طلبا مادری زبان میں تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیںگورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد میں عالمی یوم مادری زبان تقریب کا انعقاد۔
طلبا مادری زبان میں تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں
گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد میں عالمی یوم مادری زبان تقریب کا انعقاد۔
ظہیر آباد(21 فروری۔پریس نوٹ) زبان سیکھنے اور اظہار خیال کا اہم ذریعہ ہے ۔ زبان کی وجہہ سے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے۔ بچہ گھرسے مادری زبان میں بات کرتے ہوئے سیکھنے کا عمل طے کرتا ہے۔ بچے کی ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جائے ۔نئی قومی تعلیمی پالیسی میں بھی بچے کی ابتدائی تعلیم پر زور دیا گیا ہے۔طالب علم ترجمے کے وسائل استعمال کرتے ہوئے دنیاوی علوم کو اپنی مادری زبان میں سیکھ سکتے ہیں اور نئے مفاہیم جان سکتے ہیں۔ موجودہ دور اپنے خیالات کو سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں تک پہنچانے کا ہے اگر طلبا مادری زبان میں خیالات شاعری یا نثر میں پیش کریں اور اسے ترجمے کے ذریعے دنیا تک پہنچائیں تو ان کی تخلیقی صلاحیتں اجاگر ہوسکتی ہیں۔ طلبا روزنامچہ لکھنے کی عادت ڈالیں ۔ 21 فروری کو اقوام متحدہ کے ذریعے یوم مادری زبان اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ اس دن بنگلہ دیش کے طلبا اپنی زبان کے تحفظ کے لیے قربانی دئیے تھے اور ان طلبا کی قربانیوں کی وجہہ سے آج دنیا عالمی یوم مادری زبان منا رہی ہے۔ ہندوستان کثیر لسانی ملک ہے۔ یہاں مختلف زبانیں بولنے والوں کو احترام کرنا چاہئے اور لسانی تعصب سے گریز کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر محمد اسلم فاروقی پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد نے کالج میں مختلف زبانوں کے شعبہ جات کی جانب سے منعقدہ عالمی یوم مادری زبان تقریب سے کیا۔ اس تقریب میں عائشہ بیگم، الہی بیگم، ماہین، گایتری کلیم اور دیگر طلبا نے اردو، ہندی، تلگو اور انگریزی میں مادری زبان کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ڈاکٹر نرہری مورتی صدر شعبہ انگریزی نے کہا کہ معلومات کی تیز رفتاری کے دور میں ہم زبان کی بھوک کا شکار ہیں اور ہمیں روزمرہ کی بنیاد پر ہمارے سامنے آرہے نئے الفاظ کو سیکھتے رہنا چاہئے تاکہ ہمارا علم وسیع ہو۔ ڈاکٹر لچیا صدر شعبہ تلگو نے کہا کہ ہندوستان میں سرکاری زبانوں کے علاوہ کئی زبانیں اور بولیاں رائج ہیں ہمیں علاقائی ادب کو اپنی زبان میں پروان چڑھانا چاہے۔ ڈاکٹر عشرت صدر شعبہ اردو، ڈاکٹر مدن راتھوڈ صدری شعبہ ہندی اور ڈی پریتی لیکچرر یاضی نے تقریب سے خطاب کیا۔ ڈاکٹر عشرت صدر شعبہ اردو نے تقریب میں خیالات پیش کرنے والے طلبا و طالبات میں کتابیں تحفہ پیش کیں۔ عائشہ بیگم نے اعلان کیا کہ وہ بہت جلد اپنے ناول کی تکمیل کر رہی ہیں جن پر سبھی نے انہیں مبارکباد پیش کی۔
Comments
Post a Comment