نعت خوانی کے مقابلے سے طلباء کو قرت کی ترغیب ملتی ہے ۔ایسے مقابلے میں زیادہ تعداد میں طلباء کو حصہ لینا چاہئے ۔ پروفیسر کیرتی مالنی جاولے۔شعبہ اردو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی میں یونیورسٹی کی سطح پر نعت خوانی مقابلے کا انعقاد۔
اورنگ آباد (راست) شعبہ اردو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی اور مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی کے اشتراک سے یونیورسٹی کی سطح پر نعت خوانی مقابلے کا انعقاد 5 فروری کو کیا گیا جس میں مختلف مدارس / کالج/ یونیورسٹی کے تقریباً 50 سے زاید طلباء و طالبات نے حصہ لیا ۔افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر کیرتی مالنی جاولے صاحبہ صدر شعبہ اردو نے کیں اور تمام حاضرین و مہمان کا استقبال کیا اور اس پروگرام کے اغراض و مقاصد بھی بیان کیے۔اس پروگرام کے لیے پروفیسر آصفیہ زکریہ پرنسپل چستیہ کالج خلد اباد ' جناب قاضی جاوید ندا مشہور و معروف شاعر اور جناب احمد اورنگ آبادی مشہور و معروف شاعر بحیثیت جج موجود تھے۔۔پروگرام کا آغاز شعبہ اردو کے سال دوم کے طالبِ علم ابوالحسن بلال کے تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔مہمان خصوصی پروفیسر آصف زکریہ نے اس پروگرام کے لیے اپنے زرین خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شعبہ اردو اور ساہتیہ اکیڈمی کے اراکین کو مبارک باد دی ۔ساتھ جناب قاضی جاوید ندا نے اپنے خیالات میں کہا کہ ایسے پروگرام منعقد کرنے سے کالج اور مدارس اور جامعات کے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اسیے پروگرام شعبہ اردو میں منعقد کرنا ایک اہم کام ہے۔اسی طرح جناب احمد اورنگ آبادی نے پروگرام کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی اور صدر شعبہ اردو کو مبارک باد پیش کی ۔پہلے اجلاس کی صدر پروفیسر کیرتی مالنی جاولے صاحبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقینا ایسے پروگراموں سے طلباء و طالبات کو ایک اچھا اسٹج فراہم ہوتا ہے جس سے ان کی ہمت اور حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔انھوں نے ایسے پروگراموں بار بار منعقد کرنے کا وعدہ کیا اور مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی کے اراکین کا شکریہ ادا کیا ۔پہلے اجلاس کی نظامت پروگرام کو ارڈینٹر ڈاکٹر شیخ اصغر اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو نے کیں جبکہ شکریہ کے کلمات ڈاکٹر سید سہیل ہاشمی نے ادا کیے ۔
دوسرے اور تیسرے اجلاس میں 50 سے زاید نعت خواں نے اپنے مترنم اور خوبصورت انداز اور منفرد لہجے میں نعت پیش کیں۔جسے تمام حاضرین اور ججز نے خوب سراہا ۔پروگرام کے آخر میں ججز کے دیے گیے نمبرات کے مطابق انعام اول صالیہ سلیم B.sc تھرڈ ایئر کی طالبہ نے حاصل کیا جبکہ انعام دوم ایم سال اول کے طالبِ علم احمد رضوان کو دیا گیا ۔اسی طرح انعام سوم شیخ عایشہ علیم بی اے فرسٹ ایئر کی طالبہ نے حاصل کیا۔۔اس کے علاوہ ترغیبی انعامات حاصل کرنے والوں میں ام ایمن ( گولڈ) محمد معاذ ( برونز میڈل) محمد حارث ( سلور میڈل ) کے نام شامل ہیں ۔اس کے علاوہ طلباء و طالبات کے نعت خوانی کی پش کش کو دیکھتے ہوے پروفیسر کیرتی مالنی جاولے نے مزید ترغیبی انعامات دینے کا فیصلہ کیا اور ان انعامات حاصل کرنے والوں میں شیخ سلیمان ہارون ' شیخ شعیب شیخ ایوب ' ماریہ مبشرہ ' شیخ سانیہ تسنیم ' حمیرہ ناز ' شیخ غفار ' محمد فرقان ' سید افنان صابر علی' شیخ عرفان ندوی ' عظمیٰ فہیم ' مہک ' شامل ہیں ۔۔اجلاس دوم اور سوم کی نظامت شعبہ اردو کے سال دوم کے طالبِ علم قاضی محمد عاطف نے نہایت ہی خوبصورت انداز میں انجام دی ۔نعت خوانی کے لیے ٹایم مینجمنٹ دیکھنے کے لیے سال اول کی طالبات خان خانسہ مہرین اور خان خوبہ فلک کو مقرر کیا گیا تھا دونوں نے نہایت ہی خوش اسلوبی سے اپنے فرائض کو انجام دیا ۔۔پروگارم کا اختتام ڈاکٹر شیخ اصغر کے شکریہ پر ہوا۔۔
Comments
Post a Comment