قدیر شولاپوری کا رنگِ سخن۔ازقلم : پروفیسر مقبول احمد مقبول۔چٹگوپہ، ضلع بیدر(کرناٹک)


قدیر شولاپوری کا رنگِ سخن۔
ازقلم : پروفیسر مقبول احمد مقبول۔
چٹگوپہ، ضلع بیدر(کرناٹک)

مہاراشٹر کے شہر شولا پور کے شعری منظر نامے میں اردو شعرو سخن‌ کے حوالے سے جو چند‌نام‌نمایاں‌نظر‌آتے ہیں‌ان‌میں‌ ایک نام قدیر شولاپوری کا بھی ہے۔قدیر شولا پوری اپنے وقت کے معروف استاد شاعر گزرے ہیں۔انھوں‌نے غزلیں بھی کہی ہیں ،نظمیں بھی لکھی ہیں،قطعات نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں ‌کے جوہر دکھائے ہیں۔اس کے علاوہ بچوں کےلیے بھی نظمیں تخلیق کی ہیں۔گیت نگاری سے بھی انھیں شغف رہا ہے۔تقدیسی شاعری کی بات کی جا ئے تو انھوں نے حمد اور نعت گوئی میں بھی اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔قدیر شولا پوری کا ایک مجموعۂ کلام‌"بوئے پیراہن‌"کے نام‌سے  1991ءمیں‌منظرِ‌عام‌پر آکر ناقدینِ‌ادب سے دادو تحسین‌حاصل کر چکا ہے۔اس مجموعے میں غزلیں نظمیں اور قطعات شامل ہیں۔

یہ مجموعہ مختصر ضرور ہے لیکن‌ اس میں‌ موجود‌ کلام‌دامنِ دل کھینچتا ہے۔جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ قدیر شولا پوری نے مختلف اصناف میں‌ اپنی شعری صلاحیتوں کے جوہر دکھائے ہیں لیکن‌ان‌کےاصلی جوہر غزل نگاری میں کھلتے نظر آتے ہیں۔ ان‌کی غزل میں‌کہیں‌کلاسیکی رنگ ہے تو کہیں ترقی پسندی کی چھاپ دکھائی دیتی ہے۔ان‌کا‌کلام‌عشقِ حقیقی کے رنگ سے بھی مزین ہے۔ اس  کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں عشقِ مجازی بھی اپنا جلوہ دکھاتا ہے۔

 قدیر شولا پوری کے غزلیہ اشعار اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ انھیں اپنی بات اپنے ڈھنگ سے کہنے کا‌ہنر‌آتاتھا۔کسی نے کہا ہے کہ انسان‌کا بہترین‌مطالعہ انسان ہے۔ہر زمانے کے دانشور،شاعر وادیب اور فلسفی انسان‌ کی حقیقت کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔انسان‌کی حقیقت کے بارے میں جگر مرادآبادی نے کہا‌تھا:
گھٹے اگر تو بس اک مشتِ‌خاک ہے انساں
بڑھے تو وسعتِ کونین‌میں‌سما‌نہ سکے
قدیر شولا پوری کہتے ہیں:
اگر دیکھو تو ذرہ ہے اگر سمجھو تو صحرا ہے
بشر خاکی سہی پرواز میں یہ لا‌مکانی ہے

 قدیر شولا پوری نے حکمت اور مصلحت سے کام‌ لینے اور حالات کو سمجھ کر قدم اٹھانے کا‌پیغام۔دیا ہے۔ مثلاً:
ہمیشہ جیت ہی پر منحصر کب‌کامرانی ہے
کہیں پسپا بھی ہونا ہوش مندی کی نشانی ہے
درجِ ذیل شعر دیکھیں جس میں قدیر نے یہ پیغام‌دیا‌ہے کہ کامیابی ان کا‌مقدر ہوتی ہےجو وقت کی رفتار اور حالات کے تقاضوں‌ کے پیشِ نظر اپنے اندر تبدیلی پیدا کر لیتے ہیں‌۔شعر کا استعاراتی رنگ اسے ہمہ گیر بنادیتا ہے۔ 
نظامِ مے کدہ بدلا ہے تم‌بھی مے خوارو 
اب اپنے طور بدل ڈالو جام‌اٹھانے کے
قدیر شولا پوری لوگوں کے آپس میں ملنے ملانے کے عمل کو بھی با‌فیض‌بنانے کی ترغیب دیتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ ہر عمل میں‌خیر کاپہلو پیدا کر لیا جائے تو ہر طرف خیر ہی خیر ہوگا۔ جب چہار جانب خیرو فلاح کی فضا‌ہوگی تو  دنیا امن‌وسکون گہوارہ بنےگی۔تاریکیاں‌‌ختم‌ہوں‌گی اور  ہر طرف اجالا ہی اجالا ہوگا۔اس بات کو قدیر نے بڑے سادہ الفاظ‌میں بیان‌کیا ہے۔کہتے ہیں:
ملنا برا نہیں ہے کسی سے ،مگر قدیر!
ایسے ملو کہ جیسے دیے سے دیا ملے
قدیر شولا پوری کی شاعری کا جو پہلو زیادہ متاثر کرتا‌ہے وہ عزم و حوصلہ اور جواں مردی کا پہلو ہے۔ان‌کے یہاں ایسے کئی شعر ہیں جن سے ان‌کی حوصلہ مندی کا‌اظہار ہوتا ہے۔مثال کے طور پر چند شعر ملاحظہ کریں :
جہاں میں‌عام‌کردوں گا میں‌آئینِ جواں مردی
سپردِ خاک تہذیبِ غزالاں‌کر کے چھوڑوں گا

چراغِ قصرِ استبداد سے ضو چھین‌کر ہم دم
میں اس تاریک بستی میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا

تو چمکتے جگنو کی روشنی میں لپکتے شعلے کی تازگی
ترے ٹمٹماتے چراغ کا مری انجمن‌میں‌گذر نہیں

سلامت ہے اگر سینوں میں ذوقِ ناوک اندوزی
ھما کا ذکر کیا ہو جائے گا عنقا شکاراپنا

سو بار بھنور میں گھِر آیا،سو بار بلا سے ٹکرایا
اک سیلِ رواں ہوں سیلِ رواں ٹھیراو مرا دستور نہیں

قدیر شولا پوری کی زنبیلِ سخن میں تغزل سے معمور اشعار بھی جہاں تہاں نظر آتے ہیں۔نمونے کے طور پر درجِ‌ذیل شعر ملاحظہ کریں:

تری یاد راحتِ جسم‌وجاں ترا نام‌دل کا قرار ہے
انھی دو شراب کے گھونٹ سے مری زندگی میں خمار ہے

مری عاشقی کا جدا ہے رنگ تری دلبری کے اور ڈھنگ
مجھے دو جہاں سے عزیز تو، تجھے دو جہان‌سے پیار ہے

نگاہیں‌اٹھ نہیں سکتیں حیا سے
مگر خنجر اٹھایا جا رہا ہے
تیسرا شعر تو داغ دہلوی اور امیر مینائی کے رنگ کا بہترین شعر ہے۔

قدیر شولاپوری خوب‌جانتے ہیں کہ صرف قافیہ پیمائی کا‌نام‌شعر نہیں ہے۔بلکہ شعر چیزے دیگر است۔اس بات کو وہ خود بھی اپنی گرہ میں باندھ رکھتے ہیں‌ اور اس کا‌اظہار کچھ اس انداز کرتے ہیں کہ ایک طرف  خطاب خود سے بھی ہو اور لگے ہاتھ روئے سخن کسی اور کی طرف بھی معلوم‌ہو۔ملاحظہ کریں:
خونِ دل بھی بھر لینا فکرِ شعر میں ورنہ
شعر کب سنورتے ہیں قافیے ملانے سے

کس نے کہہ دیا تم‌سے فنِ شعر آساں ہے
شعر شعر کیا ہوں گے قافیے ملانے سے
یقیناً شاعری کا فن اتناآسان‌نہیں جتنا سمجھ لیا گیا ہے۔امیر مینائی نے فنِ شاعری کی مشکلات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بڑا لاجواب شعر کہا ہے:
خشک سیروں تنِ شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب نظر آتی ہے اک مصرعِ تر کی صورت

امیر مینائی کے اس شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ جسے شاعری کہتے ہیں وہ بڑا مشکل فن ہے۔ غزل کے شعر کہنا تو اور بھی مشکل ہے۔ایک شعرمیں‌معنی کا جہاں آباد کرنا‌ہوتا ہے۔اس پر شعری نزاکتوں کا لحاظ رکھنا مستزاد ہے۔غزل کے شعر کہنے کے بارے میں حیدرآباد کے شاعر روحی قادری نے کیا بلیغ شعر کہا ہے‌ملاحظہ فرمائیں:
شعر غزل کے کہنا کوئی کھیل نہیں ہے بچوں کا
سیدھی سیدھی بات تو یہ ہے ٹیڑھی ہے یہ کھیر میاں
"فکرِ ہر کس بقدرِ ہمت اوست"کے مطابق ہر شاعر کوشش تو یہی کرتا ہے کہ بہتر سے بہتر کلام‌کہے۔لیکن کامیابی کسی کسی شاعر ہی کو ملتی ہے۔ کسی کے کلام میں اگر چند شعر بھی ایسے مل جاییں جن کی بنیاد پر وہ اپنے علاقے میں بھی زندہ اور یاد گار رہے تو بھی غنیمت ہے۔اس کسوٹی پر جب ہم‌قدیرشولا‌پوری کی شاعری کو پرکھتے ہیں تو بلا‌مبالغہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان‌کی زنبیلِ‌سخن‌میں‌ایسے کئی اشعار مل جاتے ہیں۔ 

پروفیسر مقبول احمد مقبول۔
چٹگوپہ، ضلع بیدر(کرناٹک)
9028598414

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔