مولانا ابوالکلام آزاد: فکرِ ملت کا اسیر، قوم کا معمار۔۔۔ (خراج عقیدت ٢٢ فروری٢٠٢٦)۔ ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔
مولانا ابوالکلام آزاد: فکرِ ملت کا اسیر، قوم کا معمار۔۔
(خراج عقیدت ٢٢ فروری٢٠٢٦)
ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔
مولانا ابوالکلام آزاد برصغیر کی تاریخ کا وہ درخشاں نام ہیں جن کی شخصیت علم و حکمت، سیاست و دیانت، دین و دانش اور قوم و ملت کے شعور کا حسین امتزاج تھی۔ وہ خطابات کے بادشاہ تھے مگر ان کا ہر لفظ ناپ تول کر ادا ہوتا تھا۔ قلم کے شہسوار تھے مگر تحریر میں ذمہ داری، وقار اور فکری گہرائی نمایاں رہتی تھی۔ آزاد کہلائے، مگر اپنی ذات میں نہیں بلکہ اپنی قوم اور ملت کے لیے جینے کا نام ہی ان کی آزادی تھا۔ مولانا آزاد کی فکری زندگی کا محور ہمیشہ ’’ملت اسلامیہ‘‘ اور ’’قوم ہند‘‘ رہی۔ وہ آزاد تھے مگر فکرِ ملت میں مقید؛ وہ سیاست دان تھے مگر دین سے منقطع نہیں؛ وہ عالم تھے مگر زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھتے تھے۔ ان کی یہی جامعیت انہیں محض ایک سیاست داں نہیں بلکہ ایک مفکر، مدبر اور مصلح بناتی ہے۔
دینی بصیرت: تفسیرِ قرآن اور شعورِ امت
مولانا آزاد کی دینی خدمات کا سب سے بڑا مظہر ان کی شہرۂ آفاق تفسیر ترجمان القرآن ہے۔ اس تفسیر میں قرآنِ مجید کو محض عقائد کی کتاب نہیں بلکہ زندگی کے ضابطۂ حیات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے قرآن کی تعلیمات کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے امتِ مسلمہ کو فکری جمود سے نکالنے کی کوشش کی۔ ان کے نزدیک دین صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ عدل، اخوت، علم اور انسانی وقار کا پیغام ہے۔
علمی و ادبی مقام: زبان کا جادو، فکر کی گہرائی
مولانا آزاد اردو زبان کے عظیم ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں عربی کی فصاحت، فارسی کی لطافت اور اردو کی شیرینی یکجا ہو جاتی ہے۔ ان کا اسلوب شکوہ مند بھی ہے اور سنجیدہ بھی؛ پراثر بھی ہے اور مدلل بھی۔ الہلال اور البلاغ جیسے جرائد کے ذریعے انہوں نے غلامی کے اندھیروں میں فکری چراغ روشن کیے۔ ان کی نثر میں خطابت کا جوش اور حکمت کا وقار یکجا نظر آتا ہے۔
سیاسی بصیرت: آزادی اور قومی یکجہتی
مولانا آزاد آزاد بھارت کے سیاسی آئیکون تھے، اگرچہ ان کی پیدائش پاک سرزمین میں ہوئی، مگر انہوں نے ہند کی محبت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ ان کا سیاسی فلسفہ فرقہ وارانہ تنگ نظری کے بجائے قومی یکجہتی پر مبنی تھا۔ وہ ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے اور تقسیم ہند کے سخت مخالف رہے۔ ان کا ایمان تھا کہ مذہب انسان کو جوڑنے کے لیے آیا ہے، توڑنے کے لیے نہیں۔
تعلیمی فکر: قوم کی تعمیر کا راستہ مولانا آزاد کی عظمت کا ایک روشن پہلو ان کی تعلیمی بصیرت ہے۔ آزادی کے بعد وہ ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم بنے اور انہوں نے تعلیم کو قوم کی بنیاد قرار دیا۔ ان کی کاوشوں سے "یونیورسٹی گرانٹس کمیشن" جیسا معیاری ادارہ وجود میں آیا جس نے اعلیٰ تعلیم کو منظم اور مربوط کیا۔ آئی آئی ٹی جیسے اداروں کا تصور بھی انہی کی فکر کی دین ہے۔ ان کے نزدیک علم ہی وہ طاقت ہے جو قوموں کو غلامی سے نکال کر قیادت کے مقام پر پہنچاتی ہے۔
"شخصیت کا جوہر: عالم بھی، رہنما بھی
مولانا آزاد کی شخصیت میں عالم کی وقار، ادیب کی لطافت، سیاست داں کی بصیرت اور مصلح کی درد مندی جمع تھی۔ وہ صرف تقریر کرنے والے خطیب نہ تھے بلکہ عمل کے انسان تھے۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ دین اور سیاست ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ اگر خلوص اور حکمت ہو تو دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد صرف ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک فکر کا عنوان ہیں۔ وہ ملت اسلامیہ کو قرآن کی تفسیر دے گئے اور قوم کو جدید تعلیمی ڈھانچہ عطا کر گئے۔ وہ پاک سرزمین میں پیدا ہوئے مگر ہند کی آزادی اور وحدت کے لیے جئے۔ وہ سیاست کے میدان میں بھی رہنما تھے اور علم و ادب کے افق پر بھی روشن ستارہ۔ آج کے دور میں ان کی فکر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قوموں کی تعمیر صرف نعروں سے نہیں بلکہ علم، اتحاد اور اخلاق سے ہوتی ہے۔ مولانا آزاد کی زندگی ایک زندہ پیغام ہے: "علم سے قوت، اتحاد سے بقا اور کردار سے عظمت حاصل ہوتی ہے۔"
Comments
Post a Comment