موبائل کے حصار میں قید زندگی۔۔ تحریر: پٹھان شریف خان، پرتور، ضلع جالنہ، مہاراشٹر۔


موبائل کے حصار میں قید زندگی۔
تحریر: پٹھان شریف خان، پرتور، ضلع جالنہ، مہاراشٹر۔
9422409471@

دہلی سے متصل غازی آباد میں منگل کی دیر رات پیش آنے والا سانحہ محض ایک افسوسناک خبر نہیں بلکہ ہمارے عہد کی ایک ہولناک علامت ہے۔ تین معصوم بہنوں کا نویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لینا کسی ایک گھر کا المیہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تینوں بہنیں گزشتہ کچھ مہینوں سے آن لائن گیمز کی عادی ہو چکی تھیں، خصوصاً آن لائن ٹاسک پر مبنی گیم “کورین لوڈو” ان کی زندگی کا محور بن چکا تھا۔ جب والد نے موبائل چھین لیا تو یہ نفسیاتی لت اس قدر شدت اختیار کر چکی تھی کہ ان کم سن ذہنوں نے موت کو زندگی پر ترجیح دے دی۔ ان کی عمریں محض 16، 14 اور 12 سال تھیں۔
یہ سانحہ کوئی ایک حادثہ نہیں، بلکہ ڈیجیٹل عہد کے لیے ایک لرزہ خیز لمحۂ فکریہ ہے۔ یہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں: ہم اپنی نئی نسل کو کس سمت لے جا رہے ہیں؟ اور کس خاموش تباہی کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے پروان چڑھا رہے ہیں؟
آج نشے کی تعریف بدل چکی ہے۔ اب نشہ صرف ہیروئن، چرس، گانجہ، افیون، کیمیکل ڈرگز یا شراب کا نام نہیں رہا۔ آج کا سب سے خطرناک نشہ جیب میں رکھا ہوا وہ چھوٹا سا آلہ ہے جسے ہم بڑے پیار سے  “موبائل” کہتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ منشیات کی لت  انسان کو اندھیری گلیوں میں لے جاتی ہیں'، اور موبائل کا نشہ انسان کو روشن اسکرین کے سامنے بٹھا کر اندر سے خالی کر دیتا ہے۔
موبائل فون اب ضرورت نہیں رہا بلکہ مجبوری بنتا جا رہا ہے۔ بچے ہوں یا بوڑھے، طلبہ ہوں یا اساتذہ، مرد ہوں یا عورت ہر فرد کسی نہ کسی صورت میں موبائل کے حصار میں قید ہو چکا ہے۔ عبادت کے لمحات ہوں یا خاندانی نشستیں، تعلیمی ماحول ہو یا دوستوں کی محفل ہر جگہ انگلیاں اسکرین پر اور نظریں موبائل میں جمی ہوئی ہیں۔ انسان جسمانی طور پر محفل میں موجود ہوتا ہے، مگر ذہنی طور پر کہیں اور بھٹک رہا ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کا دل اب مسجد میں بھی موبائل کے بغیر نہیں لگتا، عبادت کے  چند لمحوں بعد بے چینی دوبارہ سر اٹھا لیتی ہے۔
سفر کے مناظر بدل چکے ہیں۔ کبھی سفر گفتگو، قہقہوں، نئی پہچانوں اور رشتوں کی خوشبو سے معطر ہوتا تھا؛ آج سفر بھی ہے، لوگ بھی ہیں، محفل بھی ہے مگر گفتگو نہیں۔ ہر شخص اپنے موبائل میں محو ہے۔ سوشل میڈیا، انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب اور شارٹ ویڈیوز (ریلز) نے محفلوں کی روح چھین لی ہے۔ جسم ساتھ بیٹھے ہیں، مگر ذہن ایک دوسرے سے کوسوں دور ہو چکے ہیں۔سوشل میڈیا کے ایک پوسٹ پر جو خوشی مل رہی ہے ماہرینِ نفسیات اس رجحان کو “ڈیجیٹل کوکین” کا نام دیتے ہیں۔ جب انسان کو اسکرین سے لائک، کمنٹ اور نوٹیفکیشن کی صورت میں فوری خوشی ملتی ہے تو دماغ ڈوپامین خارج کرتا ہے، اور یہی کیمیکل انسان کو عادت کا اسیر بنا دیتا ہے۔ چونکہ یہ خوشی محنت کے بغیر ملتی ہے، اس لیے دماغ جلد اس کا غلام ہو جاتا ہے۔ پھر وہی دماغ کتاب، عبادت، گفتگو، فطرت اور خاموشی میں وہ لطف محسوس نہیں کر پاتا جو ایک اسکرین سے ملتا ہے۔
یوں انسان آہستہ آہستہ زندگی سے اکتا جاتا ہے، مگر اسے اپنی بے دلی کی اصل وجہ سمجھ نہیں آتی۔ وہ کہتا ہے: “دل نہیں لگ رہا”، حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اس کا ذہن اسکرین کے نشے کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔ توجہ کی صلاحیت ختم ہو رہی ہے، سننے کی قوت مر رہی ہے، اور خاموشی ناقابلِ برداشت بنتی جا رہی ہے۔ اگر یہ نشہ نہیں تو اور کیا ہے؟
یہ نشہ خاموش زہر ہے، (slow poisonous )  مہذب ہے اور بظاہر بے ضرر لگتا ہے، مگر اندر سے نسلوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ آنکھوں کی کمزوری، نیند کی کمی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، نفسیاتی امراض، خودکشی کے رجحانات، رشتوں میں بگاڑ، گھریلو تنازعات، سماجی اشتعال انگیزی، اخلاقی گراوٹ (فحاشی) اور عدم برداشت یہ سب اسی ڈیجیٹل نشے کے مہلک ثمرات ہیں جو خاموشی سے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
خاص طور پر بچے اور نوجوان اس کا سب سے بڑا شکار ہیں۔ ابتدا میں بچوں کو بہلانے کے لیے موبائل تھما دیا جاتا ہے، پھر یہی سہولت ایسی عادت میں بدل جاتی ہے کہ موبائل چھڑانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ آن لائن گیمز نفسیاتی لت بن چکے ہیں، اور یہی لت کبھی کبھی ایسے المناک سانحات کو جنم دیتے ہے جو پورے سماج کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔یہ حقیقت اب ناقابلِ انکار ہے کہ موبائل محض ایک آلہ نہیں رہا بلکہ ایک نفسیاتی نشہ بن چکا ہے۔ یہ ایسا نشہ ہے جو ہاتھ میں ہوتا ہے مگر شعور کو قید کر لیتا ہے؛ آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے مگر عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔
یہاں یہ سوال ذہین میں آتا ہے کہ  اس نشہ پر قابو پایا جا سکتا ہے ؟ جواب ہے ہاں قابو پایا جاسکتاہے مگر یہ آسان نہیں۔ جب تک اس لت پر قابو پانے کیلئے سنجیدگی ضروری ہے ۔ یہ نشہ کسی قانون، کسی حکم نامے یا کسی وقتی پابندی سے ختم نہیں ہوگا۔ یہ شعور سے ٹوٹے گا، تربیت سے بدلے گا اور کردار سازی سے ختم ہوگا۔ حکومت صرف منشیات کی روک تھام تک محدود نہ رہے بلکہ “ڈیجیٹل نشہ مکتی مراکز” کے قیام پر بھی سنجیدگی سے غور کرے۔ ایسے تربیتی ادارے قائم کیے جائیں جہاں بچوں، نوجوانوں اور والدین کو موبائل کے درست استعمال، ڈیجیٹل شعور، اسکرین ڈسپلن اور متوازن ڈیجیٹل زندگی کی عملی تربیت دی جائے۔
گھر کا ماحول، والدین کی نگرانی، اساتذہ کی فکری رہنمائی، تعلیمی اداروں کی ذمہ داری اور سماج کی اجتماعی فکریہ سب مل کر ہی اس خاموش وبا کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہمیں سوشل میڈیا کو چھوڑنا نہیں ہے  بلکہ اسے اس کی حد میں رکھنا ہے۔ ٹیکنالوجی کو سہولت بنانا ہے، موبائل کے ہم غلام نہ بنیں۔۔۔ کبھی کبھی فون بند کر کے خود سے ملنا ہوگا ۔۔۔، خاموشی کو دوبارہ دوست بنانا ہوگا، اور حقیقی گفتگو، حقیقی رشتے اور حقیقی زندگی کو واپس لانا ہوگا۔اگر آج ہم نے اپنی انگلی کو اسکرین سے ہٹانا نہ سیکھا، تو کل یہ اسکرین ہماری سوچ، ہماری نیند، ہمارے رشتے اور ہماری روح سب کچھ ہم سے چھین لے گی۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔