حادثے جیسے ہیں سب دیکھے ہوئے سمجھے ہوئے۔ |۔ کوئی حیرانی نہیں اب آنکھ اور منظر کے بیچ |۔ کہیں ہم زندہ ہوتے ہوئے مر تو نہیں گئے؟ از قلم: طٰہٰ جمیل نلاّمندو۔( معلمہ و قلم کار پونے مہانگر پالیکا)
حادثے جیسے ہیں سب دیکھے ہوئے سمجھے ہوئے
کوئی حیرانی نہیں اب آنکھ اور منظر کے بیچ
کہیں ہم زندہ ہوتے ہوئے مر تو نہیں گئے؟
از قلم: طٰہٰ جمیل نلاّمندو۔
( معلمہ و قلم کار پونے مہانگر پالیکا)
ایک دن ہمیں اسکول میں عادت کے بارے میں کچھ سمجھایا گیا تھا۔استاد نے مثال دی کہ جب ہم کسی ناگوار بدبو کو پہلی مرتبہ سونگھتے ہیں تو ہمارا اعصابی نظام فوراً بیدار ہو جاتا ہے۔ ناک کے اندر موجود حساس ریشے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہیں، دل و دماغ کو خبردار کرتے ہیں، اور ہم بے اختیار ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔
لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اگر ہم اسی بدبو کے ساتھ کچھ وقت گزار لیں تو آہستہ آہستہ وہ ناگواری کم ہونے لگتی ہے، حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہی بدبو ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بدبو ختم ہو گئی ۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اندر احساس مر گیا۔یہی کیفیت سماعت کے ساتھ بھی پیش آتی ہے۔
جب کوئی شخص پہلی بار کسی شور شرابے والے بازار میں داخل ہوتا ہے تو کانوں کو چبھنے والی آوازیں اس کے اعصاب کو جھنجھوڑ دیتی ہیں۔ سر میں درد، الجھن اور بےچینی پیدا ہو جاتی ہے۔لیکن وہی شخص اگر روزانہ اسی ماحول میں رہے، تو چند دنوں بعد اسے وہ شور معمولی لگنے لگتا ہے۔
جو آوازیں پہلے اذیت تھیں، اب پس منظر کا حصہ بن جاتی ہیں۔اسی لیے بازاروں کے کاریگر، مشینوں میں کام کرنے والے مزدور اور ٹریفک میں دن گزارنے والے لوگ شور کے عادی ہو جاتے ہیں۔کیونکہ حساسیت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔یہی اصول صرف حواس تک محدود نہیں، بلکہ دل، ضمیر اور احساسات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
شروع میں جب ہم کسی ناانصافی کو دیکھتے ہیں تو دل تڑپ اٹھتا ہے۔کسی غریب کی بے بسی، کسی بچے کے ساتھ زیادتی، کسی عورت کی تذلیل یہ سب ہمیں بےچین کر دیتے ہیں۔لیکن جب یہی مناظر بار بار دیکھنے کو ملیں، جب ہم روز خبروں میں ظلم، جھوٹ اور بےحسی پڑھیں، تو آہستہ آہستہ ہمارے ردِعمل مدھم ہو جاتے ہیں۔پہلے ہم بولتے تھے، پھر صرف افسوس کرتے تھے،اور آخرکار خاموش ہو جاتے ہیں۔یہ خاموشی عادت نہیں، یہ موت ہے۔احساس کی موت۔
بالکل اسی طرح جیسے : شروع میں جھوٹ بولتے ہوئے ضمیر ملامت کرتا ہے،لیکن بار بار جھوٹ بولنے سے وہ ملامت بھی خاموش ہو جاتی ہے۔شروع میں گناہ دل کو بوجھل کرتا ہے۔لیکن تسلسل کے ساتھ وہ بوجھ بھی ہلکا محسوس ہونے لگتا ہے۔شروع میں غلط ماحول اجنبی لگتا ہے، پھر وہی ماحول نارمل بن جاتا ہے۔اصل المیہ یہ ہے کہ ہم کسی چیز کے عادی تب ہوتے ہیں، جب ہمارے اندر سے کچھ مر چکا ہوتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ،آج ہم جن برائیوں کو “زمانے کا حصہ” کہہ کر قبول کر چکے ہیں،جن غلطیوں پر سب ہی تو ایسا کرتے ہیں کا لیبل لگا دیا ہے،اور جن ناانصافیوں پر ہم نے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ان سب کے بدلے ہمارے اندر کیا کیا مر چکا ہوگا؟
شاید !
حساس دل…
جاگتا ہوا ضمیر…
اور سچ کو پہچاننے کی صلاحیت۔ ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ۔۔ "کہیں ہم زندہ ہوتے ہوئے مر تو نہیں گئے؟"
کیونکہ جو شخص ہر چیز کا عادی ہو جائے،وہ دراصل ہر چیز سے بےحس ہو چکا ہوتا ہے۔اور بےحسی زندگی نہیں، ایک خاموش موت ہے۔
Comments
Post a Comment