مصنوعی ذہانت اور مودی حکومت: ٹیکنالوجی کا خوف یا تنقید کا ڈر؟۔۔۔بھارت کے نئے ڈیجیٹل قواعد: تین گھنٹے کی مہلت اور سنسرشپ کے سائے۔۔ازقلم : اسماء جبین فلک۔۔

مصنوعی ذہانت اور مودی حکومت: ٹیکنالوجی کا خوف یا تنقید کا ڈر؟۔۔۔
بھارت کے نئے ڈیجیٹل قواعد: تین گھنٹے کی مہلت اور سنسرشپ کے سائے۔۔
ازقلم : اسماء جبین فلک۔۔

نئی صدی کے آغاز میں جب سے مصنوعی ذہانت نے روزمرہ زندگی، معیشت، صحافت اور سیاست کے ہر گوشے میں قدم رکھا ہے، تب سے یہ محض ایک تکنیکی ایجاد نہیں رہی بلکہ طاقت، کنٹرول اور آزادیِ اظہار کے درمیان کشمکش کا مرکزی میدان بن چکی ہے۔ فروری 2026 میں بھارت میں جو نئے قواعد متعارف کیے گئے ہیں، جن کے تحت مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ غیر قانونی یا قابلِ اعتراض مواد کو صرف تین گھنٹے کے اندر اندر ہٹانا لازم قرار دیا گیا ہے، وہ اسی کشمکش کا تازہ اور نہایت معنی خیز اظہار ہیں۔ ان قواعد کے ذریعے حکومت نے پہلی بار مصنوعی طور پر تیار کردہ معلومات کی باقاعدہ قانونی تعریف متعین کی، اور یہ طے کیا کہ جو آڈیو، ویڈیو یا بصری مواد کسی الگورتھم یا مصنوعی ذہانت کے آلے کے ذریعے اس انداز سے تیار یا ترمیم کیا گیا ہو کہ عام ناظر کے لیے اصلی اور جعلی میں فرق کرنا مشکل ہو جائے، وہ خاص نگرانی اور نشانی لگانے کے دائرے میں آئے گا۔ اسی کے ساتھ ایک نہایت سخت مہلت مقرر کی گئی کہ اگر عدالت یا مجاز سرکاری اتھارٹی کسی ایسے مواد کو غیر قانونی قرار دے تو آن لائن پلیٹ فارم اسے تین گھنٹے کے اندر اندر ہٹا دیں، اور بالخصوص غیر رضامندی پر مبنی عریاں ڈیپ فیک جیسے حساس معاملات میں یہ مہلت دو گھنٹے سے بھی کم کر دی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی قانون سازی نے یہ بنیادی سوال از سرِ نو زندہ کر دیا ہے کہ آیا مودی حکومت واقعی صرف ڈیپ فیک اور جعل سازی سے نمٹنا چاہتی ہے، یا وہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ابھرنے والی نئی تنقید اور سیاسی احتساب سے خوف زدہ ہو کر ڈیجیٹل فضا کو مزید قابو میں لانا چاہتی ہے۔
اگر ان قواعد کی تفصیلات کو علمی اور تحقیقی نظر سے دیکھا جائے تو سب سے پہلے مصنوعی طور پر تیار کردہ معلومات کی تعریف سامنے آتی ہے، جس کے تحت ہر وہ آڈیو، بصری یا سمعی و بصری مواد شامل ہے جو کمپیوٹر الگورتھم یا مصنوعی ذہانت سے اس طور پر بنایا یا بدلا گیا ہو کہ وہ حقیقت کا گمان پیدا کرے۔ معمولی تدوین، رنگوں کی درستی، شور کم کرنا، ترجمہ یا تعلیمی مقاصد کے لیے تصوراتی مثالیں اس تعریف سے مستثنیٰ رکھی گئی ہیں تاکہ عام تخلیقی اور تدریسی سرگرمیوں کو فوراً جرم کے دائرے میں نہ لے آیا جائے۔ ساتھ ہی نشانی لگانے کو مرکزی ستون بنایا گیا ہے: بصری مواد میں کم از کم دس فیصد اسکرین پر واضح الفاظ میں ظاہر ہونا چاہیے کہ یہ مواد مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ہے، اور آڈیو کے معاملے میں کم از کم دس فیصد دورانیہ اس اطلاع کے لیے مختص ہو گا، نیز اس کے ساتھ ایسی ڈیجیٹل شناخت وابستہ ہو گی جسے بعد میں بدلا یا مٹایا نہ جا سکے۔ اس کا مقصد بظاہر یہ بتایا جا رہا ہے کہ صارف فوراً سمجھ جائے کہ سامنے آنے والا مواد حقیقت نہیں بلکہ مصنوعی تخلیق ہے، اور اس پر جذباتی یا سیاسی ردِ عمل دینے سے پہلے وہ اس تنبیہ کو ذہن میں رکھے۔
دوسرا اہم ستون وقت کی پابندی ہے جس کے تحت پہلے جہاں غیر قانونی آن لائن مواد ہٹانے کے لیے چوبیس سے چھتیس گھنٹے کی مہلت دی جاتی تھی، وہاں اب کچھ زمروں کے لیے یہ حد گھٹا کر دو سے تین گھنٹے کر دی گئی ہے۔ نئے فریم ورک کے مطابق اگر کسی عدالت یا مجاز سرکاری اتھارٹی نے کسی مصنوعی ذہانت کی تخلیق کردہ مواد کو جھوٹا، جعل ساز، غیر اخلاقی، یا کسی فوجداری قانون مثلاً نئی فوجداری ضابطہ، بچوں کے تحفظ کے قوانین یا دھماکہ خیز مادوں سے متعلق قانون کے برخلاف قرار دے دیا، تو پلیٹ فارم کو نہایت قلیل وقت میں اسے ہٹانا ہو گا، ورنہ وہ اپنے اُس قانونی تحفظ سے محروم ہو سکتے ہیں جس کے تحت عام طور پر انہیں صارفین کے مواد پر براہِ راست ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا۔ دوسرے لفظوں میں، اب تاخیر کی قیمت صرف جرمانہ نہیں بلکہ اس محفوظ پناہ گاہ کے خاتمے کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے، جو کسی بھی ڈیجیٹل ماحول میں آزاد مباحثے کا ایک بنیادی حفاظتی نظام سمجھا جاتا ہے۔
حکومت کی جانب سے اس سختی کے حق میں سب سے نمایاں دلیل ڈیپ فیک، جعلی آڈیو اور بصری فریب کاری کی تیزی سے بڑھتی ہوئی لہر ہے۔ حالیہ برسوں میں معروف شخصیات، فن کاروں اور سیاست دانوں کی ایسی جعلی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں انہیں ایسے مناظر یا بیانات سے جوڑا گیا جو انہوں نے کبھی نہیں کیے، اور اس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی شخصیت مجروح ہوئی بلکہ بعض صورتوں میں انہیں مالی بلیک میلنگ اور سماجی رسوائی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ آن لائن فراڈ کے ایسے واقعات بھی ریکارڈ پر ہیں جن میں خواتین کے ڈیپ فیک بنا کر ان کے اہلِ خانہ کو بلیک میل کیا گیا، یہاں تک کہ بعض کیسوں میں ذہنی صدمے سے اموات تک ہوئیں۔ انتخابی مہمات کے دوران اشتعال انگیز تقاریر کی جعلی آڈیو وڈیو کلپس، مذہبی یا نسلی منافرت کو ہوا دینے کے لیے گڑھی گئی تصویریں، اور بچوں سے متعلق جنسی استحصال کے لیے مصنوعی ذہانت سے بنی تصاویر وہ حقیقی خطرات ہیں جنہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ یہ سارا پس منظر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی نہ کسی درجے کی قانون سازی ناگزیر تھی، اور اس پہلو کو سرے سے جھٹلانا خود ایک غیر علمی رویہ ہوتا۔
تاہم سوال یہ نہیں کہ کیا کسی ضابطے کی ضرورت ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ جو فریم ورک اختیار کیا گیا ہے وہ آئینی اصولوں، اظہارِ رائے کی آزادی، اور بنیادی حقوق کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ ہے۔ یہاں پر سب سے زیادہ تنقید اس تین گھنٹے کی مہلت پر ہو رہی ہے جسے بہت سے ماہرین دنیا کی کسی بھی جمہوری ریاست میں سب سے سخت اور کم ترین ڈیڈ لائن قرار دے رہے ہیں۔ ڈیجیٹل حقوق کے کارکنان اور پالیسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قلیل مدت میں نہ تو کسی مواد کی قانونی حیثیت کی سنجیدہ چھان بین ممکن ہے، نہ اس بات کی جانچ کہ حکم دینے والی اتھارٹی نے واقعی آئینی معیارِ ضرورت اور تناسب کا لحاظ رکھا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پلیٹ فارمز کے لیے محفوظ ترین راستہ یہی رہ جاتا ہے کہ وہ کسی بھی نوٹس پر سنجیدہ قانونی غور و خوض کے بجائے پیش بندی کے طور پر مواد فوراً ہٹا دیں، تاکہ محفوظ پناہ گاہ کے خاتمے اور ممکنہ قانونی چارہ جوئی کے خطرے سے بچا جا سکے۔ یہی صورتِ حال اس وسیع پیمانے پر ضرورت سے زیادہ مواد ہٹانے اور خود پر سنسرشپ عائد کرنے کے خدشات کو جنم دے رہی ہے جسے ناقدین بنیادی جمہوری ڈھانچے کے لیے مہلک قرار دے رہے ہیں۔
ایک اور تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ نئے قواعد کے تحت صرف بعد از اشاعت مواد ہٹانے کی بات نہیں، بلکہ مواد اپ لوڈ ہونے سے پہلے ہی اسے اسکین، جانچا اور نشانی لگانے کی ذمہ داری بھی نجی پلیٹ فارمز پر ڈال دی گئی ہے۔ صارفین سے یہ تقاضا کہ وہ ہر دفعہ واضح طور پر بتائیں کہ آیا وہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد شیئر کر رہے ہیں یا نہیں، اور اس کے بعد پلیٹ فارمز کا قانوناً اس بات کے لیے ذمہ دار ہونا کہ وہ صرف صارف کے اعلان پر تکیہ نہ کریں بلکہ خود کار آلات سے اس کی تصدیق بھی کریں، دراصل اظہارِ رائے پر پیشگی روک کے مترادف بنتا جا رہا ہے۔ آئینی قانون کے ماہرین نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جب کسی تقریر یا اظہار کو عوام تک پہنچانے سے پہلے ہی ایک نجی ادارہ وہ بھی ریاستی دباؤ کے زیر اثر اس بات کا نگران بن جائے کہ یہ اظہار کس خانہ میں درست بیٹھتا ہے، تو اس سے خوف، خود سنسرشپ اور شفافیت کی شدید کمی پیدا ہوتی ہے، جو جمہوری بحث کے حق میں نہیں جا سکتی۔ اس تناظر میں کلاسیکی عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے جن میں عدالت عظمیٰ نے آن لائن تقاریر سے نمٹنے میں ضرورت، تناسب اور واضح قانونی معیار کی اہمیت پر زور دیا تھا، اور مبہم یا حد سے زیادہ وسیع اختیارات کو مسترد کیا تھا۔
ان قواعد کو محض تکنیکی ضابطہ سمجھ کر الگ نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ یہ براہِ راست اس سیاسی ماحول سے جڑے ہوئے ہیں جس میں اختلافِ رائے اور حکومت پر تنقید کو اکثر ملک دشمنی، غیر ذمہ دارانہ یا جھوٹی خبر کے خانوں میں رکھا جاتا ہے۔ قابلِ اعتراض، گمراہ کن یا توہین آمیز جیسے الفاظ اپنی جگہ پر مبہم ہیں، اور جب انہی کے حوالے سے کسی سرکاری افسر کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ چند گھنٹوں کے اندر اندر کسی ویڈیو، کارٹون، طنزیہ فن پارے یا تحقیقی تجزیے کو ہٹانے کا حکم دے سکتا ہے، تو اس کا سب سے زیادہ اثر سیاسی تنقید اور طنز پر ہی پڑنے کا امکان ہے۔ مزید یہ کہ پہلے سے موجود آن لائن شکایات کے پورٹل اور انتظامی چینلز کے ذریعے مختلف درجے کے افسران کو انٹرنیٹ لنک بلاک کرنے کا جو اختیار پہلے چھتیس گھنٹوں کی مہلت کے ساتھ دیا گیا تھا، اب اسی ڈھانچے پر نئی وقتی سختی سوار ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں فوری سنسر شپ کا خدشہ اور بڑھ جاتا ہے۔ اس فضا میں نجی کمپنیاں عموماً حکومت سے الجھنے کے بجائے زیادہ حفاظت کے رویے کو ترجیح دیتی ہیں، اور یوں تنقیدی یا غیر روایتی گفتگو سب سے پہلے قربان گاہ پر چڑھتی ہے، جو اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ مودی حکومت مصنوعی ذہانت کے ہاتھوں ابھرنے والی سیاسی جواب دہی سے خائف ہے۔
مصنوعی ذہانت کی وہ جہت جس نے شاید حکمران طبقے کو سب سے زیادہ بے چین کیا ہے، وہ اس کی محض جعلی سازی نہیں بلکہ الگورتھمک احتساب کی صلاحیت ہے۔ آج مصنوعی ذہانت کے آلات کسی بھی سیاست دان کی گزشتہ تقاریر، انتخابی وعدوں، اقتصادی اعداد و شمار اور حالیہ فیصلوں کو چند لمحوں میں جوڑ کر ایسے بصری یا بیانیہ خاکے بنا سکتے ہیں جو رسمی صحافتی رپورٹ سے زیادہ مؤثر انداز میں تضادات، اپنے موقف سے پھرنے اور غلط بیانی کو بے نقاب کر دیں۔ اس کے ساتھ ہی طنزیہ اسکیچ، پیروڈی اور ڈیجیٹل کارٹون اس قدر حقیقت سے قریب ہو سکتے ہیں کہ وہ روایتی پروپیگنڈا مشینری کا توڑ ثابت ہوں۔ ایسے میں جب ریاست خود انہی ٹیکنالوجیز کا سہارا لے کر اپنی مثبت شبیہ بنانے کی کوشش کرتی ہے، مگر عوامی سطح پر انہیں آزادانہ استعمال کرنے سے خوف زدہ رہتی ہے، تو اس سے یہ تاثر پیدا ہونا ناگزیر ہے کہ اصل خوف خود ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ اس سیاسی بیداری سے ہے جو یہ ٹیکنالوجی پیدا کر سکتی ہے۔ تین گھنٹے کی آخری حد، لازمی نشانی لگانا اور سخت فوجداری سزاؤں کا مجموعہ دراصل اسی خوف کو قانونی لبادہ پہنانے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔
بین الاقوامی سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو متعدد ممالک ڈیجیٹل خدمات اور مصنوعی ذہانت کے لیے قواعد وضع کر رہے ہیں، جن میں نشانی لگانا، واٹر مارکنگ اور شفافیت کی شرائط عام ہیں، لیکن اتنی کم مہلت اور اتنی وسیع اختیارات شاذ ہی نظر آتے ہیں۔ یورپی ضابطہ برائے ڈیجیٹل خدمات اور یورپی مصنوعی ذہانت کے قانون میں بھی مصنوعی مواد کی شناخت اور صارفین کو آگاہ کرنے پر زور دیا گیا ہے، مگر وہاں عمومی طور پر جائزے، اپیل اور عدالتی نگرانی کی نسبتاً مفصل راہیں موجود ہیں، اور پلیٹ فارمز کو اس حد تک وقتی دباؤ میں نہیں رکھا جاتا کہ وہ خاطر خواہ انسانی جانچ کے بغیر محض خود کار نظاموں کے بل پر فیصلے کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ اس کے برعکس بھارت کے نئے قواعد میں وقتی سختی کے ساتھ ساتھ عمل درآمد کا بڑا حصہ نجی اداروں کے سپرد کر دیا گیا ہے، جس سے آئینی ذمہ داری اور نجی مفادات کے مابین لکیر مزید دھندلی ہو جاتی ہے۔
ان تمام دلائل اور شواہد کو سامنے رکھ کر اگر عنوان میں اٹھائے گئے سوال کہ مودی حکومت مصنوعی ذہانت سے کیوں خوف زدہ ہے، اور کیا وہ تنقید سے گھبرا گئی ہے کو علمی انداز میں پرکھا جائے تو تصویر کچھ اس طرح بنتی ہے کہ ایک طرف حقیقی خطرات ہیں: ڈیپ فیک، مالی فراڈ، بچوں کے استحصال اور انتخابی عمل میں مداخلت جیسے مسائل، جن سے نمٹنے کے لیے ضابطہ بندی ناگزیر ہے۔ لیکن دوسری طرف جو جواب منتخب کیا گیا ہے، وہ آئینی اصولِ تناسب سے متجاوز، عملی طور پر مشکلات سے بھرپور، اور آزادیِ اظہار پر گہرے ٹھنڈے خوف کا باعث بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر قوانین کی تعبیر و تنفیذ میں شفافیت، عدالتی نگرانی، واضح تعریفات، سیاسی اظہار اور طنز کے لیے مخصوص حفاظتی حصار، اور پلیٹ فارمز و صارفین دونوں کے لیے مؤثر اپیل کا طریقہ کار شامل نہ کیے گئے، تو یہ قواعد رفتہ رفتہ ایک ایسے ہتھیار میں تبدیل ہو سکتے ہیں جو بظاہر ڈیپ فیک کے خلاف مگر در حقیقت اختلافِ رائے کے خلاف استعمال ہو۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے یہ خدشہ مضبوط ہوتا ہے کہ حکومت کا خوف صرف مصنوعی ذہانت سے نہیں بلکہ اس زندہ، تنقیدی اور باخبر عوامی شعور سے ہے جسے یہ ٹیکنالوجی تقویت بخش رہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔