سہارا کا زوال: صحافت کی شامِ غم۔۔تحریر: عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔
سہارا کا زوال: صحافت کی شامِ غم۔۔
تحریر: عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔
کچھ ادارے محض کاغذ پر چھپنے والی خبریں نہیں ہوتے، وہ وقت کی نبض پر رکھے ہوئے ہاتھ کی طرح ہوتے ہیں۔سہارا بھی ایسا ہی نام تھا، جو اردو ہندی صحافت کے افق پر ایک روشن ستارے کی مانند چمکا، اور آج اسی افق پر غروب ہو گیا۔ مورخہ ٨ فروری ٢٠٢٦ کو سہارا گروپ کے تمام ایڈیشنوں کی بندش کا اعلان محض ایک خبر نہیں، بلکہ اردو ہندی صحافت کے سینے میں اترنے والا خنجر ہے۔ یہ بندش صرف ایک ادارے کا خاتمہ نہیں، یہ اُن چراغوں کا بجھ جانا ہے جو اندھیری بستیوں میں سچ کی روشنی بانٹتے رہے۔ وہ صحافی جو اپنے قلم کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلے، جو خبر کے لیے خطرے کو ہم سفر بناتے رہے، آج بے چراغ راستوں میں کھڑے ہیں۔ بے روزگار، بے یار و مددگار ،سوال یہ نہیں کہ سہارا کیوں بند ہوا، سوال یہ ہے کہ ہم سب نے مل کر اسے بند ہونے کیوں دیا؟
سہارا کی دیواریں اینٹ اور سیمنٹ سے نہیں بنی تھیں، وہ خوابوں، قربانیوں اور سچ کی اینٹوں سے اٹھائی گئی آب روشنائی سے گوندی گئی تھیں۔ مگر خواب اس وقت ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں جب سماج آنکھیں بند کر لے، جب حکومتیں خاموش رہیں، اور جب سیاست اشتہار کو وفاداری سے زیادہ عزیز سمجھے۔
صحافت محض پیشہ نہیں، یہ ضمیر کی عبادت ہے۔ یہ اس معاشرے کا آئینہ ہے جس میں ہم اپنی صورت دیکھنے سے گھبراتے ہیں۔ اگر یہ آئینہ ٹوٹ جائے تو ہم خود کو پہچاننے کے قابل نہیں رہیں گے۔ سہارا کے بند ہونے کا المیہ یہ نہیں کہ ایک اخبار بند ہو گیا، اصل المیہ یہ ہے کہ سچ کا ایک دروازہ بند ہو گیا۔
ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں وہاں سچ مہنگا اور خاموشی سستی ہو گئی ہے۔ اشتہار کی زبان زور آور ہے اور حق کی آواز کمزور۔ جب توازن بگڑتا ہے تو اخبار بازار بن جاتا ہے اور قلم سوداگری کی نذر ہو جاتا ہے۔ سہارا کا بند ہونا اسی بگڑے ہوئے توازن کی سب سے بڑی علامت ہے۔بالخصوص اردو صحافت نے ہمیشہ اقتدار کے سامنے سوال رکھا، مظلوم کے شانہ بشانہ کھڑی رہی، اور فکر کی شمع جلائے رکھی۔ مگر آج وہ خود سوال بن گئی ہے: کیا اردو زبان کی سانسیں اب اخباروں میں نہیں بلکہ یادوں میں چلیں گی؟ کیا قلم اب سچ نہیں بلکہ سہولت لکھے گا؟ یہ وقت نوحہ پڑھنے کا نہیں بلکہ شعور بیدار کرنے کا ہے۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ اخبار صرف ادارے نہیں ہوتے، وہ اجتماعی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ انہیں زندہ رکھنا حکومت کی بھی ذمہ داری ہے، سماج کی بھی، اور قاری کی بھی۔ جو قوم اپنے اخبار کو سہارا نہیں دیتی، وہ دراصل اپنی سوچ کو بے سہارا کر دیتی ہے۔ سہارا کے زوال نے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ اگر صحافت کو معاشی تحفظ نہ ملا تو آزادیِ اظہار ایک لفظ رہ جائے گی، اور اگر قلم کو تحفظ نہ ملا تو سچ ایک افسانہ بن جائے گا۔
آج سہارا رخصت ہوا ہے، مگر اس کے ساتھ ایک سوال چھوڑ گیا ہے: کیا ہم آنے والے دنوں میں بھی ایسی ہی خاموشی سے اپنے چراغ بجھتے دیکھتے رہیں گے؟
اگر ایسا ہوا تو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اندھیرا صرف خبروں کا نہیں ہوگا، یہ ضمیر کا اندھیرا ہوگا۔ اور جب ضمیر اندھیرا ہو جائے تو قومیں راستہ بھول جایا کرتی ہیں۔ سہارا بند ہوا ہے، مگر اس کی صدائیں اب بھی فضا میں معلق ہیں۔ وہ ہم سے پوچھ رہی ہیں: “کیا تم نے سچ کا ساتھ دیا؟ کیا تم نے قلم کی حرمت پہچانی؟
یا تم نے بھی خاموشی کو سہارا بنا لیا؟” ان قلم کاروں کا خیال رکھیں جنھوں نے ہر اندھیری راہ کو منور کرنے کے لئے چراغوں کو خون سے بھرا ہے۔
Comments
Post a Comment