آہ ۔۔۔۔۔۔! سولاپور کا ایک اور ستارہ ٹوٹ گیا۔۔۔۔۔!محمد احسن نظیر منشی ۔( عرف نظیر منشی )اب اس جہاں میں نہیں رہے۔۔ از قلم : عبدالمنان شیخ ۔کاجل نگر ہوٹگی روڈ ،سولاپور۔

آہ ۔۔۔۔۔۔! سولاپور کا ایک اور ستارہ ٹوٹ گیا۔۔۔۔۔!
محمد احسن نظیر منشی ۔( عرف نظیر منشی )اب اس جہاں میں نہیں رہے۔
از قلم : عبدالمنان شیخ ۔
کاجل نگر ہوٹگی روڈ ،سولاپور۔
...............................................

 اخلاق و انکساری کے پیکر ،قوم و ملت کے خادم نور ایجوکیشن ٹرسٹ کے خالق نظیر منشی صاحب اس دار فانی سے کوچ کرگئے ۔
اِنّا لِلہ واِنّا اِلیہِ راجِعوُن ۔۔۔۔۔!

کیوں ہے خاموش سونے کی چڑیا بتا
لگ گئی تجھ کو کس کی نظر بول نا

سولاپور کی جن شخصیات کو سماجی و تعلیمی خدمات کی بدولت ہر طبقہ کو اعتبار حاصل ہے ان میں محترم نظیر منشی صاحب کا نام بھی نمایاں تھا آ ج وہ ستارہ ٹوٹ گیا۔قوم وملت کے غریب طلبہ کی زندگی کو بلند کرنے اور انھیں خود کفیل بنا کر سماج میں ابھارنے کا کام خاموش طریقے سے بہترین انداز میں اپنے خدمات انجام دے رہے تھےاب تک غریب طلبہ کے تعلیم کے لیے ساڑھے تین کروڑ مالی اعانت فرمائی اسی لیے انھیں غیر معمولی شہرت حاصل تھی ۔سماج میں اہم مسئلہ رشتوں کا پچھلے چالیس سالوں سے نور میریج بیورو کے تحت انجام دے رہے تھے۔
*فی سبیل اللہ آج تک 900بیوہ ،بیٹیوں کو ان حق کا پینشن دلوایا۔ طلبہ میں تخلیقی صلاحیت کی بیداری کے لیے "تحریک مطالعہ "کے تحت 120 پرائمری اسکولوں میں مفت کتابوں کا سیٹ دے کر کتب خانے قائم کرکے بے نظیر کارنامہ انجام دیا ۔ان کے تعلیمی و سماجی خدمات کے اعتراف میں مہاراشٹر کے مختلف تنظیموں کی جانب سے کئی ایوارڈز ان کو مل چکے ہیں ۔
انھیں علاج کے لیے اشونی ہاسپٹل میں داخل کروایا گیا تھا لیکِن ڈاکٹروں کی انتھک محنت کے باوجود انھیں بچا نہ پائے ضرورت مندوں غریبوں ،یتیموں اور بیواؤں کی خلوص مندی سے مدد کرنے والا اب اس جہاں کو الوداع کہہ گیا۔ان کے انتقال کی خبر سن کر ان کے چاہنے والوں میں غم کا ماحول ہے۔تعلیمی و سماجی شخصیات نے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور قوم ملت کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے ۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

مرحوم نظیر منشی صاحب جیسی شخصیات خال خال ہی پیدا ہوتی ہیں ۔حق بات ہمیشہ بے باکی کے ساتھ کہتےحق بات کے لیے کبھی کسی سے سمجھوتہ نہیں کیا۔اس کے باوجود ان کےسینے میں ایک درد مند دل تھا جو ہمیشہ ضرورت مندوں ،غریبوں اور سماجی بیداری کے لیے دھڑکتا رہتا تھا ۔
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ مرحوم کے تعلیمی و سماجی خدمات کو قبول کرے۔ ان کی بال بال مغفرت فرمائے۔اللہ انھیں غریقِ رحمت کرے۔ان کے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو معاف کرے۔ان کی قبر کو جنّت کا باغ بنائے جنّت الفردوس میں اعلا مقام عطا کرے ۔  جملہ منسلکین کوصبرِ جمیل عطا کرے ۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہء نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔