رمضان کی آمد پر خاص پیغام اُمتِ مسلمہ کے نام۔۔از قلم :عالمہ مبین پالیگار۔بیلگام کرناٹکا۔۔


رمضان کی آمد پر خاص پیغام اُمتِ مسلمہ کے نام۔۔
از قلم :عالمہ مبین پالیگار۔بیلگام کرناٹکا۔۔
8904317986
 
رمضان المبارک کی آمد رحمت، برکت اور مغفرت کا پیغام لے کر آتی ہے۔ اس مقدس مہینے کے قریب آتے ہی سوشل میڈیا پر ایک عام رواج نظر آتا ہے کہ لوگ عمومی پیغامات لکھ کر سب سے معافی مانگ لیتے ہیں — “اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو معاف کر دیں”۔ بلاشبہ معافی مانگنا ایک نہایت اعلیٰ اخلاقی اور دینی عمل ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا محض ایک تحریری پیغام دلوں کے بوجھ کو واقعی ہلکا کر دیتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی انسان نے کسی کا دل دکھایا ہو، زبان سے تکلیف دی ہو یا دل میں کسی کے لیے بغض و کینہ رکھا ہو تو اس کا حقیقی مداوا صرف رسمی جملوں میں نہیں بلکہ خلوصِ نیت اور عملی اقدام میں ہے۔ آمنے سامنے جا کر معذرت کرنا انسان کے ظرف، عاجزی اور سچائی کی علامت ہوتا ہے۔ جب معافی براہِ راست مانگی جاتی ہے تو لہجے کی نرمی، آنکھوں کی سچائی اور دل کی کیفیت سامنے والے کے دل پر اثر انداز ہوتی ہے، جبکہ سوشل میڈیا کا پیغام اکثر بے روح اور عمومی محسوس ہوتا ہے۔
اکثر لوگ ایک پوسٹ لکھ کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری پوری ہو گئی، اور اگر سامنے والا معاف نہ کرے تو قصور اسی کا ہے۔ یہ سوچ دراصل خود فریبی ہے، کیونکہ حقیقی معافی صرف الفاظ سے نہیں بلکہ احساسِ ندامت، اصلاحِ عمل اور تعلق کو درست کرنے کی سچی کوشش سے ملتی ہے۔ سوشل میڈیا کا پیغام وقتی تسلی تو دے سکتا ہے مگر ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنے کی ضمانت نہیں بن سکتا۔
رمضان کا اصل تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنے باطن کو صاف کرے، رنجشیں ختم کرے اور تعلقات میں اخلاص پیدا کرے۔ اگر واقعی کسی سے خطا ہوئی ہے تو ہمت، عاجزی اور محبت کے ساتھ اس کے پاس جا کر معافی مانگنا ہی وہ راستہ ہے جو دلوں کو سکون دیتا اور رشتوں کو مضبوط بناتا ہے۔
مختصراً، معافی ایک تحریر نہیں بلکہ کردار، نیت اور سچائی کا نام ہے۔ جب معافی دل سے مانگی جائے اور دل سے قبول کی جائے تبھی اس کی برکت ظاہر ہوتی ہے؛ ورنہ رسمی الفاظ صرف وقتی اطمینان دیتے ہیں، حقیقی سکون نہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام امت مسلمہ کو عمل کی توفیق عطا فرمائے اور رمضان کی برکتؤں سے نوازے امین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔