وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر : مولانا مفتی امتیاز احمد صاحب کا مکتب عبد الحی کے سالانہ اجلاس سے خطاب۔ (ڈاکٹر فضل اللہ انتر جامی)


وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر : 
مولانا مفتی امتیاز احمد صاحب کا مکتب عبد الحی کے سالانہ اجلاس سے خطاب۔
 (ڈاکٹر فضل اللہ انتر جامی)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں کچھ لوگ اللہ والے ہیں صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ کون لوگ ہیں اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ قران پڑھنے پڑھانے والے ہیں جو اللہ والے ہیں اور اللہ کے نزدیک خاص لوگ ہیں مفتی امتیاز صاحب قاسمی قاضی شہر امبور نےمکتب عبدالحیآذاد نگر آمبور کے سالانہ اجلاس سےخطاب کرتے ہوے اس حدیث کی روشنی میں فرمایا مکتب کے طلبا اساتذہ منتظمین والدین سب اس حدیث ک مصداق اللہ کے خاص بندے ہیں مولانا نے فرمایا کالج کے بچوں کو پڑھانا بہت اسان ہے مگر ان ننھے منے بچوں کی تعلیم و تربیت بہت محنت چاہتی ہے اپ نے معصوم بچوں کی تعلیمی قابلیت خصوصا بزبان تمل مکاتب کی اہمیت اور تجوید کی ضرورت پر ان کے پیش کیےگے مکالموں کو سراہا اور اساتذہ کی محنت کی تعریف فرمائی آپ نے فرمایا کہ بچوں نے تو ناظرہ قران مکمل کر لیا ہے مرد اور خواتین حضرات اپنا محاسبہ کریں کہ اپنی زندگی میں کلام پاک کو اںہوں نے کتنی بار پڑھا ہے اور اگر پڑھا بھی ہے تو کیا پڑھنے کا حق ادا بھی کیا ہے مولانا نےاس شعر کے حوالے سے فرمایا کہ مسلمانوں کی کامیابی کا راز قران سے وابستگی میں ہے
 وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
 اور تم خوار ہوئے تاریک قراں ہو کر
 اپ نے اس بات پر زور دیا کہ قران کو صرف پڑھنا کافی نہیں ہے 
 بلکہ تجوید کے ساتھ اچھی ادایگی سے پڑھنا ضروری ہے ورنہ نماز کے فاسد ہونے کا بھی احتمال رہتا ہےآپ نے فرمایا کہ فرمان نبی صلعم ہے کہ بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ ان کے قرآن غلط پڑھنے کی وجہ سے قرآن ان پرلعنت کرتاہےلہذا ہم عزم مصمم کریں کہ با برکت قرآن کی زیادہ سے زیادہ تلاوت صحیح طریقہ پر کریں گے اور قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اللہ کی خوشنودی حاصل کریں گے مولانانے حدیث کے حوالے سے فرمایا کہ وہ شخص جس کے دل میں قرآن مجید کا تھوڑا سا حصہ بھی نہیں وہ ایک ویران گھر کے مانند ہےآپ نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہر ایک سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا لہذا ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر کے افراد کے اخلاق کی نگہبانی کرتا رہے مولانا نے اس بات پر غم کا اظہار کیا کہ ہمارا نوجوان طبقہ نشے کی بری عادت میں ملوث ہے نیزہم شادی بیاہ میں بیکار رسم ورواج کے قائل ہیں نسبت سے لے کر ولیمہ تک مسلمان افرا تفری کا شکار ہیں اور بے جا رسومات میں اپنی سکت سے زیادہ خرچ کرتے ہوئے سود کی لعنت میں بھی ملوث ہوجاتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اگر ہم ان رسومات سے اعراض کریں تو ہماری زندگی اطمینان سکون کا گہوارہ بن سکتی ہے ان شاء اللہ 
حافظ محمد مدثر صاحب مدرس نے مہمانوں کا استقبال فرمایا دینی خدمات میں مستعد ناظم مدرسہ حضرت حافظ مولوی نیازصاحب معلم جامعہ اسلامیہ دارالعلوم اور امام و خطیب مسجد محمدی نےمکتب کی مفصل سالانہ رپورٹ پیش فرمائی اپ نے فرمایا کہ اس مکتب کی بنیاد27 اکتوبر 2007 کو اپ ہی کی دعا سے بفضلہ تعالی رکھی گی تھی جناب حضرت محمد مفتی صلاح الدین قاسمی صاحب کے ذریعہ مکتب کی نئی عمارت کا اغاز ہوا تھا اس مکتب میں ناظرہ قران کی تجوید کے ساتھ تنظیم المکاتب کے ضوابط کے مطابق بچوں کو تعلیم دی جاتی ہےآنجناب نے مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے فرمایا کہ اس مکتب میں نو درسگاہیں 9 اساتذہ کرام کی نگرانی میں صبح شام تعلیم فراہم کر رہی ہیں ہیں مکتب کے طلباء کی تعداد میں روز افزوں ترقی ہو رہی ہے آپ نے بڑے دلسوز انداز میں مکتب کی کامیابی کو اساتذہ کی پر خلوص محنت کا نتیجہ بتایا اور تمام معاونین کا شکریہ بھی ادا کیا.
جناب پیش امام ساجد احمد کی صدارت میں منعقدہ اس جلسہ میں جںاب حسین احمد صاحب متولی اور جناب محمد علی صاحب نائب متولی سمیت اہلییان محلہ و عمائدین شہر کی ایک کثیر تعداد شریک جلسہ رہی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔