کیتلی میں ابال، پیالی میں زوال۔۔ازقلم : اسماء جبین فلک۔


کیتلی میں ابال، پیالی میں زوال۔۔
ازقلم : اسماء جبین فلک۔ 

ہمارے ملک میں چائے اب محض ایک مشروب نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی "سیاسی کیمیا گری" بن چکی ہے جس کے ذریعے پتیلی میں دودھ کے بجائے جذبات ابالے جاتے ہیں اور پیالی میں چینی کے بجائے اعداد و شمار کی ریت گھولی جاتی ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اس وقت تباہ ہوتی ہیں جب ان کا لہو سفید ہو جائے، مگر وہاں وہ منفرد گروہ آباد ہے جو اس وقت زوال پذیر ہے جب ان کی چائے کا رنگ "کارپوریٹ" نواز پالیسیوں کے باعث اب "سرکاری" نہیں رہا۔ پرانے وقتوں میں چائے ایک تہذیبی علامت اور مروت کا استعارہ تھی؛ اب یہ ایک تجارتی سگنل ہے کہ کچھ بہت بڑا فروخت ہونے والا ہے۔ جب مقتدر طبقہ کیتلی ہاتھ میں لے کر کیمرے کے سامنے مسکرانے لگے، تو سمجھ جائیے کہ اب کے کوئی تمغہ نہیں، بلکہ کوئی ریلوے اسٹیشن یا ہوائی اڈہ کسی خاص "سیٹھ" کی نذر ہونے والا ہے۔
جس نظامِ سیاست کی بنیاد ہی "چائے والے" کے لبادے پر رکھی گئی ہو، وہاں تقدیر کا وہی حال ہوتا ہے جو اس خستہ بسکٹ کا جسے زیادہ دیر تک گرم پیالی کی صحبت میسر رہے۔ وہ بسکٹ جو اپنی ساخت پر نازاں ہوتا ہے، ذرا سی تپش پاتے ہی اپنی اوقات بھول کر پیالی کی تہہ میں اس طرح غرق ہو جاتا ہے کہ پھر "اپوزیشن" کے چمچے سے بھی ہاتھ نہیں آتا۔ وہاں کے عوام بھی ایک عرصے سے اسی "جذباتی چائے" میں ڈبوئے جا رہے ہیں اور ان کی حیثیت اس گردِ راہ جیسی ہو گئی ہے جسے حبِ وطنی کے جوش میں ابالنے کے بعد چھان کر کارپوریٹ کوڑے دان کی نذر کر دیا جاتا ہے۔
آج کے دور میں "دیش بھکتی" کا تصور کسی مقدس فریضے کے بجائے ایک ایسی اشتہاری مہم بن گیا ہے جس کے پسِ پردہ مادرِ وطن کو ایک "متروکہ جائیداد" سمجھ کر ٹھکانے لگایا جا رہا ہے۔ اب وفاداری کا تقاضا یہ نہیں کہ آپ سرحدوں کی پاسبانی کریں، بلکہ یہ ہے کہ آپ پیالی پر بیٹھیں اور نہایت خاموشی سے یہ تسلیم کر لیں کہ آپ کی ریل، آپ کی بندرگاہیں اور آپ کے بجلی گھر دراصل وہ فالتو بوجھ ہیں جو "ترقی" کی صفائی کے دوران کسی گجراتی سیٹھ کے حوالے کر دیے جانے چاہئیں۔ اربابِ اختیار نے اسے "آتم نربھر" کا نام دے رکھا ہے۔ یہ وہ فن ہے جس میں آپ اپنی جیب کاٹ کر دوسرے کی قبا سلواتے ہیں اور پھر اسے "قومی مفاد کی درزی گیری" قرار دے کر تالیاں بجواتے ہیں۔
جب معیشت کا سانس اکھڑنے لگتا ہے اور غریبی کی لکیر کسی اژدھے کی طرح پھیلنے لگتی ہے، تو وہاں کے سربراہان اچانک "عالمی نیلامی" کے میرِ مجلس بن جاتے ہیں۔ ان کی بصیرت کا عالم یہ ہے کہ وہ خسارے میں چلتے ہوئے اداروں کی اصلاح کرنے کے بجائے انہیں "دوستوں" کی فروختنی فہرست میں شامل کر دیتے ہیں۔ اگر موجودہ سرکار کی پالیسیوں کا مینو نامہ مرتب کیا جائے تو وہ کچھ اس طرح کا شاہکار ہوگا کہ دیکھ کر عقل حیران اور جیب پریشان رہ جائے۔ اس میں ایک پیالی تلخ چائے کے عوض "ایل آئی سی" کے حصص اور دو پیالیوں پر پورے "ایئر انڈیا" کا اجارہ تحفے میں دیا جا رہا ہے۔ اور اگر کوئی پوری کیتلی کی قیمت ادا کرنے کا حوصلہ رکھے، تو سمجھو پورا انفراسٹرکچر ہی اس کا ہوا، بس "مینٹیننس" پرانے مالکان یعنی عوام کے ٹیکس سے ہوتی رہے گی کیونکہ حکمرانوں کو "کرایہ داری" میں وہ سکون ملتا ہے جو "ملک گیری" میں کہاں۔
عجیب تماشہ ہے کہ جو ادارے دہائیوں کی محنت سے سینچے گئے تھے، اب انہیں بوجھ قرار دے کر "نجکاری" کی چھری تلے رکھا جا رہا ہے۔ یہ منطق ایسی ہی ہے جیسے کوئی بیٹا اپنے ضعیف باپ کو اس لیے فروخت کر دے کہ وہ اب کما کر نہیں لاتا اور اس کی ادویات کا خرچ "ڈیجیٹل انڈیا" کے بجٹ پر گراں گزر رہا ہے۔ حکمران طبقہ بڑے فخر سے کہتا ہے کہ ہم نے ادارے بیچ کر ملک کو "جدید" بنا لیا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی نے اپنی آنکھیں بیچ کر وہ عینک خرید لی ہو جس سے صرف "اچھے دن" نظر آتے ہوں، چاہے حقیقت میں چاروں طرف اندھیرا ہی کیوں نہ ہو۔
اس ہمہ گیر نیلامی میں عوام کی حیثیت اس مکھی کی سی ہے جو چائے میں گر جائے تو اسے نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے، مگر چائے ضائع نہیں کی جاتی۔ حکمران طبقہ وہ چائے (منافع) پی جاتا ہے اور عوام باہر ڈھیر پر بیٹھ کر "وشو گرو" بننے کے خواب دیکھتے ہیں۔ وہ قوم جو گیس سلنڈر مہنگا ہونے پر تو خاموش رہتی ہے، مگر "مذہبی جنون" کی پتی ذرا سی تیز ہو جائے تو سڑکوں پر ناچنے لگتی ہے، اسے پیالی کی تہہ میں بیٹھی اس چینی کا ذائقہ کبھی نہیں ملے گا جو الیکشن کے منشور میں وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ وہ ذہنی کیفیت ہے جو دہائیوں کی "سیاسی افیم" کا شاخسانہ ہے۔ انہوں نے غیرت کو چائے کے کپ میں گھول کر پی لیا ہے؛ اب نہ روزگار باقی ہے نہ وہ وقار، بس ایک عجیب سی "بدہضمی" ہے جسے وہ "نیا بھارت" کہتے ہیں۔
جدید دور کی نیلامی اب منڈیوں میں نہیں، بلکہ بڑے بڑے کارپوریٹ دفاتر کے بند کمروں میں ہوتی ہے۔ جب کوئی بندرگاہ فروخت ہوتی ہے، تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ "تزویراتی شراکت داری" ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ شراکت داری نہیں، بلکہ وہ "تاوان" ہے جو مالکِ مکان اپنی ہی زمین پر رہنے کے لیے چند مخصوص سرمایہ داروں کو ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اپنے تمام اثاثے اس لیے دوسروں کے حوالے کر دیے ہیں کیونکہ انہیں عوامی اداروں سے زیادہ "نجی منافع" پر اعتبار ہے۔ وہ بدقسمت وارث ہیں جو بزرگوں کی دستار بھی اس لیے نیلام کر دیتے ہیں کہ اس کا رنگ پرانا ہو گیا ہے اور اب انہیں "کارپوریٹ ہیٹ" پہننے کا خبط سوار ہے۔
سیاستدانوں کی کیمیا گری بھی ملاحظہ ہو؛ وہ زہرِ ہلاہل کو "امرت" کہہ کر بیچتے ہیں اور عوام اسے نسخہِ شفا سمجھ کر نوش کر جاتے ہیں۔ جب پیٹرول کے دام بڑھتے ہیں تو نصیحت کی جاتی ہے کہ یہ "ماحولیات" کے لیے بہتر ہے۔ جب کرنسی نوٹ منسوخ کیے جاتے ہیں تو اسے "کالے دھن" پر سرجیکل اسٹرائیک کہا جاتا ہے، چاہے اس میں غریب کا سفید خون ہی کیوں نہ نکل جائے۔ یہ الفاظ کا وہ گورکھ دھندہ ہے جس میں سچائی کہیں دم توڑ دیتی ہے۔ کسی دانا نے کہا تھا کہ سچ بولنا جرات کا کام ہے، مگر موجودہ دور میں سچ سننا "غداری" کے زمرے میں آتا ہے؛ اور وہاں یہ کرامت اب جیلوں کے پیچھے ہی نظر آتی ہے۔
اس سارے منظر نامے میں چائے کی پیالی وہ واحد مقام ہے جہاں غریب اور امیر ایک ہوتے ہیں، مگر تفاوت یہ ہے کہ امیر کی پیالی میں "ملک کا سودا" ابال کھا رہا ہوتا ہے اور غریب کی پیالی میں اس کا اپنا "راشن کارڈ" ڈوب رہا ہوتا ہے۔ جب تک کیتلی تلے "نفرت کے ایندھن" کی آگ جل رہی ہے، تب تک یہ تماشہ جاری رہے گا۔ سیاستدان چمچہ ہلاتا رہے گا، آپ کو "ہندوتوا" کی مٹھاس کا فریب دیتا رہے گا، اور جب آپ پیالی خالی کریں گے تو تہہ میں صرف وہ گرد ملے گی جو مسمار شدہ گھروں اور بک چکے اداروں کی ہوگی۔
آخر میں یہ ادراک ضروری ہے کہ قومیں چائے کی چسکیوں اور ڈرامائی تقریروں سے نہیں، بلکہ اداروں کی مضبوطی سے بنتی ہیں۔ وہاں خلوص کے بجائے "ایونٹ مینجمنٹ" پر تکیہ کر لیا گیا ہے۔ اب عالم یہ ہے کہ پیالی بھی مستعار ہے، پتی بھی ادھار کی ہے، اور عوام محض وہ "تھالی" ہیں جسے بجانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جس دن نیلام کرنے والا خود وقت کی عدالت میں نیلام ہوگا، شاید اس دن انہیں شعور آئے کہ چائے اور فرقہ واریت کے امتزاج نے ملک کی جڑوں کو کتنا کھوکھلا کر دیا ہے، مگر تب تک کیتلی ٹھنڈی ہو چکی ہوگی اور منڈی برخاست ہو چکی ہوگی۔ دعا بس یہی ہے کہ جب وہ سب کچھ بیچ کر نکلیں، تو کم از کم عوام کے لیے وہ "سڑکیں" تو چھوڑ دیں جن پر چل کر وہ احتجاج کر سکیں۔ مگر اندیشہ ہے کہ وہ سڑکیں بھی شاید کسی "ٹول ٹیکس" کے معاہدے کے تحت پہلے ہی کسی سیٹھ کو پٹے پر دی جا چکی ہوں گی۔
یہ وہ "ترقی" ہے جس کا ڈھنڈورا پوری دنیا میں پیٹا جا رہا ہے، مگر پیالی کی حقیقت وہی جانتا ہے جو اسے ہونٹوں سے لگاتا ہے اور کڑواہٹ کے سوا کچھ نہیں پاتا۔ چائے والا تو اپنی کیتلی لے کر کسی دوسرے "اسٹیج" پر چلا جائے گا، مگر عوام اس ٹوٹے ہوئے کپ کی طرح وہیں پڑے رہیں گے جسے اب کوئی جوڑنے والا نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔