ریاض العلوم الجدید عربک کالج، ہبلی (کرناٹک) میں سالانہ جلسۂ دستار بندی و تقسیمِ اسناد رپورٹ: آفتاب عالم شاہ نوری ہبلی کرناٹک۔
ریاض العلوم الجدید عربک کالج، ہبلی (کرناٹک) میں سالانہ جلسۂ دستار بندی و تقسیمِ اسناد رپورٹ: آفتاب عالم شاہ نوری ہبلی کرناٹک۔
کرناٹک : ریاض العلوم الجدید عربک کالج، ہبلی (کرناٹک) میں 2 فروری 2026 کو سالانہ جلسۂ دستار بندی و تقسیمِ اسناد نہایت وقار اور دینی جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس بابرکت پروگرام کی سرپرستی حضرت مولانا احمد سراج صاحب فیض آبادی عمری قاسمی، مہتمم ریاض العلوم الجدید عربک کالج، نے فرمائی، جبکہ صدارت حضرت مولانا ابوبکر طیبی کاشفی مظاہری، مہتمم مدرسہ دارالابرار بیجاپور اور سابق استادِ حدیث مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ، نے کی۔
پروگرام کی پہلی نشست بعد نمازِ عصر تا مغرب منعقد ہوئی، جس کی نظامت محمد طیب رام پوری نے انجام دی۔ نشست کا آغاز عقیل اور زہیب کی تلاوتِ کلامِ پاک مع ترجمہ سے ہوا۔ یہ ایک منفرد اور قابلِ تحسین پہلو تھا کہ طلبہ نے قرآنی آیات کی تلاوت کے ساتھ ساتھ بلیغ انداز میں ان کا ترجمہ بھی پیش کیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔ اس کے بعد متعلم داؤد نے نہایت خوش الحانی سے نعتِ شریف پیش کی، جس سے پورا ماحول معطر ہو گیا۔
پہلی نشست میں طلبہ کی تقاریر پیش کی گئیں، جن میں محمد سعد بابا قلندر نے “تکلیف نہ دینے کی فضیلت”، حمزہ ہبلی نے “قرآن کی پکار: میں مظلوم ہوں”، وسیم اکرم نے “دعوتِ دین کی منصوبہ بندی”، زید بلگام نے عربی تقریر، محمد شہروز نے انگریزی تقریر اور رومان نے کنڑا زبان میں خطاب کیا۔ بعد ازاں ادارے کا ترانہ پیش کیا گیا، جس کے ذریعے ادارے کے تعارف کے ساتھ اس کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
دوسری نشست بعد نمازِ مغرب تا رات 11:30 بجے تک جاری رہی۔ اس نشست کا آغاز عبداللہ کی حمد سے ہوا۔ بعد ازاں عقیل مع رفقا نے حفظِ قرآن کا مظاہرہ حروفِ تہجی کی ترتیب کے ساتھ پیش کیا۔ اس مظاہرے میں ایک آیت کے آخری حرف سے دوسری آیت کا آغاز کیا گیا۔ حضرت مولانا ابوبکر طیبی صاحب نے آیت تلاوت فرمائی، جس کے بعد طلبہ نے غیر معمولی مہارت کے ساتھ حفظِ قرآن کا مظاہرہ کیا۔
اس نشست میں مولانا نہال احمد نے “عصرِ حاضر میں مسلمانوں کی دعوتی ذمہ داریاں” کے موضوع پر خطاب کیا۔ عبداللہ مع رفقا نے “انسان کا سفر: قیامت کی ہولناکیوں کی شاہراہ پر” کے عنوان سے اثر انگیز پروگرام پیش کیا۔ بعد ازاں “ہماری عدالت” کے عنوان سے مکالماتی پروگرام ہوا، جس میں ابراہیم مع رفقا نے سوال و جواب کی صورت میں گفتگو پیش کی۔
تقسیمِ اسناد کا مرحلہ آیا، جس میں اسٹیج پر جلوہ افروز علمائے کرام کے ہاتھوں طلبہ کو اسناد عطا کی گئیں۔ اس موقع پر سراج اکیڈمی کے تحت شائع ہونے والی حضرت مولانا احمد سراج صاحب کی تصانیف کا تعارف بھی کرایا گیا۔
بعد ازاں ملک کے مختلف خطوں سے تشریف لائے علمائے کرام نے اپنے قیمتی بیانات سے حاضرین کو مستفید فرمایا۔ حضرت مولانا عبدالعظیم صاحب مدنی، نائب ناظم جامعہ دارالسلام عمرآباد، نے “آج کے نفرتی ماحول میں ہمارا کردار” پر روشنی ڈالی۔ حضرت ڈاکٹر محمد عبدالخالق صاحب ندوی، خطیب مسجدِ معظم بی ٹی ایم لے آؤٹ بنگلور، نے “دینی و عصری علوم: ضرورت اور اہمیت” کے موضوع پر خطاب کیا۔ حضرت مولانا محمد احمد صاحب قاسمی، صدر جمعیت علماء ایودھیا فیض آباد اور رکنِ شوریٰ مدرسہ ہذا، نے “تعلیمِ قرآن اور معاشرتی اصلاح کی ضرورت” بیان کی۔ حضرت مولانا کاکا انیس احمد صاحب عمری، معتمدِ عمومی جامعہ دارالسلام عمرآباد، نے فارغ طلبہ کو ایسی نصیحتیں کیں جو سونے کی سیاہی سے لکھے جانے کے لائق ہیں۔
صدرِ جلسہ حضرت مولانا ابوبکر طیبی مظاہری نے “خیرِ امت اور برادرانِ وطن” کے عنوان سے صدارتی خطاب فرمایا۔ مفتی عبدالعزیز صاحب بیلگام نے مختصر مگر جامع انداز میں گفتگو کی اور مدرسے کے نظم و ضبط، بالخصوص وقت کی پابندی کو سراہتے ہوئے نہایت مفید باتیں بیان کیں۔
آخر میں مدرسے کے مہتمم حضرت مولانا احمد سراج صاحب قاسمی فیض آبادی نے اختتامی خطاب فرمایا۔ اگرچہ وہ کئی دنوں سے علیل تھے، اس کے باوجود مدرسے اور اس کے پروگرام کے لیے ان کی محنت اور درد مندی قابلِ دید تھی۔ ان کے پُراثر اور درد بھرے کلمات نے حاضرین کو رُلا دیا اور پروگرام کا اختتام دعا پر ہوا۔
Comments
Post a Comment