اسلام، محبت، ویلنٹائن ڈے اور اقدار کا انحطاط۔ (قرآن و حدیث کی روشنی میں)از قلم : ڈاکٹر سہیم الدین خلیل الدین صدیقی (اورنگ آباد،دکن)


اسلام، محبت، ویلنٹائن ڈے اور اقدار کا انحطاط۔ 
(قرآن و حدیث کی روشنی میں)
از قلم : ڈاکٹر سہیم الدین خلیل الدین صدیقی (اورنگ آباد،دکن)
اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو۔
سوامی رامانند تیرتھ مہاودیالیہ امباجوگائی ضلع بیڑ مہاراشٹر
8087933863

محبت انسان کی فطرت میں شامل ایک نہایت خوبصورت اور انتہائی طاقتور جذبہ قدرت ہے۔ یہ وہ احساس ہے جو انسان کو انسان سے جوڑتا ہے، دلوں میں نرمی اور ہمدردی پیدا کرتا ہے نیز زندگی کو معنویت بخشتا ہے۔ اسلام چونکہ دینِ فطرت ہے، اس لیے وہ محبت سے انکار نہیں کرتا بلکہ اسے پاکیزہ، بامقصد اور باوقار شکل عطا کرتا ہے۔ لیکن عصر حاضر میں 14 فروری کو ملکی و بین الاملکی سطح پر منایا جانے والا ویلنٹائن ڈے محبت کے اظہار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، بایں ہمہ اگر ہم اس دن کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پرکھیں تو کئی بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں۔ لہذا اس پر سیر حاصل گفتگو کرنے سے قبل یہ جان لینا لازمی سمجھتا ہوں کہ ویلنٹائن ڈے کا پس منظرکیا ہے،اس پر اظہار خیال کیا جائے۔
ویلنٹائن ڈے کی جڑیں دراصل مغربی اور عیسائی روایات میں ملتی ہیں، جن کا تعلق سینٹ ویلنٹائن نامی ایک پادری سے جوڑا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ دن مذہبی حدود سے نکل کر ایک ایسا تہوار بن گیا جو اکثر غیر محرم تعلقات، وقتی جذبات اور بے اعتدالی کی علامت سمجھا جاتا ہے جو کہ ایک غیراقداری و غیر اخلاقی تصّور اِنسانی ہے۔ لہٰذا اسلام میں محبت کو ایک مقدس امانت سمجھتا ہے، لیکن اس کے لیے واضح حدود مقرر کردیئے گئے ہے۔ قرآنِ مجید میاں بیوی کے درمیان محبت کو اللہ کی نشانی قرار دیا گیا ہے:
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةًؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(سورة الروم21)
ترجمہ:
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کی طرف آرام پاؤ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی۔ بے شک اس میں غوروفکر کرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں ۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام میں محبت کا سب سے خوبصورت اور مکمل اظہار نکاح کے ذریعے ہوتا ہے۔ لیکن عہد جدید میں نوجوان نسل ویلنٹائن ڈے کی آڑ میں غیرمحرم سے تعلقات کو محبت نام دیتی ہے اور خود کو گنہاوں کے دلدل میں جھونکتی چلی جاتی ہے۔ اسلام کے روشنی عرض کیا جاۓ تو اسلام میں انسان کو نہ صرف غیر محرم تعلقات سے ممانعت قرار دیا ہے بلکہ اسلام انسان کو صرف گناہ سے ہی نہیں بلکہ گناہ کے قریب جانے سے بھی روکتا ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے کہ:
وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(سورة بنى اسراءيل32)
ترجمہ:
اور بدکاری (زنا) کے پاس نہ جاؤبیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ (راستہ ہے)۔
 اسی طرح سے قرآن مردوں اور عورتوں دونوں کو اپنی نگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیتا ہے ملاحظہ ہو:
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(سورة النور 30)
ترجمہ:
مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے، بیشک اللہ ان کے کاموں سے خبردار ہے۔
اسی طرح سے سورۃ نور کی اگلی آیت بیان کرتی ہے کہ:
وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ۔۔۔۔(31) سورة النور
ترجمہ:
اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں۔۔
(سورۃ النور31)
کیونکہ نگاہ ہی اکثر دل کے بگاڑ کا پہلا دروازہ بنتی ہے۔ لیکن اِس عیسائی روایت یعنی ویلنٹائن کے ضمن میں نہ صرف نگاہیں بگڑتی ہے بلکہ اِنسانی اقدار کا بھی انحطاط ہوتا ہے۔ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ حضرت محمد مصطفیٰ رسول اللہ ﷺ کے احدیث میں بھی ارشاد گرامی ہے کہ حیا کو ایمان کا جزو ہے نبی ﷺ فرماتے ہیں:
“الحياءُ شُعبةٌ من الإيمان”
(حیا ایمان کا ایک حصہ ہے)
(بخاری، مسلم)
ایک اورحدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا:
“جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے”
(سنن ابی داؤد)
یہ حدیث ہمیں غیر اسلامی تہذیب کی اندھی نقالی سے روکتی ہے۔
سب سے خوبصورت رہنمائی نبی ﷺ نے محبت کے درست راستے کے بارے میں دی:
"دو محبت کرنے والوں کے لیے نکاح سے بہتر کوئی چیز نہیں۔"
(سنن ابن ماجہ)
مذکورہ تمام قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں کہا جائے تو بے موقع نہ ہوگا کہ اسلام محبت کو قید نہیں کرتا بلکہ اسے عزت، تحفظ اور دوام عطا کرتا ہے۔ ویلنٹائن ڈے جیسی رسومات وقتی جذبات اور غیر واضح حدود پر قائم ہوتی ہیں، جبکہ اسلام محبت کو ذمہ داری، وفا اور حیا کے ساتھ جوڑتا ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کے لیے اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ محبت کا اظہار نکاح کے ذریعے، اچھے اخلاق و اقدار کے ذریعےکرے۔ نیز اپنے والدین، خاندان اور معاشرے کے حقوق ادا کر کے اور ان سب سے بڑھ کر اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ کرے، حتیٰ کہ اسلامی محبت کسی ایک دن کی محتاج نہیں، بلکہ پوری زندگی کا کردار ہوتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔