قابلِ توجہ۔۔از قلم:عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹکا۔
قابلِ توجہ۔۔
از قلم:عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹکا۔
8904317986
قابلِ توجہ 👇
کیا آج ہم اپنے محسنوں کو بھول گئے ہیں؟
ذرا سوچئے…
جو شخص پانچ وقت آپ کی امامت کرتا ہے،
آپ کے بچوں کو قرآن سکھاتا ہے،
آپ کے نکاح پڑھاتا ہے،
آپ کے جنازے کی نماز پڑھاتا ہے —
کیا اس کی زندگی کی ذمہ داری ہماری نہیں؟
ہم اپنے بچوں کی فیس ہزاروں میں دیتے ہیں،
ڈاکٹر کو بڑی رقم دیتے ہیں،
وکیل کو معاوضہ دیتے ہیں،
لیکن جو ہمیں آخرت کا راستہ دکھاتا ہے،
اس کے لیے چند ہزار بھی بوجھ لگتے ہیں؟
دین ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔”
اگر قرآن سکھانے والا سب سے بہتر ہے،
تو کیا سب سے بہتر لوگوں کو سب سے کم معاشی سہولت ملنی چاہیے؟
اصل مسئلہ کیا ہے؟
مسئلہ علماء کی کمزوری نہیں،
مسئلہ ہماری ترجیحات ہیں۔
ہم نے دین کو ضرورت کے وقت استعمال کی چیز بنا لیا ہے،
جبکہ دین والے انسان کی مستقل کفالت ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
🌺 ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
✔ مسجد و مدرسہ کے امام و معلم کے لیے باعزت تنخواہ مقرر کریں۔
✔ کمیٹی سسٹم مضبوط کریں۔
✔ زکوٰۃ و صدقات کا منظم حصہ اہلِ علم کے لیے مخصوص کریں۔
✔ شادی بیاہ میں فضول خرچی کم کر کے علماء کی مدد کریں۔
💔 یاد رکھئے…
اگر علماء کمزور ہوں گے تو معاشرہ کمزور ہوگا۔
اگر حفاظ پریشان ہوں گے تو قرآن کی خدمت متاثر ہوگی۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہے:
ہم دین چاہتے ہیں،
یا صرف دین کی رسمیں؟
اللہ ہمیں اپنے علماء و حفاظ کی عزت اور کفالت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤲
Comments
Post a Comment