سرحدی گاندھی سر زمین ہند کے عظیم مجاہد آزادی : سید جلا ل الدین۔
سرحدی گاندھی سر زمین ہند کے عظیم مجاہد آزادی : سید جلا ل الدین۔
نئ دہلی ( رپورٹ : ٹی این بھارتی ) بھارت رتن خان عبدالغفار خان ( بادشاہ خان ) کا شمار مجاہدین آزادی کی تحریک میں صفحہ اول پر درج ہے ۔ اس سلسلہ میں بادشاہ خان کے یوم پیدائش کے موقع پر انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر میں سرحدی گاندھی میمو ریل سو سائٹی(ایس جی ایم ایس ) کی جانب سے آئیڈیا آف انڈیا عنوان کے تحت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
ایس جی ایم ایس کے روح رواں ایڈووکیٹ سید جلال الدین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سر حدی گاندھی نے ہندو مسلم اتحاد کی حمایت میں تقسیم ہند کی مخالفت کی اور پاکستان کے خلاف مورچہ سنبھال کر آزاد ی کا پرچم لہرا دیا ۔ بادشاہ خان نے پٹھان طبقہ کے لئے سر زمین ہند کو بہتر قیام گاہ بتایا بذات خود بادشاہ خان نے ہندوستان کو ہی اپنا گہوارہ بنایا ۔
معروف سائنس داں گوہر رضا نے کہا کہ نفرت کا خاتمہ کرنے کے لئے مختلف مذاہب کے ذمے داران کو انتہا پسندی کے خلاف آواز بلند کرنا چاہیے۔ خان عبد الغفار خان نے زمینی سطح پر قوم و ملت اور ملک کی ترقی کے لئے آخری سانس تک کام کیا ۔ قومی یکجہتی کے علمبردار بادشاہ خان کے اصولوں پر عمل کرنا اشد ضروری ہے ۔
مشہور مفکر ڈاکٹر رام پنیانی نے کہا کہ دور حاضر میں انھیں تاریخ داں کا لقب د ے دیا گیا ہے لیکن تعلیمی اعتبار سے انھوں نے سائینس میں ڈگری حاصل کی ہے
6 دسمبر 1992 کو جب بابری مسجد شہید کر دی گئ تو نجی طور پر انھوں نے تاریخ کا مطالعہ شروع کیا اور گزشتہ تینتیس برس سے مسلسل تاریخ پر کام توجہ مرکوز ہے ۔ انھوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ ہند کو بدلا نہیں جا سکتا تاریخ گواہ ہے مغل بادشاہ اورنگ زیب نے سینکڑوں مندروں کی تعمیر کے لئے خزانہ تقسیم کیا ۔ مغل سلطنت نے ہندوستان کی تہذیب و تمدن میں چار چاند لگا دیئے ۔ مغلیہ حکومت کی مخالفت کے بعوض امت شاہ کو اپنے نام سے شاہ لفظ خارج کر دینا چاہیے۔ شاہ خالصتا فارسی لفظ ہے جو مغل حکمرانوں کی نشانی ہے ۔ ڈاکٹر رام پنیانی نے پر زور انداز میں کہا کہ ہندوستان سیکولر ملک ہے یہاں زبردستی کسی بھی خاص طبقہ کو نشانہ بنا کر ہندوتو کی پیروی پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ آئین ہند میں تمام مذاہب کو اپنی مذہبی اقدار کے ساتھ زندگی گذار نے کا حق حاصل ہے ۔
خاتون تاریخ داں رو چیکا شرما نے کہا کہ خان عبدالغفار خان کی شخصیت ان کو وراثت میں ملی دادا دادی سے حاصل معلومات کے مطابق بادشاہ خان پسند ہستی تھے کسی بھی حال میں ملک کا بٹوارہ منظور نہ تھا ۔
پروفیسر اخلاق احمد نے رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ خان آزادی کے بعد بھی پاکستان کی جیل میں مقید رہے ۔
سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ زیڈ کے فیضان نے پر مذمت لہجہ میں کہا کہ موجودہ دور میں اقلیتی فرقہ پر پے در پے حملہ ہو رہے ہیں ۔ مسجد ہو یا چرچ ہر طرف اقلیتوں کو دشواریوں کا سامنا در پیش ہے ۔ لیکن جان دیال جیسے قائد ساتھ مل کر ہم ایک نئ تاریخ رقم کر سکتے ہیں ۔ مذہبی نعرے بازی کے لئے کسی بھی فرقہ کو مجبور کرنا سراسر غیر انسانی امر ہے ۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے قدم سے قدم ملا کر چلنا ضروری ہے ۔
علاوہ ازیں کانفرنس میں اشوک کمار پانڈے ، جان دیال نے بھی اظہار خیال کیا ۔ کانفرنس کی نظامت وطن سماچار کے ایڈیٹر محمد احمد نے نہایت خوبصورت انداز میں پیش کی۔ تقریب کی افتتاح تلاوت قرآن پاک سے کی گئ ۔ اختتام پر مہاراشٹر کے سابق نائب وزیر اعلی اجیت دادا پوار کو پر نم آنکھوں سے خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ کثیر تعداد میں معروف دانشور وں ، ادیبوں ، صحافیوں، سماجی کارکنوں، طلبہ و طالبات نے شرکت کی ۔ عشائیہ کا بہترین انتظام کیا گیا۔
Comments
Post a Comment