تمل ناڈو میں بی اے اردو اور اردو بطور ثانوی زبان کی بحالی کا مطالبہ۔۔۔سرکاری کالجوں میں اردو اساتذہ کی فوری بھرتی کی یقین دہانی۔۔۔وزیرِ اعلیٰ تعلیم سے تامل ناڈو اسٹیٹ اردو اکادمی کی مؤثر نمائندگی۔۔

 
چنئی: پریس ریلیز:( ڈاکٹر نعیم الرحمن) تامل ناڈو میں اردو زبان کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کی سمت ایک نہایت اہم اور خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بتاریخ 4 فروری 2026 کو تامل ناڈو اسٹیٹ اردو اکادمی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر محمد نعیم الرحمن اور صدر شعبۂ اردو، نیو کالج، چنئی ڈاکٹر طیب خرادی نے حکومتِ تامل ناڈو کے معزز وزیرِ اعلیٰ تعلیم و چیئرمین، تامل ناڈو اسٹیٹ اردو اکادمی جناب تھیرو گووی چیژیان سے ملاقات کر کے ریاست میں بی اے (اردو) ڈگری کورس اور اردو کو بطور ثانوی زبان سرکاری آرٹس و سائنس کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دوبارہ متعارف کرانے کے سلسلے میں جامع اور بھرپور نمائندگی پیش کی۔
اس موقع پر ڈاکٹر محمد نعیم الرحمن نے وزیرِ موصوف کو ایک تفصیلی تحریری یادداشت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں ریاست کے تقریباً پندرہ سے زائد سرکاری کالجوں میں بی اے اردو کامیابی کے ساتھ جاری تھا اور ان اداروں میں طلبہ کی تعداد مکمل ہوا کرتی تھی، مگر اردو اساتذہ کی سبکدوشی کے بعد گزشتہ بارہ برسوں سے نئے تقررات نہ ہونے کے سبب یہ شعبے بتدریج غیر فعال ہو گئے۔
ڈاکٹر محمد نعیم الرحمن وائس چیئرمین تأمل ناڈو اسٹیٹ اردو اکادمی نے اس سنگین صورتحال کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ہر سال تیس سے چالیس ہزار اردو میڈیم طلبہ جو سرکاری اور امدادی اردو ہائر سیکنڈری اسکولوں سے بارہویں جماعت کامیاب کرتے ہیں، سرکاری کالجوں میں بی اے اردو کی عدم دستیابی کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں۔ کم فیس کے سبب یہ طلبہ سرکاری کالجوں کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اردو کورس نہ ہونے کی وجہ سے ان کا تعلیمی سفر وہیں رک جاتا ہے، جس کے طویل المدتی سماجی و معاشی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
نمائندگی کے دوران اس بات پر خصوصی اور دوٹوک زور دیا گیا کہ محض کورس کی بحالی کافی نہیں، بلکہ درج ذیل سرکاری آرٹس و سائنس کالجوں میں اردو کے اساتذہ (ریگولر یا کم از کم گیسٹ لیکچررز) کی فوری بھرتی ناگزیر ہے تاکہ بی اے اردو اور اردو بطور ثانوی زبان کو عملی طور پر نافذ کیا جا سکے۔
جن سرکاری کالجوں میں اردو اساتذہ کی تقرری کا مطالبہ کیا گیا، ان میں شامل ہیں:
گورنمنٹ پریزیڈنسی کالج، ٹرپلیکین؛ چنئی. قائد ملت گورنمنٹ کالج فار ویمن، چنئی؛ گورنمنٹ آرٹس اینڈ سائنس کالج، نندنم؛ بھارتی ویمنس کالج؛ کوئن میریس کالج، مائیلاپور؛ ڈاکٹر امبیڈکر گورنمنٹ آرٹس کالج، ویاسرپاڈی؛ متھورنگم گورنمنٹ آرٹس کالج، ویلور؛ گورنمنٹ تھرومگل ملز کالج، گڈیاتم؛ پوراچتھلائیور ڈاکٹر ایم جی آر گورنمنٹ آرٹس اینڈ سائنس کالج، مادھنور؛ گورنمنٹ آرٹس اینڈ سائنس کالج، تروپتور؛ کرشناگری کے سرکاری کالج برائے خواتین و مردان؛ گورنمنٹ آرٹس اینڈ سائنس کالج، ہوسور؛ ارنگر انا گورنمنٹ آرٹس کالج برائے خواتین، والاجاپیٹ؛ گورنمنٹ آرٹس اینڈ سائنس کالج، مناپرائی؛ گورنمنٹ آرٹس کالج، سالم؛ اور گورنمنٹ کالج آف آرٹس اینڈ سائنسز، اراکونم (رانی پیٹ) شامل ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ تعلیم جناب تھیرو گووی چیژیان نے وفد کی تمام گزارشات کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے واضح یقین دہانی کرائی کہ بی اے (اردو) ڈگری کورس، اردو بطور ثانوی زبان، اور اردو اساتذہ کی بھرتی سے متعلق تمام مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر جلد از جلد منظوری دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کمشنر آف کولیجیٹ ایجوکیشن اور متعلقہ حکام کو بروقت اور واضح ہدایات جاری کی جائیں گی تاکہ تعلیمی سال 2026-2027 سے اردو کی تدریس باقاعدہ طور پر شروع ہو سکے۔
اس موقع پر جناب شفیع الدین صاحب (آفس اسٹاف) اور محترمہ اوما بھی موجود تھیں۔
تعلیمی، ادبی اور سماجی حلقوں نے اس پیش رفت کا پرجوش خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ حکومتِ تامل ناڈو کے اس مثبت فیصلے سے اردو میڈیم طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے دوبارہ کھلیں گے، اور ریاست میں لسانی انصاف، تعلیمی شمولیت اور سماجی مساوات کو تقویت حاصل ہوگی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔