رمضان المبارک کا پہلا عشرہ کیسے گزارے؟۔ از قلم : تحسینہ ماوینکٹی۔


رمضان المبارک کا پہلا عشرہ کیسے گزارے؟
از قلم : تحسینہ ماوینکٹی۔

رمضان المبارک کا آغاز رحمتوں، برکتوں اور انوارِ الٰہی کے نزول سے ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: “أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ، وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ، وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ” یعنی اس کا پہلا حصہ رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ جہنم سے نجات ہے۔ اس اعتبار سے رمضان کا پہلا عشرہ سراسر رحمتِ خداوندی کے حصول کا زمانہ ہے۔ جو بندہ اس عشرے کو شعوری طور پر گزار لیتا ہے، اس کے لیے پورا رمضان سنور جاتا ہے۔
پہلے عشرے کی اصل روح یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو نرم کرے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کو متوجہ کرے اور اپنی نیتوں کی اصلاح کرے۔ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی ہمیں یہ عزم کرنا چاہیے کہ یہ مہینہ ہماری زندگی میں تبدیلی کا ذریعہ بنے گا۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ نفس کی تربیت، زبان کی حفاظت، نگاہ کی پاکیزگی اور دل کی صفائی کا درس دیتا ہے۔
سب سے پہلے ہمیں اپنی نیت درست کرنی چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ” (اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے)۔ لہٰذا پہلا عشرہ اس عزم کے ساتھ شروع کریں کہ ہم ہر عبادت خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے کریں گے۔ ریاکاری، نمود و نمائش اور سستی سے بچتے ہوئے اخلاص کو اپنا شعار بنائیں۔
قرآن مجید رمضان کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔ ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ﴾ (البقرہ: 185)۔ اس لیے پہلے عشرے میں قرآن سے مضبوط تعلق قائم کرنا نہایت ضروری ہے۔ روزانہ تلاوت کا ایک معین حصہ مقرر کریں۔ اگر ممکن ہو تو ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھیں تاکہ ہدایت کا نور دل میں اترے۔ قرآن سے وابستگی دراصل اللہ کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
نمازوں کی پابندی پہلے عشرے کی بنیاد ہے۔ پنج وقتہ نمازوں کو اول وقت میں ادا کرنا، خشوع و خضوع کے ساتھ قیام کرنا اور سنتوں و نوافل کا اہتمام کرنا چاہیے۔ خاص طور پر تراویح کی نماز کو محض رسم نہ سمجھیں بلکہ اسے قرآن سننے اور سمجھنے کا موقع تصور کریں۔ فجر کے بعد ذکر و دعا میں کچھ وقت گزارنا دل کو سکون بخشتا ہے۔
پہلا عشرہ دعا اور استغفار کا عشرہ ہے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ یہ دعا پڑھنی چاہیے: "رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ"۔ اللہ کی رحمت کو پکارنا اور اپنے گناہوں پر ندامت ظاہر کرنا بندے کو اللہ کے قریب کردیتا ہے۔ اس عشرے میں دل کی گہرائی سے توبہ کرلینی چاہیے تاکہ آئندہ زندگی گناہوں سے پاک ہو۔
صدقہ و خیرات بھی رحمت کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ نبی کریم ﷺ رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہوجاتے تھے۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی استطاعت کے مطابق غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں۔ چھوٹا سا عمل بھی اللہ کے نزدیک بڑا اجر رکھتا ہے۔ کسی کو افطار کروانا، پانی پلانا یا مسکراہٹ پیش کرنا بھی صدقہ ہے۔
پہلا عشرہ اخلاقی اصلاح کا بھی وقت ہے۔ ہمیں غصہ، حسد، بدگمانی اور فضول گفتگو سے پرہیز کرنا چاہیے۔ روزہ ہمیں برداشت اور صبر کا سبق دیتا ہے۔ اگر کوئی تلخ کلامی کرے تو حدیث کے مطابق کہہ دیں: “إِنِّي صَائِمٌ” (میں روزہ دار ہوں)۔ اس طرح نفس کی تربیت ہوتی ہے اور دل میں سکون پیدا ہوتا ہے۔
گھریلو زندگی میں بھی اس عشرے کو بابرکت بنانا چاہیے۔ سادگی اختیار کریں، افطار کو نمود و نمائش کا ذریعہ نہ بنائیں۔ اہلِ خانہ کے ساتھ مل کر تلاوت اور دعا کا ماحول بنائیں۔ بچوں کو روزے کی اہمیت سمجھائیں اور انہیں عبادت کی طرف راغب کریں۔ ایک صالح گھرانہ ہی ایک صالح معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔
خواتین کے لیے بھی یہ عشرہ خصوصی موقع رکھتا ہے۔ گھریلو ذمہ داریوں کے باوجود وہ اپنے اوقات کو منظم کرکے عبادت کا حصہ بڑھا سکتی ہیں۔‌ پکوانوں میں اعتدال، وقت کی قدر اور ذکر و تلاوت کا اہتمام انہیں روحانی سکون عطا کرتا ہے۔ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ گھر کے کام عبادت میں رکاوٹ نہ بنیں بلکہ نیت کی درستگی سے وہ بھی عبادت شمار ہوں۔
پہلا عشرہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ ﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ﴾ (الاعراف: 156)۔ لہٰذا ہمیں مایوسی کو دل سے نکال دینا چاہیے اور امید و یقین کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ یہ عشرہ دراصل دلوں کی بہار اور روح کی تازگی کا پیغام ہے۔ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمتوں کی بارش ہے۔ اگر ہم اسے اخلاص، عبادت، دعا، تلاوت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ گزاریں تو پورا رمضان ہمارے لیے کامیابی اور برکت کا ذریعہ بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عشرۂ رحمت کی قدر کرنے اور اپنی زندگیوں کو اس کے نور سے منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔