روزہ اور صحت۔۔ ازقلم : ڈاکٹر سروش الرحمٰن خان۔(یونانی میڈیکل آفیسر و سابق صدر یونانی ڈاکٹرس ایسوسیشن اکولہ)


روزہ اور صحت۔
ازقلم : ڈاکٹر سروش الرحمٰن خان۔
(یونانی میڈیکل آفیسر و سابق صدر یونانی ڈاکٹرس ایسوسیشن اکولہ)

روزہ رکھنا صرف ایک دینی فریضہ ہی نہیں بلکہ جدید طبی تحقیق کے مطابق انسانی جسم کے لیے ایک جامع 'سرجری' اور 'ڈیٹوکس' کا درجہ رکھتا ہے۔ 
روزہ محض پیاس اور بھوک کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی جسم کی 'سروسنگ' اور روح کی بالیدگی کا ایک مکمل نظام ہے۔
روزہ اور صحت پرکچھ ایسے تحقیقی نکات اور طبی حقائق پیش ہیں جو عام طور پر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں، لیکن انسانی جسم پر ان کے اثرات انتہائی دوررس ہیں۔
1. آٹو فیگی (Autophagy): جسمانی صفائی کا خودکار نظام.
جدید طب میں روزے کے حوالے سے سب سے اہم دریافت آٹو فیگی ہے۔ جاپانی سائنسدان یوشینوری اوسومی (Yoshinori Ohsumi) کو اسی تحقیق پر 2016 میں نوبل انعام دیا گیا۔
میکانزم: جب انسان طویل وقت تک بھوکا رہتا ہے، تو جسمانی خلیات اپنی بقا کے لیے اندرونی کچرا، زہریلے مادے اور ناکارہ پروٹینز کو کھانا شروع کر دیتے ہیں۔
فائدہ: اس عمل سے کینسر جیسے موذی امراض کے خطرات کم ہو جاتے ہیں اور نئے، صحت مند خلیات پیدا ہوتے ہیں۔
2. میٹابولزم اور وزن میں کمی:
روزہ جسمانی میٹابولزم کو منظم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
روزے کے دوران خون میں انسولین کی سطح کم ہوتی ہے، جس سے جسم ذخیرہ شدہ چربی (Fat) کو پگھلانے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہ عمل ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔ لیکن ڈاکٹر کا مشورہ ضروری ہے۔
ہضم کا نظام Digestive System : مسلسل کام کرنے والے معدے اور آنتوں کو آرام ملتا ہے، جس سے ہاضمے کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
3. دماغی صحت اور اعصابی بہتری:
تحقیق بتاتی ہے کہ روزہ دماغی افعال میں تیزی لاتا ہے:
BDNF پروٹین: فاقہ کشی کے دوران دماغ میں Brain-Derived Neurotrophic Factor نامی پروٹین کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو نئے اعصابی خلیوں کی نشوونما میں مدد دیتی ہے۔
بیماریوں سے تحفظ: روزہ الزائمر (Alzheimer's) اور پارکنسنز جیسی بیماریوں کے خلاف مدافعتی دیوار فراہم کرتا ہے۔
4. دل کی صحت اور بلڈ پریشر:
روزے کے دوران جسم میں کولیسٹرول اور ٹرائگلیسرائڈز (Triglycerides) کی سطح میں واضح کمی دیکھی گئی ہے:
بلڈ پریشر: نمکیات کے توازن اور تناؤ میں کمی کی وجہ سے بلڈ پریشر نارمل رہتا ہے۔
سوجن (Inflammation) میں کمی: دائمی سوجن دل کی بیماریوں کی جڑ ہے؛ روزہ جسم میں سوزش پیدا کرنے والے عناصر کو کم کرتا ہے۔
5. روزے کے دوران "ہارمونل ریگولیشن" (Hormonal Balance):
 روزہ صرف وزن کم نہیں کرتا بلکہ جسم کے ہارمونز کے پورے نظام کو "ری سیٹ" کر دیتا ہے:
گروتھ ہارمون (HGH): طبی تحقیقات کے مطابق، روزے کے دوران جسم میں Human Growth Hormone کی سطح میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ ہارمون پٹھوں (Muscles) کو مضبوط بنانے، چربی جلانے اور بڑھاپے کے اثرات کو روکنے (Anti-aging) میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
لیپٹن (Leptin): روزہ جسم میں 'لیپٹن' نامی ہارمون کی حساسیت کو بہتر بناتا ہے۔ یہ وہ ہارمون ہے جو دماغ کو بتاتا ہے کہ پیٹ بھر گیا ہے۔ روزے سے خوراک کی بے جا طلب (Cravings) ختم ہو جاتی ہے۔
6. ذہنی سکون اور "اینڈورفنز" 
 (Endorphins):
روزے کا اثر صرف جسم پر ہی نہیں بلکہ نفسیات پر بھی ہوتا ہے:
روزہ رکھنے کے چند دنوں بعد خون میں اینڈورفنز کی سطح بڑھ جاتی ہے، جس سے انسان کو ذہنی سکون، ہوشیاری اور خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ اسے طبی زبان میں "Fasting High" بھی کہا جاتا ہے۔
یہ ذہنی تناؤ (Stress) اور بے چینی (Anxiety) کو کم کرنے کا ایک قدرتی طریقہ ہے۔
 7. گردوں اور خون کی صفائی:
عام خیال کے برعکس، اگر پانی کا صحیح استعمال کیا جائے تو روزہ گردوں کے لیے مفید ہے:
روزے کے دوران جسم کا مدافعتی نظام خون میں موجود فاسد مادوں کو فلٹر کرنے میں زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے۔
8. جسم میں "Detoxification" کا عمل تیز ہونے سے جلد (Skin) صاف ہوتی ہے اور ایکنی (Acne) جیسے مسائل کم ہوتے ہیں۔
متوازن طرزِ زندگی: سحر و افطار کا انتخاب
روزے کے طبی فوائد حاصل کرنے کے لیے دسترخوان کی ترتیب کچھ یوں ہونی چاہیے:
سحری: 
توانائی کا خزانہ
کیا کھائیں: جو کا دلیہ، دہی، ابلے ہوئے انڈے، اور بغیر چھنے آٹے کی روٹی۔
 یہ غذائیں دیرپا توانائی فراہم کرتی ہیں اور سارا دن نقاہت محسوس نہیں ہونے دیتیں۔
افطاری: 
 کھجور اور سادہ پانی کا استعمال (سنتِ نبوی اور بہترین سائنس)۔ تازہ پھلوں کا استعمال 
کیا نہ کھائیں: سموسے، پکوڑے اور سافٹ ڈرنکس سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ معدے پر بوجھ بنتے ہیں۔
پانی کا شیڈول: 
افطار سے سحر تک وقفے وقفے سے 8-10 گلاس پانی پی کر جسم کو ہائیڈریٹ رکھیں۔
طبی مشورے (Golden Tips):
قیلولہ: دوپہر کی مختصر نیند دماغ کو تروتازہ رکھتی ہے۔
ورزش: افطار سے آدھا گھنٹہ پہلے يا تراویح کے بعد کی ہلکی واک چربی جلانے کا بہترین وقت ہے۔
نمکیات کا توازن: سحری میں دہی کا استعمال پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے۔
روزہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی "بائیولوجیکل تھراپی" ہے جو نہ صرف گناہوں کو دھوتی ہے بلکہ جسم کو بھی بیماریوں سے پاک کر کے ایک نئی زندگی بخشتی ہے۔ اگر ہم سنت کے مطابق سادہ خوراک اپنائیں، تو رمضان المبارک ہماری زندگی کا سب سے صحت مند مہینہ بن سکتا ہے۔اللّٰہ تعالٰی ہمیں مکمل روحانی اور جسمانی صحت عطا فرمائے۔امین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ