صدقہ فطر اور فدیوں کے اناج کی جمع و تقسیم۔ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔

صدقہ فطر اور فدیوں کے اناج کی جمع و تقسیم۔
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔

   علاقہ کوکن پر اللہ تعالی کا یہ بھی ایک فضل و کرم اور انعام و احسان ھیکہ یہاں کے اکابر اسلاف اور بزرگوں نے اپنے اپنے گاوں میں جماعت المسلیمین کے ذریعے ایک بہترین نظام قائم فرمایا ہے جسکی وجہ سے پورا گاوں آپس میں متحد و متفق اور ایک جوٹ رہتا ہے اور بہت سارے مسائل جماعت المسلمین کے ذریعے ہی حل کئے جاتے ہیں خوشی ہو یا غمی یا کوئی اور پریشانی یا مصیبت ہو کوئی بھی شخص اپنے آپکو اکیلا اور تنہا محسوس نہیں کرتا بلکہ ہر موقع پر پوری جماعت المسلمین اسکے ساتھ اور اسکے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے 
    رمضان المبارک کا مہینہ قریب آرہا ہے جو بڑی رحمتوں برکتوں اور فضیلتوں کا اور اجر و ثواب کے حاصل کرنیکا مہینہ ہے اور شریعت مطہرہ نے بھی اس مہینے میں صدقہ و خیرات کرنے اور روزہ افطار کرانے کے بھی بڑے فضائل بیان فرمائے ہیں اور الحمد لللہ ہرایک مسلمان اپنی وسعت و گنجائش کے اعتبارسے ان فضائل کے حاصل کرنیکی کوشش کرتا ہے 
  رمضان المبارک کے روزے رکھنا یہ ہر عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہے لیکن بسااوقات آدمی بڑھاپے کی کمزوری کی وجہ سے روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا یا بسااوقات ایسے مہلک اور لاعلاج مرض میں مبتلا ہوجاتا ھیکہ اس سے اچھا اور صحتیاب ہونیکی کوئی امید نہیں ہوتی بلکہ موت پر ہی اسکا خاتمہ ہوجاتا ہے 
  تو ایسی صورت میں شریعت نے انھیں رخصت دی ھیکہ وہ روزہ نہ رکھیں لیکن ہر روزے کے بدلے اور فدیے ایک مد اناج غریبوں میں تقسیم کریں اور ایک مد تقریبا 600 گرام ہوتا ہے 
  اسطرح بعض عورتیں حاملہ ہونیکی وجہ سے یا انکے دودھ پیتے بچے ہونیکی وجہ سے انھیں روزے رکھنے کی صورت میں اپنے ساتھ اپنے بچوں کی جان وصحت یا صرف بچوں کی ہی جان وصحت کے بارے میں فکرمندی ہوتی ہے تو ایسی حالت میں عورتوں کو اپنے روزوں کی قضاء کیساتھ ہر روزے کے بدلے میں ایک مد اناج غریبوں میں تقسیم کرنا ہوتا ہے 
  اسطرح رمضان کے آخر میں صدقہ فطر بھی ہر مسلمان کے ذمہ واجب و ضروری ہوتا ہے جو عید کی نماز سے پہلے پہلے مستحقین کے ہاتھوں میں پہنچنا ضروری ہوتا ہے اور اسکی مقدار ایک صاع یعنی احتیاطا ڈھائی کلو اناج نکالنا ضروری یوتا ہے 
   الحمد لللہ کوکن کے تقریبا ہر چھوٹے بڑے گاوں میں جماعت المسلمین کا ایک بہترین اور مضبوط انتظامی نظام قائم ہے اگر ہر جماعت المسلمین دوسری ذمہ داریوں کی طرح صدقہ فطر اور فدیوں کی وصولیابی اور اسکی تقسیم کو اپنے ذمہ لیلے یا اپنے اپنے گاوں میں جماعت المسلمیں کیطرفسے اس کام کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دیکر اس کام کو نبھائے تو ان شاءاللہ ہر گاوں کے ضرورتمندوں کا کافی مقدار میں تعاون ہوسکتا ہے اسلئے کی ہر جماعت المسلمیں اپنے یہاں بسنے والے ضرورتمندوں کے حالات سے خوب واقف ہوتی ہے انھیں کسی کے تصدیق نامے کی ضرورت نہیں ہوتی اسلئے کہ صدقہ فطر اور ان فدیوں کے مستحق غریب اور مسکین حضرات ہی ہوتے ہیں 
   اسلئے اگر ہر گاوں والے اس ہر غور کریں اور کوئی لائحہ عمل بنائے تو ان شاء اللہ ہر جماعت المسلمین بہترین طریقے پر اس کام کو اجام دے سکتی ہے جس سے یر گاوں کے غریبوں مسکینوں اور ضرورتمندوں کے مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے 
  اللہ تعالی ہمیں قوم و ملت اور امت خیر و بھلائی کے لئےصحیح درست اور حق فیصلے کرنے کی توفیق و صلاحیت نصیب فرمائے 

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔