رمضان المبارک اور قبولیتِ دعا کے قیمتی لمحات کی ناقدری۔از قلم : محمد سرور شریف ابن یوسف شریف۔معلم موئیدا لمسلمیں پرائمری اسکول پربھنی۔


رمضان المبارک اور قبولیتِ دعا کے قیمتی لمحات کی ناقدری۔
از قلم : محمد سرور شریف ابن یوسف شریف۔
معلم موئیدا لمسلمیں پرائمری اسکول پربھنی۔
9960451708

 قارئین رمضان المبارک رحمت، مغفرت اور نجات کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مبارک زمانہ ہے جس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور بندوں کو اپنے رب سے قریب ہونے کے بے شمار مواقع عطا کیے جاتے ہیں۔ مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس بابرکت مہینے میں ہم بہت سے ایسے قیمتی لمحات کو غفلت اور بے توجہی کی نذر کر دیتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کے لیے خاص فضیلت عطا فرمائی ہے، خصوصاً تہجد کے لمحات اور افطار کے قریب کا وقت۔
 قارئین تہجد کا وقت وہ ساعت ہے جب ربّ کریم اپنے بندوں کی جانب خصوصی طور پر متوجہ ہوتا ہے، مگر رمضان میں بھی ہم اس قیمتی وقت کو نیند، موبائل فون یا غیر ضروری مصروفیات میں گزار دیتے ہیں۔ سحری کے لیے آنکھ تو کھلتی ہے، مگر چند لمحے اپنے رب سے ہم کلام ہونے کے لیے نہیں نکالے جاتے۔ افسوس کہ جس وقت آسمان سے رب تعالی کی جانب سےمنادی ندا لگاتا ہے، ہم اس آواز کو سننے سے قاصر رہتے ہیں۔
اسی طرح افطار سےقبل کے لمحات، جو دعا کی قبولیت کا نہایت اہم وقت ہے، وہ بھی ہماری افطار کی خریدی اور تیاری میں ضائع ہوجاتے ہیں جبکہ ہمیں افطار سے کچھ لمحے پہلے عاجزی و انکساری کے ساتھ دعا میں مشغول ہونا چاہیے، مگر ہم اس وقت موبائل فون، سوشل میڈیا اور غیر ضروری گفتگو میں مصروف نظر آتے ہیں۔ دسترخوان سجا ہوتا ہے، مگر دل دعا سے خالی ہوتا ہے۔
 افطار پارٹیوں کا انعقاد ہوتا ہے، مگر تہجد اور افطار کے چند قیمتی لمحے، جو دراصل دعا کی قبولیت کا خزانہ ہیں، ہماری غفلت کی نذر ہو جاتے ہیں۔
یہ ناقدری صرف ایک لمحے کی نہیں، بلکہ ایک عظیم موقع کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ جو وقت ہمیں اللہ سے جوڑ سکتا تھا، وہ ہمیں دنیا میں الجھا دیتا ہے۔ جو لمحے ہماری تقدیر کو بھی دعا کے ذریعے بدل سکتے تھے، وہ ہماری لاپروائی کے باعث ضائع ہو جاتے ہیں۔
 لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رمضان المبارک کو صرف رسم و رواج کا مہینہ نہ بنائیں، بلکہ اسے روحانی بیداری اور خود احتسابی کا ذریعہ بنائیں۔ تہجد کے لیے چند لمحے نیند قربان کرنا، اور افطار سے پہلے چند منٹ دنیا سے کٹ کر ربّ کریم کے سامنے جھک جانا کوئی مشکل کام نہیں، بلکہ یہی وہ سرمایہ ہے جو دنیا و آخرت دونوں میں کام آئے گا۔مختصر یہ کہ رمضان المبارک کے یہ بابرکت لمحات بار بار نصیب نہیں ہوتے۔ اگر ہم نے انہیں غفلت میں گزار دیا تو سواۓ افسوس و پچھتواۓ کے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور پتہ نہیں آئندہ رمضان ہمیں نصیب ہو نہ ہو۔ اس لیےآپ سے عاجزانہ التماس ہے اور گزارش ہے کہ رمضان المبارک کے ایک ایک لمحے کی قدر کریں بلخصوص تہجد اور افطار کے لمحات کی قدر کریں اور ان اوقات میں اپنے پیارے رب اللہ سے اپنی ضرورتوں کا سوال کریں، بہت سارے لوگ ان اوقات کی قدر کرتے ہؤے عبادت اور دعاؤں کا اہتمام کرتے ہیں امید ہے آپ بھی ہماری اس تحریر کو پڑھ کر عبادات اور دعاؤں کا اہتمام کریں گے اللہ تعالیٰ ہم سب کو اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرماۓ

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ