ایس ایس سی اور ایچ ایس سی بورڈ امتحانات میں شرکت کرنے والے طلبہ کو کیا پیغام دینا چاہے گے۔؟
ایس ایس سی اور ایچ ایس سی بورڈ امتحانات میں شرکت کرنے والے طلبہ کو کیا پیغام دینا چاہے گے۔؟
(اس سلسلے میں ہم نے اساتذہ،اسکول کے ہیڈ ماسٹر، پرنسپل، تعلیمی رہنمائی کرنے والے اور اخلاقی مصلح افراد سے طلبہ کے لیے پیغام دینے کی درخواست کی تھی۔ کافی صاحبان نے جواب دیے۔ مندرجہ ذیل میں طلبہ کے لیے ان کے پیغامات قلم بند کیا ہوں۔ طلبہ انھیں پڑھیں اور اپنی زندگی میں اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔ ان شاءاللہ امتحان میں ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر مشکل امتحان میں کامیابی ملے گی اور ملک و قوم کے لیے روشن مثال ثابت ہوگے۔ عبدالرحمن یوسف بھیونڈی) مارچ کا مہینہ نہ جانے کیوں طلبہ اساتذہ و سرپرستوں کے لیے بے چینی خوف نفسیاتی دباؤ کا مہینہ بن جاتا ہے۔ جبکہ
دوسرے مہینوں کی طرح ہی یہ بھی ایک بہترین پرفضا موسم اور خوشگوار ماحول کا مہینہ ہے۔
عام طور پر اس مہینے کے بارے میں ہمیں خوف میں مبتال کرنے والی بات دراصل اس مہینے میں منعقد ہونے والے مختلف
بورڈ کے امتحانات ہوتے ہیں۔
امتحانات کا خوف یہ ایک فطری عمل ہے۔ حساس ذہین محنتی طلبہ اس میں زیادہ الجھ جاتے ہیں اور اپنے اپ کو جسمانی
ذہنی نفسیاتی اور جذباتی طور پر بیمار کر لیتے ہیں۔
اج ہم ہمارے جسمانی ذہنی نفسیاتی اور جذباتی صحت پر اس مہینے میں اثر انداز ہونے والے عوامل پر بات نہ کرتے ہوئے
اس کے رد باب پر کچھ اپنے تجربات کی روشنی میں مشورہ دینے کی کوشش کریں گے۔
مختلف ماحول میں موجود مختلف عالقوں میں موجود مختلف قسم کے طلبہ پر مختلف عوامل اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان
سے بچنے کا ایک مختصر اور ا اسان سا حل یہ ہے کے اس مہینے کو اپنے لیے خاص بنانے کی کوئی ضرورت نہیں
ہے۔دوسرے یہ کے اس مہینے کے دنوں کو بھی دوسرے مہینوں کے دنوں کی طرح ہی سمجھیں اور اپنے روزمرہ کے کام کاج
کو جاری و ساری رکھیں۔اپنے ذہن کو اپنے برتاؤ کو اور کام کرنے کے طریقوں کو اور اپنے روزمرہ کے معموالت کو بگڑنے
اور منتشر ہونے سے بچا کر اپنے مقصد اور ٹارگٹ پر اپنے اپ کو مرکوز رکھنے کے لیے روز مرہ کے معموالت کی طرح ہی
سرگرمیوں کو انجام دیں۔
اگر اپ ان مہینے اور ان دنوں کے دوران اپنے اندر کچھ بدالؤ کچھ تبدیلی کچھ کمزوری بے چینی فکریں ذہنی الجھنیں اور کام
کاج میں بگاڑ محسوس کر رہے ہیں تو دیے گئے مشوروں پر عمل کریں۔
1( مراقبہ کریں ۔۔ اس وقت جب اپ اپنے اپ کو بہت زیادہ بے چین پریشان ذہنی الجھنوں میں مبتال فکرمند
گھبراہٹ۔جھالہٹ،کام کرنے سے بیزاری، ذہنی تھکاوٹ، بے جا خوف محسوس کریں تو اپ اپنے اپ کو ان تمام باتوں
سے دور رکھنے کے لیے فورا کم سے کم دس منٹ کا مراقبہ کر لیں اپنے اپ کو خاموش پر سکون طریقے سے
اہستہ اہستہ اپنے تمام حواس خمسہ کو اپنے کام پر مرکوز کریں۔
2( لمبی سانس لینا اور سانس چھوڑنے کا عمل ) آنا پان (: جب ہمیں اپنے جسم دل و دماغ میں تناؤ کشیدگی بے چینی
محسوس ہو اس وقت ہمارے جسم میں دل و دماغ میں پہنچنے والی اکسیجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے چکر
انا۔ غش پڑنا، بے ہوشی طاری ہونا۔جی متالنا،الٹی ہونا بہت زیادہ پسینہ انا، جسمانی اعضاء میں لرزہ پیدا ہونا، یہ
اثرات نمودار ہوتے ہیں۔ اس لیے اس وقت اپنے اپ کو اس کام سے ہٹا کر اور اس کام سے توجہ ہٹا کر کھلی فضا میں
کھلی جگہ پر اپنے جسم کو فریش اکسیجن پہنچانے کے لیے کم از کم پانچ سے دس منٹ مراقبے کی حالت میں یا
سہولت والی حالت میں بیٹھ کر لمبی لمبی سانسیں لیں اور سانسیں چھوڑتے رہیں تاکہ اپ کے جسم میں موجود اعضاء
کو فریش اکسیجن ملے اور اپ کی جسم میں توانائی پیدا ہو۔
3( مکمل اور گہری نیند : اکثر و بیشتر بے چینی ،فکروں ،تان تنا و کی وجہ سے ہماری نیند میں خلل پیدا ہو جاتا ہے۔
اور نیند کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا دماغ ہماری انکھیں ہمارے سر ہمارے اعضاء میں تناؤ محسوس ہوتا
ہے۔ ایک تھکن محسوس ہوتی ہے جو ہمیں اپنے کام کرنے کے طریقوں میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔ اس لیے اپنے
اپ کو صحت مند توانا تندرست اور فریش رکھنے کے لیے ایسے حاالت میں مکمل اور گہری نیند لینا ضروری ہے۔
4( متوازن غذا کا استعمال : ان ایام میں ان مہینوں میں عام طور پر ہمارے کھانے کا نظم اور کھانے کے طریقے اور
کھانوں کے اقسام کھانے کے اوقات بدل جاتے ہیں۔ فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی غذائیں،مصالحہ دار غذاؤں سے پرہیز کریں۔
متوازن غذا کا زیادہ سے زیادہ اس دوران استعمال کریں۔ تو اپ پر پڑھنے واال ذہنی جسمانی جذباتی بوجھ کم کرنے
میں مدد ملے گی۔
5( حسب معمول کام کاج : بظاہر ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں ان مہینوں میں یا ان ایام میں بہت زیادہ ہارڈ ورک
مشقت اور کڑی محنت کرنا چاہیے۔ یہ سوچ غلط ہے۔ اس لیے ہمیں ان مہینوں کو ان ایام کو عام مہینوں اور دنوں کی
طرح ہی استعمال کرنا چاہیے۔ ہمارے معموالت سال بھر کی طرح اس مہینے میں بھی ہوں۔ زیادہ جاگنا زیادہ ہارڈ ورک
کرنا خوب زیادہ اسٹڈی کے لیے ایک جگہ پر بیٹھنا ایک ارڈنری ہارڈ ورک ان تمام چیزوں سے بچیں۔ حسب معمول کام
کاج کریں جو اپ کو تمام فکروں الجھنوں اور پریشانیوں سے دور رکھے گی۔
6( انرجائزر،بوسٹر ڈرنکس،ٹونکس،اور دیگر مشروبات چائے کافی کے استعماالت سے پرہیز کریں۔7( باہمی گفتگو اور مالقات : عام دنوں کی طرح ہی ان ایام میں اپنے ماں باپ بہن بھائی اساتذہ دوست احباب سے اپنے
معموالت زندگی اور کام کاج کے بارے میں باہمی گفتگو کرتے ہوئے اپنی تکالیف پریشانیوں الجھنوں بے چینیوں کو
شیئر کریں ذکر کریں۔ ایسا کرنے سے ذہنی تکلیف پریشانی الجھن اور فکریں کم ہوتی ہیں۔
8( زیادہ سے زیادہ دعاؤں نمازوں اور اذکار کا اہتمام کریں۔
9( اپنا عقیدہ صحیح رکھیں۔ کہ ہللا تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔
اپ کے تابناک مستقبل اور نمایاں کارناموں کے لیے نیک خواہشات اور دعائیں۔
(مومن اسحاق،ایم ایس سی،ایم ایڈ متھس،سبجیکٹ ایکسپرٹ ڈائٹ بیڑ)
________________________________________
ایس ایس سی اور ایچ ایس سی بورڈ امتحانات میں شرکت کرنے والے تمام طلبہ کے لیے دلی نیک تمنائیں اور نیک خواہشات۔ یہ امتحانات آپ کی برسوں کی محنت، لگن، نظم و ضبط اور مسلسل جدوجہد کا عملی مظہر ہیں، اس لیے خوف اور گھبراہٹ کو خود پر غالب نہ آنے دیں بلکہ اعتماد، حوصلے اور مثبت سوچ کے ساتھ امتحان میں شریک ہوں۔ پرچہ حل کرتے وقت سوالات کو پوری توجہ سے پڑھیں، مشکل سوالات پر گھبرانے کے بجائے تحمل سے سوچیں، آسان سوالات سے ابتدا کریں اور وقت کی مناسب تقسیم کو ہر حال میں پیشِ نظر رکھیں۔ اپنے جوابات صاف، مربوط اور واضح انداز میں تحریر کریں تاکہ آپ کی محنت پوری طرح نمایاں ہو سکے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ کامیابی کا مفہوم صرف نمبروں یا درجہ بندی تک محدود نہیں بلکہ سیکھنے کے عمل، خود اعتمادی اور مستقبل کے لیے تیار ہونے میں پوشیدہ ہے۔ اپنے اساتذہ اور والدین کی رہنمائی و دعاؤں کو یاد رکھیں، خود پر یقین رکھیں اور پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو امتحانات میں آسانی، بہترین کامیابی اور روشن مستقبل عطا فرمائے۔ عارف محمد خان
(انچارج صدر مدرس عبدالمجید سالار اقرا اردو ہائی اسکول بورنار، جلگاؤں۔)
_____________________________________________
____________________________________________
عزیر طلبہ! آپ تمام کے لیے یہ پیغام ہے کہ آپ لوگ بالکل سنجیدہ ہو جائے۔ اس وقت ڈٹ کر پڑھائی میں مصروف ہوجائیں۔ ایسے طلبہ جو شروع دن سے پڑھائی کررہے ہیں وہ طلبہ ایک ٹائم ٹیبل بناکر تمام اسباق کا ریویژن شروع کرے۔ اب سے موبائل فون سے دور رہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ جس طرح سے اپنی اسکول میں دس یا بارہ برس ڈسیپلن کے ساتھ پڑھائی کی اسی طرح سینٹر پر دوران امتحانات ڈسیپلن کا مظاہرہ کرے۔ بہتر یہ ہے کہ سینٹر پر روزانہ اسکول یا کالج کا یونیفارم میں امتحان دے۔ سینٹر کے امتحان ہال میں شروع میں جو ہدایت دیں اسے بغور سن کر اس پر عمل کرے۔ امتحان ہال میں آئے سوپروائزر کے ساتھ خوش اخلاقی اور ادب کا مظاہرہ کرے۔ انھیں عزت و احترام دے۔ یہ وقت بہت اہم ہے۔وقت کو امامت سمجھے اور ہر لمحہ کوسوچ سمجھ کر استعمال کرے۔ اپنے آپ کو باور کرائے کہ وقت کا ضیاع زندگی کا ضیاع ہے۔ اکثر امتحانات کے دنوں میں پرچہ لیک ہو گیا ہے ایسے میں بے چینی اور پریشانی ہونا قدرتی بات ہے۔ ایسی افواہ آپ لوگوں کا پڑھائی سے دھیان ہٹا دیتی ہیں۔ ایسی افواہوں پر بالکل توجہ نہ دیں بلکہ مزید محنت کریں اور اپنے آپ کو پرسکون رکھیں۔ اللہ آپ کو آپ کی محنت کا صلہ ضرور عطا کرے گا۔ اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے پڑھائی شروع کر دیجیے۔
(مومن محمد مرتضی محمد مصطفی، ہیڈ ماسٹر نیو نیشنل اردو ہائی اسکول بھیونڈی)
___________________________________________
جماعت دہم اور جماعت ہشتم کے طلبہ و طالبات سے بل راست گفتگو
نونہالان چمن آپ ہمارےملک بھارت کا وہ اثاثہ ہیں ، جو ملک بھارت کی ترقی کا ضامن ہیں۔ آپ لوگوں پر آپ کے سرپرست اور قوم کے پرستاروں کی امیدیں وابسطہ ہیں۔ اس لیے آج اپنے امتحان میں اطمینان کے ساتھ خوداعتمادی اور لگن سے باحوصلہ ہو کر شرکت کریں۔ اور اپنی تقدیر کے ستارے اپنے ماتھے پر سجانے پر بااعتماد رہیں۔ آپ کی کامیابی پرآپ کی امیدیں اور سرپرستوں کی خواہشات و آپ کے تئیں دیکھے گئے خواب کی بنیاد ٹکی ہے۔ اس لیے مایوس نہ ہوں۔ اور ان باتوں کو شاہکار کرنے کی غرض سے اطمینان کے ساتھ شرکت کریں۔ اور اپنی تقدیر خود سنواریں۔ اللہ پاک آپ کے ساتھ ہیں۔
ہم تمام افراد کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ پروردگار آپ کی قدم قدم پر رہنمائی فرمائیں۔ اور کامیابی کو آپ کا مقدر بنائیں آمین ثم آمین
شیخ عبدالکریم عبدالرشید
صدر مدرس اسکول نمبر 70 بھیونڈی
____________________________________________
عزیز طلباء
میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سے بچے پاورلوم، وئیر ہاؤس یا گھریلو کاموں میں والدین کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ یہ کوئی کمزوری نہیں، بلکہ ذمہ داری اور محنت کی علامت ہے۔ مگر آج میں آپ کو یہ یاد دلانے آیا ہوں کہ بورڈ کا امتحان زندگی کا وہ موڑ ہے جہاں چند مہینوں کی قربانی پورے مستقبل کو آسان بنا دیتی ہے۔
آپ کے گھر کا ماحول چاہے پڑھائی کے لیے سازگار نہ ہو، والدین کم پڑھے لکھے ہوں، تب بھی آپ کی کامیابی آپ کے اپنے ارادے سے جڑی ہے، حالات سے نہیں۔دن میں اگر صرف 4–5 گھنٹے خالص یکسوئی کے ساتھ پڑھ لیں—موبائل سے دور، فضول باتوں سے الگ—تو یہی وقت آپ کی تقدیر بدل سکتا ہے۔یاد رکھیں:کام عارضی ہے، تعلیم مستقل سہارا ہےآج کی تھکن کل کی عزت بنے گا آج کی محنت کل کے پچھتاوے سے کہیں بہتر ہے
امتحان کے دن قریب ہیں، اس لیے:روز کا ہدف بنائیں
نصاب کو چھوٹے حصوں میں بانٹیں مشکل مضمون سے بھاگیں نہیں، روز تھوڑا ضرور پڑھیں اور سب سے اہم: مایوس مت ہوں آپ بھیونڈی کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں—محنت آپ کے خون میں ہے۔بایں معنی کی آپ محنتی ماں باپ کی اولاد ہیں بس اب اس محنت کو صحیح سمت دے دیں۔اللہ آپ کی محنت کو کامیابی میں بدلے۔آج پوری توجہ کل روشن مستقبل۔
(مولانا محمد اسعد قاسمی، تعمیر اخلاق فاؤنڈیشن بھیونڈی )
____________________________________________
زندگی میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں۔ SSC اور HSC کے امتحانات بھی انہی اہم مراحل میں سے ایک ہیں۔ یہ صرف چند پرچوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ آپ کی محنت، صبر اور خوابوں کی آزمائش ہیں۔ ان ہی امتحانات کے ذریعے آپ کے مستقبل کی سمت طے ہوتی ہے۔ اور اس سال یہ امتحانات نہایت بابرکت اور مقدس مہینے میں آرہے ہیں۔ جو خود نظم و ضبط اور صبر خود احتسابی کا مہینہ ہے۔ اس لئے یہ وقت طلبہ کے لیے نہ صرف تعلیمی بلکہ روحانی ترقی کا بھی بہترین موقع ہے۔
عزیر طلبہ! یاد رکھیں کہ امتحان آپ کی قابلیت کا پیمانہ ضرور ہیں لیکن آپ کی قدر کا فیصلہ نہیں۔ ایک پرچہ ایک رزلٹ آپ کی پوری زندگی کی تصویر نہیں بن سکتا۔ اصل کامیابی وہ ہوتی ہے جو آپ اپنی مسلسل محنت، ایمانداری اور خوداعتمادی سے حاصل کرتے ہیں۔ آپ نے مہینوں نہیں بلکہ برسوں محنت کی ہے۔ آج وہی علم و تجربہ آپ کا سب سے بڑا سہارا ہیں۔ گھبراہٹ کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔ کیونکہ گھبراہٹ وہ دشمن ہے جو یادداشت کو کمزور کردیتی ہے۔ پرسکون رہ کر سوالات کو غور سے پڑھیں اور اعتماد سے جواب تحریر کریں۔ ہر سوال آپ کے علم و محنت کا موقع ہے۔ جس طرح رمضان المبارک ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان خواہشات پر قابو پا کر بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ یہی صفات امتحان کے دوران بھی ضروری ہے۔ جو طالب علم رمضان میں روزے کے ساتھ محنت کرتا ہے وہ دراصل اپنے ارادے کو مضبوط بنا رہا ہوتا ہے۔ اور مضبوط ارادہ ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ، رمضان کے دوران طلبہ کو یہ بھی چاہیے کہ وہ دعا اور اللہ پر بھروسہ کو اپنی طاقت بنائیں۔ محنت کے ساتھ ہی دعا شامل ہو جائے تو کامیابی کے راستے خود بخود آسان ہو جاتے ہیں۔ امتحان سے پہلے اللہ سے علم، سمجھ اور یاداشت کی دعا مانگنا انسان کو اندرونی سکون و اعتماد عطا کرتا ہے جو امتحان میں دباؤ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اپنے والدین، استاد کی محنت، تعاون آپ سے جڑی ہے۔ ان کی امیدیں اور آپ کے ساتھ ان کی دعاؤں کو بھی یاد رکھیں۔ یہی آپ کی اصل طاقت ہے۔ خود پر یقین رکھیں کیونکہ جو خود پر یقین رکھتا ہے وہ دنیا کی ہر مشکل کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ آخر میں تمام طلبہ کو یہ پیغام کہ رمضان المبارک اور امتحان کو مثبت انداز میں استعمال کرے۔ محنت، صبر، دعا نظم و ضبط کو اپنا ہتھیار بنائیں۔ ان شاءاللہ یہ دن آپ کی زندگی میں کامیابی علم اور روشن مستقبل کی ضمانت ہوگا۔
(قیصر ڈھولے، پرنسپل النور گرلز ہائی اسکول اینڈ جونئیر کالج بھیونڈی )
Comments
Post a Comment