پاڈلی تعلقہ جننر میں عرسِ مبارک کی نورانی و روحانی تقریبات۔۔ صوفی حضرت عثمان جوہری صاحب کو عطیات و نوادرات سے سرفراز کیا گیا۔۔
جلگاؤں ( عقیل خان بیاولی) پاڈلی، تعلقہ جننر ضلع پونہ (مہاراشٹر) کی سرزمینِ مقدس ایک بار پھر انوار و تجلیات کا مرکز بنی، جہاں قطبِ زماں، تلمیذِ امامِ اعظم حضرت ابو حنیفہؒ و شاگردِ حضرت امام محمد شیبانیؒ، کاملِ معرفت و عرفاں، واقفِ رموزِ ظاہر و باطن حضرت سیدنا زین العابدین الدین عمر مدنی الحنفی عرف قطب شاہ فقیر بابا رحمۃ اللہ علیہ کے ١٢٣٤ویں عرسِ مبارک اور مست مولا، مست قلندر، شمشُ العلماء حضرت شمس الدین تاجی رحمۃ اللہ علیہ کے ١٤ ویں عرسِ مبارک کی تقریبات نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئیں۔
تاریخی روایات کے مطابق دوسری سن ہجری میں مکہ مکرمہ سے دینِ اسلام کی شمع فروزاں کرنے کے مقصد سے دکن الہند کی اس سرزمین پر تشریف لانے والے تابعین و تبع تابعین بزرگانِ دین نے تبلیغِ دین اور خدمتِ خلق کی ایسی بے مثال مثالیں قائم کیں جو رہتی دنیا تک انسانی تاریخ کا روشن باب رہیں گی۔ انہی عظیم المرتبت ہستیوں میں اہلِ بیت کے وارثین اور فقہ و حدیث کے آفتاب حضرت سیدنا عمر مدنی الحنفی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ہوتا ہے، جنہیں فقہ پر کامل عبور حاصل تھا۔ بڑے بڑے پیچیدہ مسائل آپ قرآن و سنت کی روشنی میں حل فرمایا کرتے۔ دو لاکھ سے زائد احادیث مبارکہ آپ کو ازبر تھیں۔ آپ نے درسِ قرآن دیا، پیغامِ اسلام عام کیا اور آپ کے اعلیٰ اخلاق و کردار کو دیکھ کر بے شمار افراد دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے۔ آپ کی کرامات، تعلیمات اور خدمات کے تذکرے آج بھی عاشقانِ اہلِ بیت کی محفلوں کو معطر کرتے ہیں۔ حسبِ قدیم روایت امسال بھی عرسِ مبارک کی تقریبات
*حضرت سید ابو الحسن محبُّ اللہ الحسنی الحسینی القادری الرفاعی* (طوّل اللہ عمرہ) کی سرپرستی اور سجادہ نشینی میں منعقد ہوئیں۔ اس موقع پر غسلِ شریف، صندل شریف، پرچم کشائی اور چادر پوشی کی روح پرور رسومات ادا کی گئیں۔ قرآن خوانی، لنگرِ عام، نذرانۂ درود و سلام، نعتِ رسول ﷺ، محفلِ سماع اور شانِ اولیاء میں منقبتوں کا اہتمام کیا گیا۔ بلا تفریق مذہب، ملک بھر سے تشریف لانے والی علمی و روحانی شخصیات اور عوام الناس نے اپنی عقیدت و مرادیں پیش کیں۔ انہی عظیم المرتبت شخصیات میں صوفیِ شاعر حضرت عثمان جوہری صاحب نے بھی شرکت فرمائی اور حضرت عمر مدنی رحمۃ اللہ علیہ اور اہلِ قریش قبرستان میں مدفون اہلِ بیت و اولیائے کرام کی شان میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔ واضح رہے کہ اسی آستانۂ عالیہ سے رواں برس حضرت شمس الدین تاجی رحمۃ اللہ علیہ کے تبرکات شجرہ نسبتی سے صوفی شاعر حضرت عثمان جوہری صاحب کو نوازا گیا، جو علاقہ خاندیش کے لیے ایک عظیم روحانی سرمایہ ثابت ہوگا۔ عاشقانِ اولیاء یقیناً ان فیوض و برکات سے مستفید ہوں گے۔ اسی سلسلے میں ٨ فروری ٢٠٢٦ء، بمطابق ١٩ شعبان المعظم، بروز اتوار ملک بھر سے تشریف فرما مشائخِ طریقت، خلفائے کرام، فقرا، علما و مفتیانِ عظام کی موجودگی میں حضرت سید ابو الحسن محبُّ اللہ الحسنی الحسینی مدظلہ کے دستِ مبارک سے حضرت عثمان جوہری کو سلسلہ چشتیہ، سہروردیہ، قادریہ، رفاعیہ اور تاجی میں شامل کیا گیا موصوف گزشتہ نصف صدی سے روحانی،قلمی، تصوّف خدمات میں مصروف ہیں۔ بے شمار روحانی و جسمانی مریض آپ کے ذریعے اللہ الحکیم الشافی کے حکم سے شفا یاب ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر موصوف نے اظہارِ خیال فرماتے ہوئے کہا کہ ہمارے مستقبل کے منصوبوں میں صوبہ مہاراشٹر میں جو عظیم ہستیاں آباد ہیں ان کی زندگی کے چند ایک پہلووںکو اجاگر کر نسل نو کو بزرگانِ دین کی دینی کارگزاریاں اور خدمت خلق کے سامنے پیش کرنا خانقاہی و نظام تصوف جو اب نہ کے برابر رہا ہے اس کی تشریح و تفسیر اشاعت کرنا مساجد مدارس خانقاہوں قبرستان و وقف املاک کے لئے خدمات انجام دینا اور خانقاہی نظام کے ذریعے نئی نسل تصوف اور روحانیت سے وابستہ کرنا ہے۔ ان شاء اللہ اس روحانی فیضان سے معاشرہ نورانیت عقیدت طریقت علمیت روحانیت اور اصلاح کا مرکز بنے گا۔ بزرگانِ دین کی قربانیوں کو سمجھیں یہی ہماری کوشش رہے گی ان شاء اللہ ۔
Comments
Post a Comment