حاشیہ بر نکاح۔۔ ازقلم : اسماء جبین فلک۔
حاشیہ بر نکاح۔۔
ازقلم : اسماء جبین فلک۔
خدا جھوٹ نہ بلوائے تو پروفیسر کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ ایک ایسی حساس مخلوق ہے جو کائنات کے ہر حادثے، واقعے اور المیے کو فٹ نوٹ کی عینک سے دیکھتی ہے۔ عام انسان جب کسی خوبصورت دوشیزہ کو دیکھتا ہے تو سبحان اللہ کہتا ہے، مگر پروفیسر اس کے سراپا میں کلاسیکی جمالیات کے رموز تلاش کرنے لگتا ہے۔ یہی افتاد ہمارے دوست پروفیسر صاحب پر آن پڑی، جن کی شادی ہوئے ابھی چند دن بھی نہیں ہوئے تھے کہ بیگم پر یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ وہ کسی گوشت پوست کے جیتے جاگتے انسان سے نہیں، بلکہ برٹانیکا انسائیکلوپیڈیا کے ایک متحرک ایڈیشن سے بیاہی گئی ہیں، جس کی جلد تو انسانی ہے مگر جس کے اوراق میں صرف خشک حقائق اور علمی خشکی بھری ہے۔
بیگم کا خیال تھا کہ شوہر نامدار اردو کے پروفیسر ہیں، تو زندگی کسی کلاسیکی داستان یا رومانوی ناول کے اس باب جیسی ہوگی جہاں شام ڈھلے چائے کی پیالیوں سے اٹھتا دھواں میر تقی میر کی شاعری میں بدل جاتا ہوگا اور گفتگو میں وہ نفاست ہوگی کہ بات کرنے میں رخسار سے پھول جھڑتے ہوں گے۔ مگر یہاں معاملہ برعکس نکلا۔ پروفیسر صاحب کے دماغ میں ہر وقت کوئی نہ کوئی عالمی نظریہ یا تحقیق کا ایسا موذی کیڑا کلبلا رہا ہوتا تھا جو عین رومانوی گفتگو کے بیچ میں بھی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھنے بیٹھ جاتا۔ وہ بیگم کی جھیل جیسی آنکھوں میں ڈوب کر غرق ہونے کے بجائے، کنارے پر کھڑے ہو کر یہ غور کرنے لگتے کہ ان آنکھوں میں جو سرخی ہے، وہ گریۂ نیم شاں کا اثر ہے یا کسی قلمی نسخے کی نقل نویسی کے دوران شب بیداری کا شاخسانہ؟
شادی سے قبل ان کے عشق کا عالم یہ تھا کہ وہ بیگم کے خطوط میں بھی املا کی غلطیاں نکال کر واپس بھیج دیا کرتے تھے، گویا عشق نہیں، بورڈ کا پرچہ جانچ رہے ہوں۔ ایک روز جب بیگم نے بڑے ارمان سے کہا، سنیے! بادل کتنے گہرے ہیں، موسم کتنا سہانا ہے، کہیں باہر چل کر گرما گرم پکوڑے نہ کھائیں؟ تو پروفیسر صاحب نے ناک پر ٹکی عینک کے موٹے شیشے درست کیے، ایک گہرا اور عالمانہ سانس لیا اور فرمایا: جانِ من! جسے تم سہانا کہہ رہی ہو، وہ دراصل سہاون سے نکلا ہے جو برج بھاشا کا لفظ ہے، مگر اس کا اطلاق اس وقت لسانی طور پر غلط ہے کیونکہ بارش بذاتِ خود ایک مونث صفت ہے جو اپنے ساتھ افسردگی کا استعارہ لاتی ہے۔ رہی بات پکوڑے کی، تو یہ لفظ پکوا اور وقت کا مرکب ہے، اور اسے اس طرح سرِ عام کھانا ہماری تہذیبی نفاست کے خلاف ایک اعلانِ بغاوت ہے۔ کیوں نہ ہم گھر بیٹھ کر اس پر ایک مدلل تحقیقی مقالہ لکھیں کہ اردو شاعری میں ابرِ نیساں کا تصور انسانی بھوک سے کس طرح متصادم رہا ہے؟ بیگم بیچاری ہکا بکا منہ دیکھتی رہ گئیں کہ وہ موبائل فون سے تصویر لینا چاہ رہی تھیں اور موصوف اسے ٹیکنالوجی کا انسانی جبلت پر جبر ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔
جب شوہر کی اس علمی بے حسی نے حدِ اربعہ عبور کر لی، تو بیگم نے سوچا کہ اب درخواست سے کام نہیں چلے گا، اب بغاوت ہوگی۔ انہوں نے محلے کی دیگر پروفیسرنیوں کا ایک واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا۔ پتا چلا کہ ہر گھر میں ایک ہی کہانی دہرائی جا رہی ہے؛ کوئی تاریخ کے پروفیسر کی کفن دفن والی باتوں سے نالاں تھی، تو کوئی کیمسٹری کے پروفیسر کی تیزابیت سے ہلکان۔ ان خواتین کا دکھ مشترک تھا اور دشمن ایک۔ یہ وہ خواتین تھیں جن کے شوہروں نے درس گاہ کو گھر اور خواب گاہ کو مذاکرہ ہال بنا رکھا تھا۔
اگلے ہی دن یونیورسٹی کے مرکزی دروازے پر وہ منظر تھا کہ کائنات کی آنکھ نے کبھی نہ دیکھا ہوگا۔ وہ خواتین جو گھروں میں صرف سالن کی خوشبو پھیلاتی تھیں، آج ہاتھوں میں اشتہارات اٹھائے انقلابی نعرے لگا رہی تھیں۔ یونیورسٹی کا سبزہ زار جو کبھی علمی مباحثوں کا مرکز تھا، اب ایک ایسا مورچہ بن چکا تھا جہاں طلبہ نے تحقیق چھوڑ کر براہِ راست ویڈیوز بنانا شروع کر دیں۔ نعرہ بلند ہوا: کتابیں پیاری ہیں یا بیوی؟ فیصلہ آج ہو گا!
اردو کے پروفیسر صاحب، جو کلاس میں اس وقت صنعتِ مبالغہ پڑھا رہے تھے، کھڑکی سے اپنی اہلیہ کا جلال دیکھ کر خود ایک صنعتِ تضاد بن کر رہ گئے۔ وہ لپک کر باہر آئے اور بیگم سے دبی آواز میں بولے: بیگم! تمہارا یہ طرزِ عمل فصاحت کے درجے پر تو ہے، مگر بلاغت سے قطعی عاری ہے۔ تم نے جو اشتہار اٹھا رکھا ہے، اس میں احتجاج کی ت پر تشدید نہیں آتی، اور شوہر کے ہ پر پیش دے کر تم نے ہمارے نکاح نامے کا پورے کا پورا تلفظ ہی بگاڑ دیا ہے۔ خدا کے لیے گھر چلو، وہاں بیٹھ کر اس پر ایک مفصل تقابلی جائزہ تیار کریں گے۔
بیگم نے تڑخ کر جواب دیا: پروفیسر صاحب! اب تشبیہات کی روٹی نہیں پکے گی اور نہ ہی استعاروں کا سالن ملے گا۔ آپ کو غالب کا دیوان تو یاد ہے، مگر گھر کا دیوانِ عام یعنی باورچی خانہ ویران پڑا ہے۔ آپ کی گفتگو میں رعایتِ لفظی تو بہت ہے، مگر رعایتِ گھریلو صفر ہے۔ اب فیصلہ یونیورسٹی کے سبزہ زار میں ہوگا!
ادھر فزکس کے پروفیسر صاحب اپنی بیگم کو دیکھ کر کششِ ثقل کا قانون بھول گئے۔ ان کی بیگم نے ہاتھ میں ایک پریشر ککر اٹھا رکھا تھا اور نعرہ لگا رہی تھیں: ایٹم بم باہر پھوڑیں، گھر میں سکون رہنے دیں! انہوں نے شوہر کو مخاطب کیا: پروفیسر صاحب! جب میں رو کر اپنا دکھ بیان کرتی ہوں، تو آپ میری آنکھوں سے گرنے والے آنسوؤں کے انعطافی اشاریے پر غور کرنے لگتے ہیں۔ یاد رکھیے! اگر اب گھر میں آپ نے قانونِ مزاحمت کی بات کی، تو میں آپ کا سارا علمی ملبہ چھت سے نیچے پھینک دوں گی، پھر آپ آرام سے سڑک پر بیٹھ کر اس کی کششِ ثقل جانچئے گا!
ریاضی کے پروفیسر کی اہلیہ نے مائیک پر آتے ہی ریاضیاتی انداز میں دھاوا بولا: صاحبو! میرے شوہر سمجھتے ہیں کہ محبت ہندسوں کا کوئی مسئلہ ہے جسے پرکار سے حل کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں ان کا پائتھاگورس نہیں، باورچی خانے کا بجٹ چاہیے۔ گھر میں نمک ختم ہو جائے تو یہ صاحب صفر کی فلسفیانہ اہمیت پر گھنٹوں تقریر جھاڑتے ہیں۔ فلسفے کے پروفیسر کی بیگم نے لقمہ دیا: میں کہتی ہوں مچھر کاٹ رہے ہیں، تو موصوف فرماتے ہیں کہ درد محض ایک اندرونی کیفیت کا نام ہے، مچھر کا وجود صرف تمہارے وہم کا حصہ ہے۔
بیگمات کا یہ لشکر حفاظتی عملے کو چکمہ دیتا ہوا سیدھا وائس چانسلر کے دفتر میں جا گھسا۔ وی سی صاحب نے رعب جمانے کی آخری کوشش کی، دیکھیے، تحقیق ایک مقدس فریضہ ہے اردو کی بیگم نے تیکھا جملہ اچھالا: جناب! تحقیق آپ کے لیے مقدس ہوگی، مگر ہمارا رومانس تو آپ کی کتب خانے کی دیمک چاٹ گئی نا؟ ہمارے شوہر جب گھر آتے ہیں تو ہمیں بیگم نہیں، پی ایچ ڈی کا مقالہ سمجھتے ہیں؛ بس خاموشی سے پڑھتے رہتے ہیں، کبھی داد نہیں دیتے۔
اس احتجاج کا اثر یہ ہوا کہ وی سی صاحب نے فوراً ایک اعلامیہ جاری کیا، جس کے نمایاں نکات کچھ یوں تھے:
* گھر میں مشاعرہ یا تاریخی بحث کرنے پر ایک ہفتے تک برتن دھونے کی سزا ہوگی۔
* شام 5 بجے کے بعد کوئی پروفیسر استعارہ یا ضابطہ استعمال نہیں کرے گا، صرف سیدھی بات کرے گا۔
* بیوی کی تعریف کرنا ایک لازمی تعلیمی گھنٹہ قرار دیا گیا، جس میں ناکام ہونے والے کی تنخواہ کاٹی جائے گی۔
اس تاریخی احتجاج کے بعد، یونیورسٹی کے تمام اساتذہ یکلخت شریف شوہر بن گئے۔ اب وہ گھر جاتے ہیں تو عینک اتار کر دراز میں رکھ دیتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر گھر میں ذرا سی بھی پروفیسری دکھائی، تو بیگمات کا وہ یونیورسٹی مورچہ دوبارہ لگ سکتا ہے جس کے سامنے کوئی جوہری ضابطہ یا غالب کا شعر کام نہیں آتا۔
آج کل پروفیسر صاحب گھر آتے ہیں تو کتابوں کے بجائے سبزی کا تھیلا ہاتھ میں ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ ٹماٹر کی مہنگائی پر مرثیہ پڑھنے یا آلو کی گولائی کو ہندسوں سے ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، مگر بیگم کی ایک کڑی نظر دیکھ کر فوراً خاموشیِ نیم شاں کا لبادہ اوڑھ کر باورچی خانے کی طرف دوڑ لگا دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اب وہ صرف ایک ہی موضوع پر تحقیق کر رہے ہیں، اور وہ ہے: بیگم کے مزاج کی تبدیلی اور اس کے سماجی اثرات۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ باقی تمام علوم فانی ہیں، مگر بیگم کا غصہ لامتناہی ہے جس کا کوئی کلیہ آج تک دریافت نہیں ہو سکا۔
Comments
Post a Comment