جلگاؤں ؛ یومِ مادری زبان کے موقع پر اٹھی گونج ،تعمیر اردو گھر، اردو کو ملے حق۔۔"مراٹھی ہماری شان، اردو ہماری شناخت"


جلگاؤں ؛ یومِ مادری زبان کے موقع پر اٹھی گونج ،تعمیر اردو گھر، اردو کو ملے حق۔۔
"مراٹھی ہماری شان، اردو ہماری شناخت"

جلگاؤں ( عقیل خان بیاولی)  مہاراشٹر میں اردو کو ثانوی سرکاری زبان کا حق کیوں ضروری ہے؟”
جلگاؤں میں عالمی یومِ مادری زبان کے موقع پر بلند ہونے والی آواز محض ایک لسانی مطالبہ نہیں بلکہ آئینی حقوق، تعلیمی انصاف اور تہذیبی ہم آہنگی کی پُرزور اپیل ہے۔ ضلع جلگاؤں سے ریاستی حکومت کے نام پیش کیا گیا محضر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ زبان صرف اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ قوم کی شناخت، ثقافت اور اتحاد کی بنیاد ہوتی ہے۔ ہندوستان جیسے کثیر لسانی ملک میں ہر زبان کو مساوی عزت اور مواقع دینا ہی قومی یکجہتی کی اصل روح ہے۔ محضر میں یہ بات مدلل انداز میں رکھی گئی کہ مراٹھی کو لازمی زبان کی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے اردو کو ثانوی زبان کا درجہ دینا نہ صرف آئینی اصولوں کے مطابق ہے بلکہ زمینی حقائق کا تقاضا بھی۔ مردم شماری 2011 کے مطابق ملک میں پانچ کروڑ سے زائد افراد کی مادری زبان اردو ہے، جبکہ مہاراشٹر میں تقریباً 70 سے 80 لاکھ اردو داں شہری بستے ہیں۔ ریاست کی مسلم آبادی 11 فیصد سے زائد ہے اور اردو زبان میں علمی و ادبی سرگرمیوں کی ایک مضبوط روایت موجود ہے۔ بڑی تعداد میں طلبہ کی مادری زبان اردو ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تعلیم میں ان کی لسانی شناخت کا احترام کیا جائے۔ تحقیقی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ مادری زبان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ہوتا ہے۔ آئینِ ہند کی دفعات (آرٹیکل 29 اور 30)، حقِ تعلیم قانون (RTE) اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 بھی اسی سمت رہنمائی کرتی ہیں کہ ریاست کی ذمہ داری ہے وہ بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم کے مواقع فراہم کرے۔ ایسے میں اردو کو ثانوی زبان کا درجہ دینا ایک فطری اور ضروری قدم ہے۔
محضر کا ایک اہم پہلو جلگاؤں میں *“اردو گھر”* کے قیام سے متعلق ہے۔ اقلیتی ترقیاتی محکمہ اور ریاستی حکومت کی منظوری کے باوجود اس کی تعمیر میں تاخیر ایک افسوسناک تضاد اور انتظامی ناانصافی کی علامت ہے۔ *اردو گھر* محض ایک عمارت نہیں بلکہ زبان و ادب کے فروغ، ثقافتی سرگرمیوں اور تعلیمی رہنمائی کا مرکز ہو سکتا ہے۔ ریاست کے دیگر مقامات پر جب یہ منصوبہ عملی جامہ پہن چکا ہے تو جلگاؤں میں تاخیر کا کوئی معقول جواز نہیں بنتا۔ مطالبات واضح اور قابلِ عمل ہیں: جن اسکولوں میں کم از کم 10 فیصد اردو داں طلبہ ہوں وہاں اردو اساتذہ کی تقرری کی جائے؛ جلگاؤں میں اردو گھر کے لیے مستقل جگہ مختص کر کے فوری تعمیر کی جائے؛ اور ایک واضح حکومتی فرمان (GR) جاری کیا جائے تاکہ پورے مہاراشٹر میں یکساں عملدرآمد ممکن ہو۔ یہ مطالبات کسی ایک طبقے کے مفاد تک محدود نہیں بلکہ ادبی علمی تعلیمی معیار کی بہتری اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہیں۔
وفد کی نمائندگی میں فاروق شیخ ،صحافی افسانہ نگار سعید پٹیل ،صحافی افسانہ نگار عقیل خان بیاولی، قاسم عمرجلگانؤی ، حافظ عبدالرحیم پٹیل ، مشتاق بہشتی ،ندیم قاضی، رئیس باغبان ‌ سلیم انعام دار ،بابا دیشمکھ، معین اقبال خان ، اسلم خان جیسے مختلف سماجی، سیاسی اور صحافتی حلقوں نے کی، جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ یہ آواز کسی ایک فرد یا تنظیم کی نہیں بلکہ اجتماعی ضمیر کی ترجمان ہے۔ ڈپٹی کلیکٹر منوج کمار کی جانب سے سرکاری کارروائی میں تعاون کی یقین دہانی امید کی کرن ہے، مگر اصل امتحان عملی اقدام میں ہے۔
آخر میں محضر کا یہ جملہ پوری تحریک کا نچوڑ ہے: "مراٹھی ہماری شان ہے اور اردو ہماری شناخت۔ دونوں زبانوں کو انصاف دینا حکومت کا آئینی فرض ہے۔" 
یہی وہ فکر ہے جو مہاراشٹر کو لسانی ہم آہنگی کی مثال بنا سکتی ہے۔ اگر سرکاری منظوری کے باوجود *اردو گھر* کی تعمیر میں تاخیر اور تعلیمی میدان میں اردو کو اس کا جائز حق نہ ملا تو جمہوری احتجاج اور عدالتی چارہ جوئی جیسے راستے اختیار کرنا ناگزیر ہو جائے گا۔ حکومت کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ وقت رہتے مثبت فیصلہ کرے اور یہ ثابت کرے کہ آئین کے وعدے محض کاغذی نہیں بلکہ عملی حقیقت ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔