شبِ براءت کی آسمانی تجلی۔۔ازقلم : جمیل احمد ملنسار۔۔
شبِ براءت کی آسمانی تجلی۔۔
ازقلم : جمیل احمد ملنسار۔۔
ماہ شعبان کی ساعتوں میں اگر کوئی رات نور کی انتہا کو پہنچتی ہے تو وہ پندرہویں شب ہے—شبِ براءت، لیلۃُ البراءۃ۔ یہ وہ رات ہے جب آسمانوں سے فیصلے زمین کی طرف اترتے ہیں، جب رحمت اپنے جوبن پر ہوتی ہے اور تقدیر کے اوراق نئے سرے سے رقم کیے جاتے ہیں۔ اسی شب فرشتے قطار در قطار نازل ہوتے ہیں اور لوحِ محفوظ سے سال بھر کے احوال لکھے جاتے ہیں: کسی کی عمر بڑھا دی جاتی ہے، کسی کو واپس بلا لیا جاتا ہے؛ کسی کے رزق میں وسعت ہوتی ہے، کسی کی آزمائش مقرر کر دی جاتی ہے۔
نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا:
“شعبان کی پندرہویں رات اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف خصوصی نگاہِ رحمت فرماتا ہے، اہلِ ایمان کو بخش دیتا ہے، گناہگاروں کو مہلت دیتا ہے اور کفر و عناد پر اصرار کرنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔” (ابنِ ماجہ)
ذرا تصور کیجیے—یہ وہ رات ہے جب رحمت دریاؤں کی طرح بہتی ہے، جب توبہ کے ایک آنسو سے برسوں کے گناہ دھل جاتے ہیں، جب ندامت کی ایک سسکی زنجیروں کو توڑ دیتی ہے۔ یہ وہ ساعت ہے جب قبریں اہلِ ایمان کے لیے روشن ہو جاتی ہیں اور آسمان زمین کے قریب محسوس ہوتا ہے۔ ایک رات کی سچی بندگی، ایک سال کی لغزشوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔
اسی لیے اہلِ دل اس شب کو غفلت میں نہیں گزارتے۔ وہ تہجد کے سناٹے میں اٹھتے ہیں، قرآن کی شفا بخش آیات سے اپنے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں، خصوصاً سورۂ مُلک کی تلاوت کرتے ہیں جو قبر کے عذاب سے ڈھال بنتی ہے۔ ذکرِ الٰہی میں دل ڈوب جاتا ہے اور دعا میں آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ گھروں میں شور و ہنگامہ نہیں، بلکہ خاموش سجدے ہوتے ہیں؛ بے مقصد رسمیں نہیں، بلکہ زندوں اور مرحوموں کے لیے ٹوٹے ہوئے دل کی دعائیں ہوتی ہیں۔
لیکن اس نورانی رات کی اصل خوبصورتی سنت کی پابندی میں ہے۔ آتش بازی، بے بنیاد رسومات اور خود ساختہ طریقوں سے اجتناب ہی اس شب کی حقیقی حفاظت ہے۔ عبادت وہی معتبر ہے جو اطاعت کے سانچے میں ڈھلی ہو۔
یہ شب آزادی کی رات ہے—گناہوں سے آزادی، خوف سے آزادی، مایوسی سے آزادی۔
پس اس شب ہاتھ اٹھائیے اور دل سے کہیے:
“اے اللہ! میرا نام بھی ان لوگوں میں لکھ دے جنہیں تُو نے معاف فرما دیا۔”
اللہ کرے شبِ براءت کا یہ نور ہماری روحوں میں اتر جائے اور ساری زندگی کا چراغ بن کر جلتا رہے۔
Comments
Post a Comment