شاہین ادارہ جات بیدر کے زیر اہتمام عظیم الشان تقریبِ دستار بندی و خمار پوشی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کا فکر انگیز خطاب، حفظِ قرآن کے ساتھ عصری تعلیم کے حسین امتزاج کی روشن مثال۔
شاہین ادارہ جات بیدر کے زیر اہتمام عظیم الشان تقریبِ دستار بندی و خمار پوشی۔
ڈاکٹر عبدالقدیر کا فکر انگیز خطاب، حفظِ قرآن کے ساتھ عصری تعلیم کے حسین امتزاج کی روشن مثال۔
بیدر۔6/فروری (نامہ نگار)شاہین ادارہ جات بیدر کے زیر اہتمام شعبہ حفظ القرآن کے حفاظِ کرام طلبہ و طالبات کی پُروقار دستار بندی و خمار پوشی کی عظیم الشان تقریب عبدالرحمن ملٹی پرپس ہال، شاہین کیمپس شاہین نگر میں نہایت روح پرور اور ایمانی فضا میں منعقد ہوئی۔ اس بابرکت اجتماع کی صدارت چیئرمین شاہین ادارہ جات جناب ڈاکٹر عبدالقدیر نے فرمائی، جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے جناب ڈاکٹر امام ایم موسیٰ اعظم ابراہیمی (رکنِ تاسیسی مجلس دعوت الحق امریکہ و رکنِ تاسیسی انڈیانا ہوریزن اکیڈمی امریکہ) اور عارف خان (سابق معروف بالی ووڈ اداکار) نے شرکت کی۔ مہمانِ اعزازی کے طور پر حضرت مولانا تصدق حسین ندوی (صدر جمعیت العلماء ہند بیدر) اور حضرت مولانا عبدالغنی خان حسامی (صدر جمعیت العلماء ہند ضلع بیدر) کی معزز موجودگی نے تقریب کو مزید وقار بخشا۔ اس کے علاوہ شاہین ادارہ جات کے ذمہ داران میں مینجنگ ڈائریکٹر جناب عبدالحسیب، اکیڈمک ڈائریکٹر جناب عبدالمقیت،صدر معلمہ محترمہ مہر سلطانہ صاحبہ،ڈائریکٹر محترمہ زکیہ بیگم صاحبہ اورڈائریکٹر محترمہ شائستہ ناز صاحبہ سمیت دیگر ذمہ داران شریک رہے۔تقریب کا آغاز محمد فرقان متعلم شعبہ حفظ القرآن کی خوش االحان آواز میں تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد”قرآن فہمی کے علمی مظاہرے“کے عنوان سے طلبہ نے پورے 15 پاروں کا ترجمہ، اشارات اور پیغامات کے ساتھ پیش کرکے حاضرین کو علمی و روحانی مسرت سے سرشار کر دیا۔اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں ماہر تعلیم ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے حفاظِ کرام، طالبات، اساتذہ اور سرپرستوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مسرت کا اظہار کیا اور فرمایا کہ شاہین ادارہ جات نے دینی و عصری تعلیم کے حسین امتزاج کو اپنا نصب العین بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دین کی تعلیم صرف ایک اضافی سرگرمی نہیں بلکہ بچے کی بنیادی ضرورت اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اسی فکر کے تحت شاہین ادارہ جات میں LKG سے عربی قاعدہ کی تعلیم کا آغاز کیا جاتا ہے اور جماعت دوم میں مکمل 30 پاروں کی ناظرہ مع تجوید تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے بعد قابل طلبہ کو شعبہ حفظ القرآن میں داخلہ دیا جاتا ہے جہاں محض دو تا ڈھائی سال کے قلیل عرصے میں حفظِ قرآن کی تکمیل کرائی جاتی ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے ادارے کی نمایاں کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ابتداء سے اب تک شعبہ حفظ میں داخل ہونے والے طلبہ کی مجموعی تعداد 2017 ہے، جن میں سے 792 حفاظ کرام فارغ ہوچکے ہیں۔ حفظ مکمل کرنے کے بعد انجینئرنگ کے میدان میں جانے والے طلبہ کی تعداد 90 جبکہ میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ کی تعداد 78 ہے۔ موجودہ وقت میں شعبہ حفظ میں 417 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اسی طرح 89 عالمات فارغ ہوچکی ہیں جبکہ عالمہ بننے والی طالبات کی مجموعی تعداد 280 ہے۔ سال 2025 میں 63 حفاظ اور 27 عالمات یعنی مجموعی طور پر 90 طلبہ و طالبات نے اس اعزاز کو حاصل کیا، جن میں 20 جید حفاظ شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حفاظ کرام کے حوالے سے معاشرے میں پائے جانے والے بعض منفی تصورات کو بدلنے کے لیے شاہین ادارہ جات نے”اکیڈمک انٹینسیو کیئر (AICU)“پروگرام شروع کیا ہے جس کا مقصد حفاظ کو عصری تعلیم سے جوڑ کر انہیں آئی اے ایس، آئی پی ایس، ڈاکٹر اور انجینئر جیسے اعلیٰ مناصب تک پہنچانا ہے۔ الحمدللہ اس سمت میں ادارے کو خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر عبدالقدیر نے قرآن کریم کی عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو رنگ و نسل اور قوم و ملت کی ہر تفریق سے بالاتر ہو کر پوری انسانیت کے لیے ہدایت بنا کر نازل فرمایا ہے، جو قیامت تک ایک مکمل ضابطہ حیات رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حفظِ قرآن اللہ تعالیٰ کی خصوصی نعمت ہے جس کے ذریعے قرآن اہل ایمان کے سینوں میں محفوظ رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو ایسی ترتیب اور اسلوب میں نازل فرمایا ہے کہ اسے آسانی سے حفظ کیا جا سکے۔مہمانِ خصوصی ڈاکٹر امام ایم موسیٰ اعظم ابراہیمی نے اپنے خطاب میں قرآن مجید کی عظمت و رفعت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کو محض تلاوت تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے سمجھنے اور اس کے معارف و حقائق کو زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے حفاظ کرام کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی اور قرآن سے عملی وابستگی پر زور دیا۔تقریب کی نظامت مولانا محمد وسیم ندوی نے خوش اسلوبی سے انجام دی۔ اختتامِجلسہ پر طلبہ و طالبات کو تحائف اور اعزازات سے نوازا گیا۔ شعبہ حفظ القرآن کے انچارج حافظ مرزا عبدالمتین بیگ محمدی نے مہمانانِ کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کامیاب انتظامات پر مسرت کا اظہار کیا، جبکہ مولانا محمد ابراہیم صاحب کی پُراثر دعا کے ساتھ یہ بابرکت تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔
Comments
Post a Comment