سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے۔ - عالمی یومِ مادری زبان پر اردو والوں کو عملی عہد کی ضرورت — سید حسین اختر۔۔
بیڑ (نامہ نگار): عالمی یومِ مادری زبان کے موقع پر مہاراشٹر راجیہ اردو ساہتیہ اکادمی کے کارگزار صدر سید حسین اختر نے اردو داں طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن محض زبان سے محبت کے دعوے کافی نہیں بلکہ اردو زبان کے تئیں عملی ذمہ داری نبھانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ 21 فروری عالمی یوم مادری زبان کے طور پر منایا جاتا ہے۔
سید حسین اختر نے مزید کہا کہ جن لوگوں کی مادری زبان اردو ہے، اُن کے لیے لازم ہے کہ وہ اس موقع پر ایک مضبوط عہد کریں کہ وہ اردو سے صرف جذباتی وابستگی کا اظہار نہیں کریں گے بلکہ اس کے تقاضوں کو بھی پورا کریں گے۔ ان تقاضوں میں بالخصوص تین امور شامل ہیں:
اردو زبان کی حفاظت،
اردو زبان پر فخر، اور اردو کی ترویج و اشاعت۔
سید حسین اختر نے پُراثر انداز میں کہا کہ اہلِ اردو کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ ان ذمہ داریوں کی ادائیگی سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، کیونکہ زبانیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل عمل، محنت اور شعوری کوششوں سے زندہ رہتی ہیں۔
انہوں نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ اردو نے داغؔ دہلوی کے مشہور مصرعے
“ہندوستان میں دھوم ہماری زباں کی ہے”
میں محبت کے جذبے کے تحت تحریف کر کے اسے
“سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے”
بنا دیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ اردو والوں نے اپنی زبان سے بے پناہ محبت کا اظہار کیا۔ تاہم، انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ صرف زبانی دعوے کافی نہیں، بلکہ اس محبت کا عملی اظہار بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر واقعی ہم یہ مانتے ہیں کہ اردو ایک عالمی زبان ہے تو ہمیں اس کے فروغ، نئی نسل تک اس کی منتقلی، تعلیمی و ادبی میدانوں میں اس کے استعمال اور سماجی سطح پر اس کی وقعت بڑھانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی ہوں گی۔ یہی عالمی یومِ مادری زبان کا اصل پیغام اور تقاضا ہے۔
آخر میں سید حسین اختر نے امید ظاہر کی کہ اردو داں طبقہ اس دن کو محض ایک علامتی تقریب تک محدود نہیں رکھے گا بلکہ اردو کے تحفظ اور فروغ کے لیے عملی قدم اٹھائے گا، تاکہ ہماری مادری زبان آنے والی نسلوں تک پوری آب و تاب کے ساتھ منتقل ہو سکے۔
Comments
Post a Comment