کوکن کی بیٹی، نیو جرسی کی منصفہ۔ ازقل۔ : جمیل احمد ملنسار۔


کوکن کی بیٹی، نیو جرسی کی منصفہ۔۔
ازقل۔ : جمیل احمد ملنسار۔

کوکن کی سرزمین نے ایک اور روشن نام تاریخ کے اوراق پر ثبت کر دیا۔ لبنیٰ قاضی چودھری نے امریکی ریاست نیو جرسی میں ایڈمنسٹریٹو لا جج کے منصب کا حلف اٹھا کر نہ صرف ایک ذاتی کامیابی حاصل کی، بلکہ اقلیتوں—بالخصوص مسلم خواتین—کے لیے امید اور حوصلے کی نئی کرن روشن کر دی۔ نیو جرسی کی تاریخ میں وہ اس منصب پر فائز ہونے والی پہلی مسلم خاتون ہیں۔
حلف برداری کی تقریب میں ایک لمحہ خاص طور پر دلوں میں اتر گیا—جب لبنیٰ قاضی نے قرآنِ مجید پر ہاتھ رکھ کر آئینی ذمہ داریوں کی پاسداری کا عہد کیا۔ نیو جرسی سپریم کورٹ کی اسوسی ایٹ جسٹس ریچل وینر ایپٹر نے ان سے حلف لیا۔ یہ منظر محض رسمی نہیں تھا؛ یہ آئین اور ایمان کے باہمی احترام کی ایک خاموش مگر پُراثر تصویر تھی۔
ایڈمنسٹریٹو لا جج کا منصب امریکی عدالتی نظام میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ جج سرکاری اداروں کے فیصلوں، انتظامی تنازعات اور عوامی شکایات کی سماعت کرتے ہیں اور قانون کے طے شدہ اصولوں کی روشنی میں فیصلے صادر کرتے ہیں۔ لبنیٰ قاضی کی تقرری کو اسی لیے اقلیتی نمائندگی کے باب میں ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک زندگی، کئی دیس : 
لبنیٰ قاضی کی کہانی سرحدوں سے ماورا ہے۔ ان کی پیدائش کویت میں ہوئی، جہاں بچپن کے چند برس والدین کے ساتھ گزارے۔ 1990ء میں اسکول کی تعطیلات کے دوران وہ امریکہ گئیں، مگر خلیجی جنگ کے سائے گہرے ہوتے ہی خاندان نے مستقل طور پر وہیں بسنے کا فیصلہ کر لیا۔
تعلیم کا سفر کیلیفورنیا سے شروع ہوا۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے گریجویشن، اور پھر ویسٹرن اسٹیٹ یونیورسٹی کالج آف لا سے قانون کی ڈگری—یہ سب محنت کے وہ زینے تھے جن پر چڑھ کر وہ آج اس مقام تک پہنچی ہیں۔ 2005ء میں احسن چودھری سے شادی کے بعد نیو جرسی منتقل ہوئیں اور تقریباً دو دہائیوں تک مختلف سرکاری قانونی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ انہی خدمات اور پیشہ ورانہ اہلیت کے اعتراف میں 2025ء میں نیو جرسی کے گورنر نے انہیں ایڈمنسٹریٹو لا جج کے منصب کے لیے نامزد کیا۔
لبنیٰ قاضی کی شخصیت کا ایک اور دلکش پہلو ان کی لسانی صلاحیتیں ہیں۔ انگریزی کے ساتھ ساتھ وہ اردو، ہندی اور کونکنی روانی سے بولتی ہیں، جبکہ عربی پر بھی دسترس رکھتی ہیں۔ اپنی تہذیبی وراثت سے وابستگی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں کو گھر پر اردو اور عربی خود پڑھاتی ہیں—گویا زبان کے ذریعے شناخت کو اگلی نسل تک منتقل کر رہی ہوں۔
گھر کی دعا، باپ کا فخر : 
اس موقع پر لبنیٰ کے والد، عنایت اللہ قاضی، کے الفاظ میں ایک باپ کی آنکھوں کی نمی اور دل کی روشنی دونوں شامل تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصب محض ایک عہدہ نہیں، بلکہ برسوں کی محنت، قربانی اور دعاؤں کا ثمر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خاندان کی جڑیں کوکن کے ضلع رائے گڑھ کی تالہ تحصیل میں پیوست ہیں۔ خود انہوں نے دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ اسکول سے چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کی، پھر ممبئی کے انجمنِ اسلام سے ہائی اسکول مکمل کیا۔ 1975ء میں گورنمنٹ کالج آف انجینئرنگ، اورنگ آباد سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری لینے کے بعد روزگار کے لیے کویت گئے، جہاں پندرہ برس تک ایک ایئر کنڈیشننگ کمپنی میں خدمات انجام دیں۔ خلیجی جنگ کے بعد، ایک سوٹ کیس کے ساتھ امریکہ ہجرت کی—کیونکہ بچے پہلے ہی وہاں موجود تھے۔ بعد ازاں، انہوں نے اپنے چاروں بچوں کی اعلیٰ تعلیم کو زندگی کا نصب العین بنا لیا۔
عنایت اللہ قاضی کے مطابق ان کے گھر میں اردو فخر کے ساتھ بولی جاتی ہے اور اسلامی روایت نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے۔ لبنیٰ نے سات برس کی عمر میں قرآنِ مجید کی تکمیل کی—اور شاید اسی روشنی نے آگے چل کر راہ دکھائی۔
انہوں نے ایک اور دلچسپ حقیقت بھی بیان کی: آج سے پانچ چھ نسلیں پہلے ان کے آباؤ اجداد کوکن میں قاضی کے منصب پر فائز تھے، جہاں وہ مذہب، ذات یا نسل کی تفریق کے بغیر انصاف کیا کرتے تھے۔ اگرچہ یہ پیشہ بعد کی نسلوں میں موقوف ہو گیا، مگر آج بیٹی کی صورت میں اسی عدالتی روایت کا احیا دیکھ کر ان کا دل شکر سے بھر گیا۔
تعلیم کی وراثت، عورت کی طاقت : 
لبنیٰ قاضی، ممتاز ماہرِ تعلیم ڈاکٹر ریحانہ احمد کی نواسی بھی ہیں—جو انجمنِ اسلام، ممبئی کے گرلز بورڈ کی ایگزیکٹو چیئرپرسن رہ چکی ہیں۔ ڈاکٹر ریحانہ احمد نے لبنیٰ کی کامیابی کو نوجوان لڑکیوں کے لیے روشن مثال قرار دیا اور کہا کہ یہ کارنامہ طالبات کو اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی کی جانب قدم بڑھانے کا حوصلہ دے گا۔ مسلم بچیوں کی تعلیم کے فروغ میں ان کی خدمات پہلے ہی ایک روشن باب ہیں۔
ادھر ایشین پیسیفک امریکن لائرز ایسوسی ایشن آف نیو جرسی سمیت متعدد سماجی و قانونی تنظیموں نے لبنیٰ قاضی کو مبارکباد پیش کی ہے۔ مبصرین کے نزدیک یہ تقرری امریکی عدالتی نظام میں مسلم اور اقلیتی نمائندگی کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب جڑیں مضبوط ہوں، زبان اور شناخت سے رشتہ قائم رہے، اور دعا کے ساتھ محنت کا دامن نہ چھوٹے—تو کوکن کی بیٹی بھی نیو جرسی کی عدالت میں انصاف کی آواز بن سکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔