تاریخ کے جھروکوں سے۔۔ بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری۔استاد جامعہ اکلکواں۔
تاریخ کے جھروکوں سے۔۔
بقلم : محمد ناظم ملی تونڈاپوری۔
استاد جامعہ اکلکواں۔
اسلام نے اپنی پوری تعلیمات میں تعلیم و تربیت کو اول درجہ دیا ہے قرون اولی میں اسی تعلیم و تربیت کے تحت مسلمانوں نے نہ صرف لڑکوں کی تعلیم و تربیت پہ توجہ دی بلکہ صنف نازک یعنی عورتوں کی تعلیم و تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینے کا حکم فرمایا ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عہد نبوی ہی سے ہمیں ایک طرف سیدہ عائشہ سیدہ حفصہ سیدہ فاطمہ سیدہ زینب رقیہ اور دیگر خواتین اسلام مردوں کے بالمقابل علوم اسلامیہ اور دیگر فنون میں ان زندہ دل خواتین نے ایسے ایسے کارنامے انجام دیے جو تاریخ کا ایک روشن باب ہے
انہی شیر دل خواتین میں ایک خاتون چاند بی بی عرف چاند سلطانہ نظر اتی ہے یہ شیر دل خاتون حسین نظام شاہ والی احمد نگر دکن کی لخت جگر تھی جن کی والدہ کا نام خونزہ ہمایوں تھا والدین نے اس کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی اور نہایت لائق فائق اور قابل استادوں کو اس کی تعلیم پر مامور کیا اور جس نے بہت جلد مروجہ علوم و فنون میں مہارت حاصل کر لی خود بادشاہ چاند بی بی کو سپہ گری شہ سواری شمشیر زنی اور نیزہ بازی کی تعلیم دیا کرتا تھا اور ملک کے نظم و نسق سے متعلق اور سلطنت کے قوانین و ضوابط کی تعلیم دیتا تھا جب وہ شباب کو پہنچی تو اس کے اوصاف حمیدہ کی شہرت بھی دور دور تک پہنچ چکی تھی اس کی صلاحیت اور علوم و فنون اور اس میں لیاقت و مہارت کا حال بیجاپور کے حکمران عادل شاہ تک بھی پہنچی تو اس نے حسین نظام شاہ کی طرف چاند بی بی کا ہاتھ مانگنے کے لیے اپنے قاصد کو روانہ کیا چنانچہ حسین نظام شاہ نے اس کو قبول کرتے ہوئے چاند سلطانہ کی شادی علی عادل شاہ سے کرا دی بیجاپور یعنی اپنی سسرال میں پہنچ کر چاند بی بی نے اپنی سلیقہ مندی حسن لیاقت شرافت اور اپنی صلاحیت سے تمام سسرالی رشتوں کے لوگوں کی دلوں پر ایک اچھا اثر چھوڑا ساتھ ہی اپنی حکمرانی میں رعایا اور ما تحت لوگوں سے ایسا حسن سلوک اور اچھا برتاؤ کیا کہ لوگ اس کے فریفتہ ہو گئے اور اسی کے گن گانے لگے وہ بڑی ہوشیار سلیقہ شعار اور بہادر عورت تھی ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ اس کے شوہر نامدار کے خلاف درباریوں نے بغاوت کی اور اس کی خبر اس کے شوہر علی عادل شاہ کو ہوئی تو وہ انتہائی مغموم اور غمزدہ ہوا وہ خاموش خاموش رہنے لگا جب اس کی اس حالت زار کا چاند بی بی نے اچھی طرح مطالعہ کر لیا تو پھر وہ اپنے شوہر سے مخاطب ہو کر کہنے لگی کہ سردار ذرا اشارہ تو فرمائیں کہ اپ کیوں مغموم اور پریشان ہو اور بہت اصرار سے دریافت کیا تو شوہر نے کہا کہ مجھے قتل کر دے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں میرے قتل کی سازشیں ہو رہی ہے اس صورتحال کی سماعت کے بعد چاند سلطانہ نے شوہر سے کہا کہ میرے جیتے جی اپ کو کوئی غزن نہیں پہنچ سکتا اج سے میں اپ کی حفاظت کا ذمہ لیتی ہوں اپ اطمینان سے ارام کیجیے اور اس دن سے اس نے اپنے وعدے کو ایسے وفا کیا کہ خود جاگتی شاہی خوابگاہ کی نگہبانی کرتی ایک روز رات کو ایسا ہوا کہ کسی کے بالا خانے پر کودنے کی اواز ائی اس نے بجائے کسی کو بلانے جگانے کہ خود ہی برہنہ تلوار ہاتھ میں لے کر تن تنہا قاتلوں کے سامنے ا ٹھہری پینترے بدل بدل کر ایسی شمشیر زنی کے ہنر دکھلائے کہ قاتل وہیں ڈھیر ہو گیا اور دوسرے جو تھے وہ بھاگ نکلے اس کا شور سن کر عادل شاہ بھی بیدار ہو گیا اور ملکہ کی اس بہادری کو دیکھ کر اس نے ملکہ کی تلوار چوم لی اور بولا چاند بیگم اگر تمام دنیا بھی میری دشمن ہو جائے تم تیرے ہوتے ہوئے مجھے کوئی ڈر نہیں
ایک مرتبہ وہ پالکی میں سوار میکے احمد نگر سے سسرال بیجاپور ا رہی تھی چند مسلح سپاہی بھی ساتھ تھے درمیان راہ ایک ویران مقام پر ڈاکوؤں کے ایک بڑے جتھے نے اس چھوٹے سے قافلے پر حملہ کر دیا محافظ سپاہیوں نے جی توڑ کر ان کا مقابلہ کیا لیکن نقصان اٹھایا ملکہ چاند بی بی اس منظر نامے کو دیکھ کر بجائے خوفزدہ ہونے کے وہ خود ہاتھ میں تلوار سونت کر پالکی سے اتر پڑی اور ڈاکوؤں کو ایسی ضرب کاری لگائی اور اس بہادری اور شجاعت سے مقابلہ کیا کہ ڈاکوؤں سے کچھ موت کے گھاٹ اتر گئے اور کچھ بھاگ نکلے کہتے ہیں ٩٨٧ ہجری مطابق 1580 عیسوی میں علی عادل شاہ کی وفات پر اس کا نابالغ بھتیجا ابراہیم عادل شاہ اس کا جانشین ہوا اور ملکہ چاند سلطانہ شوہر کی وصیت کے مطابق اس کی سرپرست مقرر ہوئی اور اس نے صاحبزادے کی انتہائی بہادرانہ دانشمندانہ تربیت فرمائی اور اپنے اس فرض کو بحسن و خوبی انجام دیا
Comments
Post a Comment