جغرافیائی و عالمی تناظر میں اقوامِ متحدہ کی اصلاحات ناگزیر: ڈاکٹر این۔ بی۔ نالتواڑ۔

 
دھارواڑ (راست)کرناٹک یونیورسٹی دھارواڑ کے شعبۂ سیاسیات، کرناٹک یونیورسٹی پولیٹیکل سائنس کالج ٹیچرز فورم (KUPSCT)گورنمنٹ فرسٹ گریڈ کالج دھارواڑ اور انجمن آرٹس، سائنس ، کامرس کالج اینڈ پی جی اسٹدیزدھارواڑ کے اشتراک سے کرناٹک آرٹس کالج کے بی بی اے ہال میں "عالمگیریت کے دور میں اقوامِ متحدہ کی اصلاحات" کے موضوع پرقومی سمینار منعقد کیا گیا۔  انجمن ڈگری کالج دھارواڑ کے پرنسپل ڈاکٹر این۔ بی۔ نالتواڑ نے ایک روزہ قومی سطحی سمینار کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بدلتے ہوئے عالمی سیاسی و معاشی حالات میں عالمی ادارہ اقوام متحدہ کو درپیش چیلنجز کے پیشِ نظر اس میں جامع اور بروقت اصلاحات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔
مزید کہا کہ دنیا اس وقت کثیر جہتی بحرانوں سے گزر رہی ہے۔جن میں عالمی امن و سلامتی کے مسائل، معاشی عدم مساوات، ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی، علاقائی تنازعات اور مہاجرین کے مسائل سرفہرست ہیں۔ ان حالات میں اقوامِ متحدہ کا کردار نہایت اہم ہے لیکن بدلتے عالمی نظام میں اس کے ڈھانچے اور طریقۂ کار میں اصلاحات ناگزیر ہوچکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی توسیع، ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی میں اضافہ، ویٹو پاور کے استعمال پر نظرِ ثانی اور شفاف فیصلہ سازی جیسے اقدامات ادارے کی ساکھ کو مضبوط کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کو محض ایک علامتی ادارہ نہیں بلکہ عملی اور مؤثر عالمی پلیٹ فارم کے طور پر فعال ہونا چاہیے۔ڈاکٹر نالتواڑ نے مزید کہا کہ جامعات میں اس نوعیت کے علمی مباحث نہ صرف اساتذہ کے فکری افق کو وسیع کرتے ہیں بلکہ طلبہ میں عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کے بارے میں بامعنی شعور پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے منتظمین کو کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔تقریب میں مہمانانِ اعزازی کے طور پر رانی چنّما یونیورسٹی کے سابق رجسٹرار پروفیسر ایس۔ ایس۔ پٹگنڈی، مرکزی جانچ شعبہ کے چیف کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ایم۔ بی۔ دلپتی اور شعبۂ سیاسیات کے پروفیسر ایس۔ بی۔ نائک شریک رہے۔ انہوں نے سمینار کے موضوع کی عصری معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، ایسے میں اقوام متحدہ کی فعالیت اور مؤثریت کو ازسرنو مستحکم کرنا ناگزیر ہےKUPSCTفورم کے صدر پروفیسر بسوراج پوجار نے صدارت کرتے ہوئے کہا کہ علمی و تحقیقی سرگرمیاں تعلیمی اداروں کی شناخت ہوتی ہیں اور اس نوعیت کے قومی سمینار اساتذہ و محققین کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں جہاں وہ اپنے خیالات اور تحقیقی نتائج پیش کرسکیں۔تنظیمی سکریٹریز ڈاکٹر بسوراجیشوری آر۔ پاٹیل اور پروفیسر ناگراج کنکنی نے تمام مہمانانِ گرامی، مقالہ نگاروں، مندوبین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر KUPSCT فورم کے سکریٹری ڈاکٹر ایس۔ ایس۔ ہیرے مٹھ اور خازن ڈاکٹر سنگیتا کٹّمنی بھی موجود تھے۔ریاست کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرس کی فعال شرکت کے ساتھ یہ قومی سمینار نہایت کامیابی اور فکری سنجیدگی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔(رپورٹ:ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی،انجمن ڈگری کالج دھارواڑ)

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔