ایپسٹین فائلز سے میرے نوجوان دلوں کو ایک انتباہ۔خامہ بکف : محمد پالن پوری۔


ایپسٹین فائلز سے میرے نوجوان دلوں کو ایک انتباہ۔
خامہ بکف :  محمد پالن پوری۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے عزیز! دنیا کے بڑے اسکینڈل ہمیں انسان کی اصل کمزوریوں کا آئینہ دکھاتے ہیں۔ ایپسٹین فائلز بھی ایک آئینہ ہے جو اعلان کر رہی ہے کہ طاقت، دولت، شہرت اور تعلقات سب مل کر بھی انسان کو اُس دن نہیں بچا سکتے جب اس کا چھپا ہوا کردار عدالتِ زمانہ میں کھڑا کر دیا جائے اور یہ واقعہ ہمیں دوسروں پر انگلی اٹھانے سے زیادہ اپنے گریبان میں جھانکنے کے لئے ملا ہے بایں وجہ کہ اب یہ سوال ہونا چاہئے کہ ہم کس راستے پر چل رہے ہیں کیونکہ ہم جس ڈیجیٹل دور میں سانس لے رہے ہیں وہاں غلطی اب محفوظ ہو جاتی ہے۔ پہلے زمانے میں لغزش دیواروں کے اندر مر جاتی تھی آج لغزش ڈیٹا بن کر زندہ رہتی ہے۔ ایک تصویر جو ہنسی مذاق میں بھیجی گئی، ایک ویڈیو جو اعتماد میں شیئر کی گئی، ایک چیٹ جسے وقتی جذبات نے لکھوا دیا یہ سب اب وقت کے سمندر میں ڈوبتے نہیں ہے سرورز کے پتھر پر کندہ ہو جاتے ہیں اور انسان اکثر اس دھوکے میں رہتا ہے کہ زندگی آگے بڑھ گئی ہے جبکہ اس کا ماضی خاموشی سے اس کے پیچھے چل رہا ہوتا ہے۔۔۔۔
میرے عزیز! دنیا کی سب سے خطرناک چیز محفوظ شدہ گناہ ہے کیونکہ وہ کل کسی کے ہاتھ میں دلیل بن سکتا ہے، ہتھیار بن سکتا ہے اور مسلمان نوجوان کی لغزش بدقسمتی سے فوراً مذہب کے ترازو میں تول دی جاتی ہے۔ ایک شخص گرتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ ہیں وہ لوگ جو دین کی بات کرتے ہیں یوں فرد کا جرم اجتماعی شناخت پر لکھ دیا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا پرانا طریقہ ہے کردار کو نظریہ کے خلاف استعمال کرنا، کمزوری کو تہذیب کے خلاف بطور ثبوت پیش کرنا اس لئے اصل اخلاقی خطرہ  کے ساتھ ساتھ تہذیبی خطرہ بھی ہے اور احتیاط اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ آزادی اور لاپرواہی ایک چیز نہیں۔ موبائل ہاتھ میں ہونا اختیار ہے مگر اس کا استعمال امتحان ہے۔ ہر اسکرین ایک کھلی کھڑکی ہے جہاں سے روشنی بھی آ سکتی ہے اور اندھیرا بھی۔ فیصلہ نیت کرتی ہے۔۔۔۔۔
 میرے عزیز! عقل مند  انسان وہ نہیں جو کبھی نہ گرے بلکہ عقل مند وہ ہے جو اپنی کمزوری کو نمائش نہ بننے دے۔ دنیا کمزور کو معاف نہیں کرتی وہ کمزور کو استعمال کرتی ہے جیسے میدانِ جنگ میں دشمن تمہاری تلوار نہیں بناتا بلکہ تمہاری گری ہوئی تلوار اٹھا لیتا ہے اسی طرح یہ نظام تمہیں گرانے سے زیادہ تمہاری گری ہوئی حالت کو پھیلانے میں دلچسپی رکھتا ہے اس لئے آج کے دور میں حیا آنکھ کے ساتھ ساتھ اسکرین کی بھی صفت ہے اور ہمیں کم از کم اتنا شعور ضرور پیدا کرنا ہوگا کہ کل اگر ہماری زندگی کھول کر رکھ دی جائے تو ہمیں اپنے ہی سائے سے شرمندگی نہ ہو۔ دین ہمیں فرشتہ نہیں بناتا مگر ہمیں بے نقاب ہونے سے بچنے کا راستہ ضرور دکھاتا ہے اور یہی راستہ احتیاط ہے، توقف ہے، ہر چیز کو بھیجنے سے پہلے سوچ لینا ہے کہ اگر یہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہ گیا تو کیا میں اس کے ساتھ زندہ رہ سکوں گا؟
میرے عزیز! زمانہ بدل گیا ہے مگر اصول نہیں بدلے۔ عزت آج بھی سب سے قیمتی سرمایہ ہے فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے عزت گلی میں گرتی تھی آج عالمی اسکرین پر گرتی ہے اس لئے جو شخص اپنے کردار کی حفاظت کر لیتا ہے وہ دراصل اپنی آنے والی نسلوں کی حفاظت کرتا ہے اور کم از کم ہمیں اتنا ضرور کرنا ہے کہ ہماری ذات اسلام کے خلاف دلیل نہ بنے بلکہ اس کے حسن کی خاموش شہادت بن جائے۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔