معاشرے میں تیزی سے پھیلنے والا ناسور (دیوثیت)۔ از قلم۔۔۔۔رضیہ سلطانہ الطاف پٹھان سولاپور۔
معاشرے میں تیزی سے پھیلنے والا ناسور (دیوثیت)
از قلم۔۔۔۔رضیہ سلطانہ الطاف پٹھان سولاپور۔
مشہور حدیث ہے کہ :
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«ثَلَاثَةٌ قَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَنَّةَ: مُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَالْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ، وَالدَّيُّوثُ الَّذِي يُقِرُّ فِي أَهْلِهِ الْخَبَثَ»
ترجمہ : تین اشخاص ایسے ہیں جن پر اللہ نے جنت حرام کر دی ہے: شراب کا عادی، والدین کا نافرمان، اور دیوث جو اپنے گھر والوں میں خباثت (فحاشی، بے حیائی) کو قبول کرتا ہے (یعنی روکتا نہیں)۔
(یہ حدیث مسند احمد، سنن نسائی، مشکوٰۃ المصابیح میں موجود ہے۔ محدثین نے اسے صحیح یا حسن قرار دیا ہے۔)
ایک اور روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ دَيُّوثٌ»
پوچھا گیا: یا رسول اللہ! دیوث کون ہے؟
فرمایا: «الَّذِي تَزْنِي امْرَأَتُهُ وَهُوَ يَعْلَمُ بِهَا»
ترجمہ: دیوث جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ پوچھا: دیوث کون؟ فرمایا: وہ جس کی بیوی بے حیائی کرے اور وہ اسے جانتا ہو (اور روکے نہیں یا برداشت کرے)۔
(یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ کتب حدیث میں آئی ہے، جیسے مسند احمد اور دیگر۔)
بیوی کے بے پردہ نکلنے سے متعلق
ایک روایت میں ہے:
«أَيُّمَا رَجُلٍ تَتَزَيَّنُ امْرَأَتُهُ وَتَخْرُجُ مِنْ بَابِ دَارِهَا فَهُوَ دَيُّوثٌ»
ترجمہ: جس مرد کی بیوی خود کو آراستہ کر کے گھر سے باہر نکلے، وہ دیوث ہے۔
(یہ روایت بھی متعدد کتب میں ملتی ہے، اور اس سے مراد غیرت کی کمی ہے۔)
موجودہ دور میں چل رہے مغربی تہذیب کے پیروکار مسلمان معاشرے پر ایک نظر ڈالتے ہیں
جہاں دیوثیت تیزی سے پھیلتی جارہی ہے یہ ناسور کیوں ؟اور کیسے پنپ رہا ہے ؟
ایک نظر معاشرے کے ان مرد حضرات پر ڈالتے ہیں ۔۔جو ایک سے زائد شادی کی خواہش رکھتے ہیں۔۔اسلام میں دوسری شادی کی اجازت ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی شادی شدہ عورت کو بہلا پھسلا کر اُس کا خلع کروا کے اس سے نکاح کرو
ہمارے معاشرے میں کُچھ ایسے بھی اسلام پر چلنے والے مرد اور خواتین کی مثالیں بہت ملتی ہیں ۔۔ دو شادی شدہ لوگوں کا اس طرح تعلق رکھنا۔ یہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے۔۔۔ ایسے رشتے اسلام میں حرام ہے ۔یہ ٹیلی ویژن اور موبائل پر آنے والے ڈیلی شوز دیکھنے کا نتیجہ ہے جو ہمارا معاشرہ بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے
ہمارے معاشرے میں کُچھ مرد حضرات ایسے بھی ہیں جو خود سے ہی بےخبر ہیں ۔۔ انہیں بیوی بچوں کی اپنے گھر کے خواتین کی کیا ہی خبر ہوگی۔۔
ان کے گھر کی خواتین کہاں ہیں ؟ اور کیا کررہے ہیں ؟کہاں جارہے ہیں ؟کس کے ساتھ جارہے ہیں ؟ ان سب باتوں کی خبر انہیں نہیں ہوتی ، اگر ان سب باتوں کا انہیں علم بھی ہو جائے تو یہ لوگ اندھے بہرے ہو جاتے ہیں ۔۔
اپنے گھر کی عورتوں کی غلط روش فحش گوئی یہ سب دیکھ کر خاموش ہو جاتے ہیں
ایسے مردوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیوث کہا ہے۔
دیوثیت مردوں میں پائے جانے والی وہ بدترین صفات ہے جو ہمارے معاشرے میں ناسور بیماری کی طرح پھیلتی جا رہی ہے۔۔
جو اپنے گھر میں بے حیائی اور غلط روش کو دیکھتا ہے اور اپنی انکھیں بند کر لیتا ہے وہ شخص غیرت مند نہیں ہوتا وہ دیوث کہلاتا ہے،حیرت ہوتی ہے اُن مردوں پر جو فضول باتوں کی وجہ سے عورتوں پر سختی کرتے ہیں۔۔آج کل کے کُچھ مرد حضرات میں اسلام کے لیے غیرت نام کی چیز نظر نہیں آتی، اللہ تعالیٰ مردوں کو باغیرت مند مومن مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین
Comments
Post a Comment