حافظ و قاری مولانا محمد رفیق پٹیل نظامی۔۔ مضمون: رمضان میں کی جانے والی عبادات۔


حافظ و قاری مولانا محمد رفیق پٹیل نظامی۔
مضمون: رمضان میں کی جانے والی عبادات۔

رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ وہ مقدس اور بابرکت مہینہ ہے جو رحمتوں، برکتوں اور سعادتوں سے بھرا ہوا ہے، یہ مہینہ ایمان کو تازہ کرنے، دلوں کو پاک کرنے اور گناہوں سے نجات حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے، رمضان کا مقصد صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنا نہیں بلکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھ کر تقویٰ اختیار کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے، رمضان المبارک کی سب سے بڑی اور بنیادی عبادت روزہ ہے، روزہ انسان کو صبر، برداشت، شکر اور تقویٰ کی تربیت دیتا ہے، روزہ دار دن بھر حلال چیزوں سے بھی رکا رہتا ہے تاکہ اسے یہ احساس ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے جھکنا ہی اصل بندگی ہے، روزہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہم اپنی زبان، آنکھ اور دل کو بھی گناہوں سے محفوظ رکھیں کیونکہ اصل روزہ وہی ہے جو انسان کو برائیوں سے روک دے، رمضان میں عبادات کا دوسرا بڑا پہلو نماز ہے، ایک مسلمان کے لیے پانچ وقت کی نماز تو ویسے ہی فرض ہے مگر رمضان میں نماز کی پابندی کا ثواب اور بڑھ جاتا ہے، اسی مہینے کی خاص عبادت نمازِ تراویح ہے جس میں قرآنِ مجید سننے اور سنانے کی سعادت نصیب ہوتی ہے، تراویح کی محفلیں دلوں کو نور بخشتی ہیں اور انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہیں، رمضان المبارک کو قرآن سے خاص نسبت حاصل ہے کیونکہ اسی مہینے میں قرآنِ مجید نازل ہوا، اسی لیے رمضان میں تلاوتِ قرآن کی بہت بڑی فضیلت ہے، مسلمان کو چاہیے کہ وہ روزانہ قرآن کی تلاوت کرے، اس کے معنی کو سمجھے اور اپنی زندگی کو قرآن کے مطابق بنانے کی کوشش کرے، قرآن کی تلاوت سے دلوں کو سکون ملتا ہے اور روحانی طاقت بڑھتی ہے، رمضان میں ذکر و اذکار اور دعاؤں کا بھی خاص اہتمام کرنا چاہیے، خصوصاً سحر کا وقت، افطار کا وقت اور رات کے آخری لمحات وہ مبارک گھڑیاں ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں، ان اوقات میں مانگی گئی دعائیں قبول ہوتی ہیں، رمضان میں استغفار، درود شریف اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں وقت گزارنا رمضان کی روح ہے، اسی طرح رمضان المبارک میں صدقہ و خیرات اور زکوٰۃ کی ادائیگی بھی نہایت اہم عبادت ہے، یہ مہینہ ہمیں غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کا درس دیتا ہے، کسی روزہ دار کو افطار کرانا یا کسی بھوکے کو کھانا کھلانا بہت بڑے اجر کا باعث ہے، اس سے معاشرے میں ہمدردی، محبت اور بھائی چارہ پیدا ہوتا ہے، آخر میں یہ کہنا بالکل درست ہے کہ رمضان المبارک ایک عظیم نعمت اور تربیت کا مہینہ ہے، اگر ہم اس مہینے میں عبادات کی پابندی کریں، قرآن سے تعلق مضبوط کریں، اپنے اخلاق کو بہتر بنائیں اور دوسروں کے کام آئیں تو یقیناً ہماری دنیا بھی سنور جائے گی اور آخرت بھی، اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان المبارک کی قدر کرنے، عبادات کو قبولیت کے ساتھ ادا کرنے اور اس کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
نماز کی پابندی کو رمضان میں اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، قرآنِ مجید روزانہ ضرور پڑھیں، چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، زبان کی حفاظت کریں جھوٹ، غیبت اور گالی سے بچیں، افطار میں سادگی اختیار کریں فضول خرچی نہ کریں، صدقہ ضرور دیں چاہے معمولی ہی کیوں نہ ہو، والدین اور بڑوں کی خدمت کریں اور دعائیں لیں، دعاؤں میں امتِ مسلمہ کو ضرور یاد رکھیں
 دعا ہے کہ
اے اللہ! ہمیں رمضان المبارک کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرما، ہماری عبادات، روزے، نمازیں، تراویح، تلاوتِ قرآن اور دعاؤں کو قبول فرما، ہمیں گناہوں سے پاک کر دے، ہمارے دلوں کو نور عطا فرما، ہمارے والدین، اہلِ خانہ اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرما، ہماری بیماروں کو شفا دے، پریشان حال لوگوں کی پریشانیاں دور فرما، اور ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرما، آمین یا رب العالمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔