچ اور خواتین کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔