یادِ رفتگان کے تحت مخدوم محی الدین اور زینت ساجدہ کو محفل خواتین کا خراجِ عقیدت۔


(حیدرآباد ) محفلِ خواتین کے زیرِ اہتمام ’یادِ رفتگان‘ کے عنوان سے 14 فروری کو ایک باوقار ادبی اجلاس منعقد ہوا جس میں مخدوم محی الدین اور زینت ساجدہ کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ انیس عائشہ نے کہا کہ ’’قلم گوید کہ من شاہِ جہاںم‘‘ جیسے عنوانات پر منعقد ہونے والی تقریبات ماضی کو حال اور مستقبل سے جوڑنے کا وسیلہ بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مخدوم محی الدین اور زینت ساجدہ نے با مقصد زندگی گزارنے کا سبق دیا۔ انہوں نے محفل سے وابستہ شاعرات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’قلم ہمارا ہتھیار بھی ہے اور زیور بھی‘‘ اور خوشی کا اظہار کیا کہ محفلِ خواتین کے قلم میں روز بروز نکھار آرہا ہے۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر فریدہ راج نے ویلنٹائن ڈے کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ (Valentine's Day) صرف جوڑوں کے لیے مخصوص نہیں بلکہ یہ محبت کے ہمہ گیر اظہار کا دن ہے، جس میں والدین، بہن بھائیوں اور بچوں کے لیے بھی محبت کا پیغام شامل ہے۔
سماجی جہدکار ڈاکٹر رفیعہ نوشین نے ’’مخدوم اور بات پھولوں کی‘‘ کے عنوان سے مضمون پیش کیا، جب کہ ڈاکٹر گل رعنا نے مخدوم پر  زینت ساجدہ کا لکھا ہوا خاکہ ’’من تیرا حاجی بگویم‘‘ پیش کیا۔ محترمہ ثریا جبیں نے افسانہ ’’لمحوں نے خطا کی تھی‘‘ سنایا۔
مشاعرے کا آغاز ڈاکٹر عطیہ مجیب عارفی نے مخدوم کے کلام سے کیا اور اپنا کلام بھی پیش کیا، جبکہ محترمہ شبینہ فرشوری نے جشنِ مخدوم کے موقع پر لکھا گیا سلیمان خطیب کا دکنی کلام سنایا۔ تجمل فاطمہ، ڈاکٹر ثمینہ بیگم، صائمہ متین، عذرا سلطانہ اور ڈاکٹر رفیعہ نوشین نے بھی اپنا منتخب کلام پیش کیا۔
ادبی اجلاس کی کارروائی ڈاکٹر ثمینہ بیگم نے انجام دی جبکہ مشاعرے کی نظامت صائمہ متین نے بحسن و خوبی نبھائی۔ داعیِ محفل محترمہ رحیم النساء بیگم تھیں۔ آخر میں ڈاکٹر گل رعنا کے شکریے کے ساتھ محفل اختتام پذیر ہوئی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔