بڑھاپا: زندگی کی آخری دستک۔ ایک ناقابلِ فراموش حقیقت۔۔ازقلم : حکیم شاہ مدثر، عمرکھیڑ۔(سائیکالوجسٹ اینڈ مینٹل ہیلتھ کاؤنسلر)
بڑھاپا: زندگی کی آخری دستک۔
ایک ناقابلِ فراموش حقیقت۔۔
ازقلم : حکیم شاہ مدثر، عمرکھیڑ۔
(سائیکالوجسٹ اینڈ مینٹل ہیلتھ کاؤنسلر)
7719031366
ایک دن ایک بزرگ اپنی بیٹی کے ساتھ میرے کلینک پر تشریف لائے۔ ان کی عمر تقریباً 76 سال کے قریب تھی۔ چہرے پر عمر کی تھکن نمایاں تھی، وہ اپنی بیٹی کا سہارا لے کر آہستہ آہستہ قدم بڑھا رہے تھے۔ کمزور بدن اور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ میرے سامنے بیٹھ گئے۔انہیں شوگر، بلڈ پریشر، فالج کے اثرات لاحق تھے، اور دو مرتبہ دل کا آپریشن بھی ہو چکا تھا۔ وہ مختلف بیماریوں کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ چلنا پھرنا انتہائی دشوار ہوچکا تھا، انہوں نے بتایا کہ ان کی اولاد میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، مگر بیٹا زیادہ توجہ نہیں دیتا، ساری خدمت اور دیکھ بھال بیٹیاں ہی کرتی ہیں۔ اس بار وہ نیند کی کمی کی شکایت لے کر آئے تھے۔ میں نے معائنہ کیا، تشخیص کے مطابق دوا تجویز کی، اور انہیں تسلی دینے کی کوشش کی۔ میری تسلی کے بعد وہ ایک گہری اداسی میں ڈوب گئے۔ ان کی آنکھوں میں بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔ انہوں نے بھاری آواز میں کہا: “بیٹا! اللہ موت دے تو بہتر ہے… بہت تکلیف میں ہوں۔ کوئی سہارا نہیں۔ بس یہی بیٹی ہے… اب زندگی بہت بوجھ لگ رہی ہے…” یہ الفاظ دل کو چیر دینے والے تھے۔ میں نے انہیں دلاسا دیا، صبر کی تلقین کی، اللہ کی رحمت کی امید دلائی، اور سمجھایا کہ زندگی کے یہ آخری لمحے بھی آزمائش ہیں، اور اللہ کے نزدیک صبر کرنے والوں کا مقام بہت بلند ہے۔ جب وہ بزرگ اٹھ کر رخصت ہوئے تو میرے دل میں فوراً رسول اللہ ﷺ کی وہ دعا تازہ ہوگئی جس میں آپ ﷺ نے بڑھاپے کی کمزوری اور بے بسی سے اللہ کی پناہ مانگی ہے۔ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ "اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کمزوری سے، سستی سے، بزدلی سے، اور بڑھاپے سے۔"(صحیح البخاری) اور ایک دوسری روایت میں آپ ﷺ نے یوں دعا فرمائی: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَرْذَلِ الْعُمُرِ "اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس عمر سے جس میں انسان انتہائی کمزور اور محتاج ہو جائے۔"(صحیح البخاری) واقعی بڑھاپا انسان کو اس مقام تک پہنچا دیتا ہے جہاں جسم ساتھ چھوڑ دیتا ہے، طاقت ماند پڑ جاتی ہے، اور انسان دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ ہم اللہ سے ایسے بے بس بڑھاپے سے پناہ مانگیں، اور اگر آزمائش آ جائے تو صبر اور امید کا دامن نہ چھوڑیں۔ بڑھاپا انسانی زندگی کا ایک لازمی اور فطری مرحلہ ہے۔ دنیا میں آنے والا ہر انسان عمر کے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے آخرکار اس منزل تک پہنچتا ہے. جہاں جسم کی طاقت آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔ وہ توانائی جو جوانی میں زندگی کو دوڑاتی تھی، بڑھاپے میں تھکن اور کم زوری میں بدل جاتی ہے۔ صرف جسم ہی نہیں، بلکہ ذہن اور فکر کی صلاحیتیں بھی رفتہ رفتہ ماند پڑنے لگتی ہیں۔ اس عمر میں انسان پیسہ کمانے کے قابل نہیں رہتا۔ وہ جو کل تک دوسروں کے لیے سہارا تھا، اب خود سہارے کا محتاج ہوجاتا ہے۔ جب کم زوری بڑھتی ہے تو روزمرّہ کے چھوٹے چھوٹے کام بھی دشوار محسوس ہونے لگتے ہیں، اور انسان کو دوسروں کی مدد کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہوجاتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج کے مصروف اور مادّی دور میں بوڑھوں کو سماج کا ایک غیر ضروری بوجھ سمجھا جانے لگا ہے۔ نوجوان نسل اپنی مصروفیات اور زندگی کی دوڑ میں اس قدر الجھ چکی ہے کہ بزرگوں کی طرف توجہ دینا گویا وقت کا ضیاع سمجھا جاتا ہے۔ انہیں فرصت نہیں ملتی کہ وہ اپنے ان عزیزوں کے پاس بیٹھ سکیں جو عمر کے آخری حصے میں داخل ہوچکے ہیں، ان سے گفتگو کریں، ان کے جذبات کو سمجھیں، ان کے دکھ درد سنیں اور ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ آج بوڑھوں کی حیثیت بے قیمت سی بنا دی گئی ہے جسے محض بے کار سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جن بزرگوں نے عمر بھر خاندان کی بنیادیں مضبوط کیں، اولاد کو پالا، قربانیاں دیں اور زندگی کے تجربات سمیٹے، آج انہی کو سماج کے حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ گویا ان کی موجودگی کو بوجھ سمجھا جاتا ہے اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ہی عافیت محسوس کی جاتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف انسانیت کے خلاف ہے بلکہ اخلاقی زوال کی بدترین علامت بھی ہے، کیونکہ جس معاشرے میں بزرگوں کی قدر نہ ہو وہ معاشرہ اپنی روح اور اپنی بنیاد دونوں کھو بیٹھتا ہے۔
بوڑھے اور ہمارا معاشرہ :
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بڑھاپا انسان کی زندگی کا وہ مرحلہ ہے جہاں جسمانی طاقت کمزور ہو جاتی ہے، صحت جواب دینے لگتی ہے، اور انسان آہستہ آہستہ دوسروں کے سہارے کا محتاج ہو جاتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارا معاشرہ جسے اخلاق، تہذیب اور انسانی قدروں کا امین ہونا چاہیے تھا، آج بوڑھوں کے ساتھ سخت اور بے رحم رویہ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ وہ بزرگ جو کبھی گھر کے ستون تھے، جنہوں نے اپنی جوانی، اپنی محنت اور اپنی زندگی اولاد کے لیے قربان کر دی، آج بعض گھروں میں انہیں بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے۔ ان کی باتوں کو اہمیت نہیں دی جاتی، ان کے تجربات کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اور ان کی موجودگی کو گھر کی پریشانی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کی بیماری کو عذاب سمجھ لیا جاتا ہے اور ان کی خدمت کو مصیبت قرار دے دیا جاتا ہے، حالانکہ یہی بڑھاپا اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے اور والدین کی خدمت "حصولِ جنت" کا ذریعہ ہے۔ کئی بوڑھے والدین ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی زندگی کا ہر دن رسوائی کی طرح ہوتا ہے۔ کبھی انہیں سخت لہجے میں جواب دیا جاتا ہے، کبھی ان سے لڑائی جھگڑا کیا جاتا ہے، کبھی ان کی ضرورتوں کو بے جا مطالبہ سمجھا جاتا ہے اور کبھی انہیں تنہائی کے اندھیروں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ وہ گھر جس میں کبھی ان کی عزت اور حکم چلتا تھا، آج وہی گھر ان کے لیے قید خانہ بن جاتا ہے۔ جب اولاد نافرمان نکل جائے تو والدین کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ تیمارداری، علاج، دوائی اور ڈاکٹر کے پاس لے جانا بھی اولاد پر بوجھ لگنے لگتا ہے۔ بعض لوگ تو والدین کے علاج پر خرچ کرنا بھی فضول سمجھتے ہیں، اور یہ بھول جاتے ہیں کہ انہی والدین نے اپنی کمائی، اپنی نیندیں اور اپنی صحت اولاد پر قربان کی تھی۔ ایسے ماحول میں بوڑھے والدین خود کو اکیلا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ان کے دل میں ایک گہری اداسی آہستہ آہستہ گھر کرنے لگتی ہے، وہ جیتے جی مرنے لگتے ہیں، اور بے بسی کے عالم میں موت کی دعائیں کرنے لگتے ہیں۔ یہ الفاظ صرف کمزوری نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی بے حسی کا نوحہ ہوتے ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ بعض لوگ ظلم کی اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ والدین کو گھر سے نکال دیتے ہیں، انہیں Old Age Home میں چھوڑ آتے ہیں یا یوں تنہا کر دیتے ہیں جیسے ان کا وجود ہی بے کار ہو۔ یہ صرف والدین کے ساتھ ظلم نہیں بلکہ انسانیت، اخلاق اور دین کے ساتھ بھی سنگین جرم ہے۔ والدین کو نکال دینا گویا اپنے ہی ماضی کو ٹھکرا دینا اور اپنی جڑیں کاٹ دینے کے مترادف ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم ماڈرن ازم کے نام پر اپنی تہذیب کھو بیٹھے ہیں۔ ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ آج جو والدین بوڑھے ہیں، کل ہم بھی اسی مقام پر ہوں گے۔ آج اگر ہم نے ان کے ساتھ ظلم کیا، تو کل ہماری اولاد ہمارے ساتھ بھی یہی کرے گی۔ بوڑھے والدین بوجھ نہیں بلکہ رحمت ہیں، ان کی دعائیں سایہ ہیں، ان کی خدمت سعادت ہے، اور ان کی دلجوئی اللہ کی رضا کا سبب ہے۔ جس گھر میں والدین خوش ہوں، وہ گھر حقیقت میں جنت کا نمونہ ہوتا ہے، اور جس معاشرے میں بوڑھوں کی عزت نہ ہو، وہ معاشرہ اپنی انسانیت کھو بیٹھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَا أَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخًا لِسِنِّهِ إِلَّا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ مَنْ يُكْرِمُهُ عِنْدَ سِنِّهِ “کوئی نوجوان کسی بوڑھے کے ساتھ اس کے بڑھاپے کی وجہ سے عزت و احترام کا معاملہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مشیّت سے اس کے بڑھاپے میں دوسرے لوگ اس کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئیں گے۔‘‘(سنن ترمذی) اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اِنَّ مِن اِجلَالِ اللّٰہِ تَعَالیٰ اِکرَامُ ذِی الشَّیبَۃِ المُسلِمِ "کسی مسلمان عمر رسیدہ شخص کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا اللہ تعالیٰ کی تعظیم و توقیر کے مثل ہے۔"(ابو داؤد) اسلام نے بوڑھوں کے ساتھ عزت و احترام اور حسنِ سلوک کو نہایت اہم مقام دیا ہے۔ ایک حدیث حضرت معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اِذَا أتَاکُم کَبِیرُ قُومٍ فَاکرِمُوہُ "جب تمہارے پاس کوئی بوڑھا شخص آئے تو اس کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آؤ۔"(ابن ماجہ) اسلام بوڑھوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنے، انہیں بے کار سمجھنے اور سماج پر بوجھ تصور کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا، بلکہ وہ انہیں معاشرے کا قیمتی سرمایہ قرار دیتا ہے۔ اس کی نگاہ میں سماج کی خوش حالی، حسن اور رونق انہی بزرگوں کے دم سے ہے جنہوں نے عمر بھر قربانیاں دیں، زندگی کے تجربات سمیٹے اور نسلوں کی تربیت کی۔
حضرت ابو درداءؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:
اَبغُونِی الضُّعَفَائَ، فَاِنَّمَا تُرزَقُونَ وَتُنصَرُونَ بِضُعَفَائِکُم ’’میری خوش نودی کمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرکے حاصل کرو، حقیقت میں تمہیں رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے تو وہ تمہارے کمزوروں ہی کی وجہ سے ہے۔‘‘ (ابو داؤد) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کمزور، بیمار اور بوڑھے افراد کسی معاشرے پر بوجھ نہیں بلکہ اللہ کی رحمت اور مدد کے اسباب ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کو کمزوروں، بیماروں اور بوڑھوں کا اس قدر خیال تھا کہ آپ ﷺ نے نماز باجماعت پڑھانے والوں کو بھی ان کی رعایت کا حکم دیا۔ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اِذَا صَلّٰی أحَدُکُم فَلیُخَفِّف، فَاِنَّ مِنھُمُ الضَّعِیفَ وَالسَّقِیمَ وَالکَبِیرَ، وَاِذَا صَلّٰی أحَدُکُم لِنَفسِہِ فَلیُطَوِّل مَا شَاء "جب تم میں سے کوئی نماز پڑھائے تو اسے مختصر کرے، اس لیے کہ مقتدیوں میں کمزور، بیمار اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں، البتہ جب کوئی تنہا نماز پڑھے تو جتنا چاہے طول دے۔" (بخاری) یہ اسلام کی وہ عمومی ہدایات ہیں جو بوڑھوں کے ساتھ حسنِ معاملہ کے بارے میں دی گئی ہیں۔ اور اگر بوڑھے شخص کے ساتھ رشتہ داری بھی ہو، خصوصاً والدین کا تعلق ہو، تو پھر اسلام اس خدمت اور ادب کو اور زیادہ ضروری قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید میں بوڑھے والدین کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا “اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے ادب و احترام کے ساتھ بات کرو۔ اور رحم و شفقت کے ساتھ ان کے سامنے عاجزی کا بازو جھکائے رکھو، اور دعا کرو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما، جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا۔” (سورۃ بنی اسرائیل 23-24) یہی اسلام کی تعلیم ہے کہ بوڑھے ہمارے لیے رحمت ہیں، اور ان کی خدمت دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
بڑھاپے کا افسوس ناک منظر :
بڑھاپے کا ایک افسوس ناک منظر بھی ہے جسے یہاں پیش کرنا ضروری ہے۔ یہ عمر نہ صرف جسمانی کمزوری کا نام ہے بلکہ روحانی بیداری، آخرت کی تیاری اور اللہ کی طرف رجوع کا سب سے بڑا موقع بھی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کے دور میں بے شمار بوڑھے ایسے ہیں جو اچھی صحت، مال و دولت اور دنیاوی آسائشیں رکھنے کے باوجود سکون سے محروم ہیں۔ ان کے پاس سب کچھ ہے، مگر دل کا اطمینان نہیں۔ نہ کسی لمحے چین ہے، نہ روح کو راحت۔ یہ عجیب حقیقت ہے کہ بہت سے لوگ بڑھاپے میں بھی دنیا کے دھوکے سے باہر نہیں نکلتے۔ بیٹا، بیٹی، بیوی سب موجود ہوتے ہیں مگر نافرمانی، بے ادبی اور بے توجہی کا ماحول چھایا رہتا ہے۔ مال و دولت کے انبار ہونے کے باوجود کوئی عزت اور فرمانبرداری نہیں کرتا۔ ایسے لوگ اپنے جسمانی اعتبار سے تو قبر کے قریب پہنچ چکے ہوتے ہیں، مگر دل اور عمل کے اعتبار سے فسق و فجور میں مبتلا رہتے ہیں۔ کئی بوڑھے افراد گھنٹوں ٹی وی، فلموں اور انٹرنیٹ کے فضول مشاغل میں اپنی زندگی ضائع کرتے ہیں۔ وقت کا قیمتی سرمایہ بے مقصد تفریح میں بہا دیتے ہیں۔ وہ عمر جس میں انسان کو سجدوں کی لذت، قرآن کی صحبت اور اللہ کی قربت میں ڈوب جانا چاہیے، اسی عمر میں وہ غفلت میں ڈوبے رہتے ہیں۔ نماز و روزہ سے کوئی سروکار نہیں، رب کو راضی کرنے کی کوئی فکر نہیں، اللہ کا ذکر بھلا بیٹھتے ہیں۔ یہی غفلت ان کے دلوں سے سکون چھین لیتی ہے، اور ان کا بڑھاپا پریشانی اور تنگی میں بدل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صاف فرمایا: وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ“اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کی زندگی تنگ ہو جائے گی، اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔”(سورۃ طٰہٰ: 124) یہ آیت اعلان ہے کہ جو اللہ کو بھلا دے، اللہ اس کی زندگی سے سکون چھین لیتا ہے۔ پھر چاہے وہ کتنی ہی دولت کیوں نہ رکھتا ہو، اس کا دل بے چین رہتا ہے۔ جو لوگ ساری زندگی نفسانی خواہشات، شہوتوں اور دنیاوی لذتوں میں گم رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ بھی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ پھر بڑھاپے میں بھی ان کے اندر رجوع کی توفیق پیدا نہیں ہوتی۔ نیکی کی رغبت ختم ہو جاتی ہے، آخرت کا تصور دل سے نکل جاتا ہے۔ پھر شیطان اُن پر مسلط ہو جاتا ہے، جو انہیں حق کی طرف آنے سے روکتا ہے، نیکی کو مشکل اور گناہ کو آسان بنا دیتا ہے۔ اسی طرح کئی لوگ بڑھاپے میں صبح سے شام تک گھر کے سامنے بیٹھ کر وقت برباد کرتے نظر آتے ہیں، یا پھر ہوٹلوں اور چوراہوں پر بے مقصد کئی گھنٹے برباد کرتے ہیں۔ نہ اللہ کی عبادت، نہ قرآن کی تلاوت، نہ دین کی خدمت… بس ایک خالی اور بے روح زندگی۔ یہ بڑھاپا سعادت نہیں بلکہ محرومی ہے۔ یہ وہ عمر ہے جس میں انسان کو قبر اور آخرت کی تیاری کرنی چاہیے، مگر وہ لاپرواہ اور غفلت میں ڈوبے رہتے ہیں۔
اہم پیغام :
اے انسان! بڑھاپا صرف عمر کا بدل جانا نہیں، یہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت کی دستک ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جو آہستہ آہستہ شروع ہوتا ہے اور پھر ساٹھ سال کے قریب پہنچ کر انسان کو بتا دیتا ہے کہ اب دنیا کی شام قریب ہے۔ جسم کمزور ہونے لگتا ہے، صحت جواب دینے لگتی ہے، بیماریاں سایہ بن کر ساتھ چلنے لگتی ہیں، اور وہ طاقت جو کبھی انسان کو بے فکر رکھتی تھی، اب تھکن اور بے بسی میں بدل جاتی ہے۔ اس وقت انسان کو صاف دکھائی دینے لگتا ہے کہ زندگی کے دن گنے چنے رہ گئے ہیں، اور موت کی حقیقت اب دور کی بات نہیں رہی۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان کو پہلی بار شدت سے احساس ہوتا ہے کہ جوانی کی صحت، قوت، خوشیاں اور آسائشیں سب اللہ کی عطا تھیں۔ وہ نعمتیں جنہیں ہم ہمیشہ معمولی سمجھتے رہے، جن پر کبھی شکر ادا نہ کیا، اب وہ ایک ایک کر کے ہاتھ سے نکلنے لگتی ہیں۔ بڑھاپا انسان کے اندر غفلت کے پردے چاک کر دیتا ہے اور اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو نئے شعور کے ساتھ دیکھے۔ ہر سانس، ہر قدم اور ہر لمحہ اللہ کا انعام ہے، اور یہی حقیقت بڑھاپا انسان کے دل پر نقش کر دیتا ہے۔ بڑھاپا انسان کو جھنجھوڑ کر کہتا ہے کہ اب وقت کم ہے، مہلت محدود ہے، اور زندگی کے آخری صفحات کھل چکے ہیں۔ جوانی میں انسان خواہشات کے پیچھے بھاگتا ہے، دنیا کے شور میں کھو جاتا ہے، مال، منصب، شہرت اور لذتوں کی دوڑ میں اپنی اصل منزل بھول جاتا ہے۔ مگر بڑھاپا اسے روک کر سوال کرتا ہے: تم کہاں جا رہے ہو؟ تم نے اپنے نامہ اعمال میں کیا جمع کیا؟ تم نے آخرت کے سفر کے لیے کیا تیاری کی؟ تم نے اپنی عمر کے قیمتی سال کہاں صرف کیے؟ تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا یا انہیں غفلت میں گنوا دیا؟ یہ مرحلہ انسان کے لیے آخری موقع ہے، آخری دروازہ ہے، آخری دستک ہے۔ وہ خاموش مگر فیصلہ کن صدا جو بتا دیتی ہے کہ اب مہلت کے لمحے ختم ہونے والے ہیں۔ جو شخص اس دستک کو سن کر بھی غفلت میں سویا رہے، وہ اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ضائع کر بیٹھتا ہے۔ کیونکہ بڑھاپا وہ وقت ہے جہاں آخرت کی حقیقت پوری طرح سامنے آ جاتی ہے۔ یہ وہ عمر ہے جب قبر کا تصور قریب محسوس ہوتا ہے، جب جنازے صرف دوسروں کے نہیں بلکہ اپنے انجام کی خبر بن جاتے ہیں۔ اے انسان! بڑھاپا بوجھ نہیں، یہ آخرت کی تیاری کا آخری موقع ہے۔ یہ وقت ہے کہ آدمی دنیا کے فریب سے نکل کر اپنے رب کی طرف پلٹ آئے، اپنے گناہوں پر نادم ہو، سچی توبہ کرے، اپنے باقی سانسوں کو ذکر، نیکی اور خیر کے چراغ سے روشن کر لے۔ یہ وہ گھڑی ہے جب دل کو نرم ہونا چاہیے، آنکھوں کو اللہ کے خوف سے بھیگ جانا چاہیے، زبان کو استغفار سے تر ہونا چاہیے، اور زندگی کا رخ بدل جانا چاہیے۔ کیونکہ اس کے بعد نہ کوئی دوسرا وقت ہے، نہ کوئی نئی مہلت… پھر صرف قبر کی خاموشی ہے اور اعمال کا حساب۔ پھر نہ جوانی لوٹے گی، نہ صحت واپس آئے گی، نہ دنیا کی مہلت دوبارہ ملے گی۔ انسان جس دنیا میں برسوں جیتا رہا، ایک دن اسی دنیا کو چھوڑ کر اکیلا قبر کی اندھیری دہلیز میں اتر جائے گا، جہاں نہ اولاد ساتھ ہوگی، نہ مال، نہ منصب، نہ دوست، نہ رشتہ دار… ساتھ صرف اعمال ہوں گے۔
عقل مند وہ ہے جو بڑھاپے کو محرومی نہیں بلکہ سعادت سمجھے، اور اس دروازے کے بند ہونے سے پہلے اپنے رب کو راضی کر لے۔ جو بڑھاپے میں جاگ گیا، وہ کامیاب ہو گیا، اور جو بڑھاپے میں بھی غفلت میں ڈوبا رہا، وہ ہمیشہ کے لیے خسارے میں پڑ گیا۔ بڑھاپا انسان کے لیے آخری پیغام ہے، آخری تنبیہ ہے، آخری موقع ہے کہ وہ اپنی زندگی کے باقی دنوں کو اللہ کی اطاعت میں گزار کر کامیابی کی راہ پا لے۔
پس اے انسان! بڑھاپے کی دستک کو سنو، اس سے پہلے کہ یہ دستک ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے، اور تمہیں واپس لوٹنے کا کوئی موقع نہ ملے۔ اپنے رب کی طرف پلٹ آؤ، اپنے انجام کو سنوار لو، اور اس دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے اپنے لیے نجات کا سامان جمع کر لو۔
یہ بڑھاپا زندگی کی آخری شام ہے
کرلو خدا کو راضی یہی پیغام ہے
Comments
Post a Comment