قلم اور خدمت خلق: ثناء وقار کی پہچان ۔۔۔۔ ازقلم : واجد اختر صدیقی، گلبرگہ، کرناٹک، انڈیا۔
قلم اور خدمت خلق: ثناء وقار کی پہچان
ازقلم : واجد اختر صدیقی، گلبرگہ، کرناٹک، انڈیا۔
موبائل : 9739501549
Gmail : wajidakhtar4444@gmail.com
ادب کو ہم صرف الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے بلکہ ادب فکری احساس اور شعور کو جوڑنے کی مضبوط اور طاقتور لہر کا کام انجام دیتاہے. ایسے ہی شعور اور مقصدی ادب کو پیش کرنے والی اور اِس کی حمایت کرنے والی نئی نسل کی نمائندہ شخصیت و آواز کانام ثناء وقار ہے جن کے قلم سے علم و ادب ، نفسیات ، اخلاق اور انسان دوستی کا حسین امتزاج اوراق کی زینت بنتا ہے ۔
اورنگ آباد (مہاراشٹر ) علمی و ادبی سرزمین کہلاتی ہے- ایسے علمی و تہذیبی ماحول میں پرورش پانے والی ثناء وقار نے اپنی ابتدائی تعلیم علامہ شبلی اردو ہائی اسکول نواب پورہ اورنگ آباد سے حاصل کی۔ بعدازاں ڈاکٹر رفیق زکریا کالج فار ویمن سے ایچ ایس سی مکمل کیا ۔ مولانا آزاد کالج ڈاکٹر رفیق زکریا کیمپس ، روضہ باغ اورنگ آباد سے اعلیٰ تعلیم کے مدارج طئے کئے۔ علم نفسیات، اردو اور انگریزی میں انھوں نے پوسٹ گریجویشن کی اعلیٰ سندیں حاصل کیں۔ درس و تدریس سے ان کی دلچسپی کے باعث انھوں نے مراٹھواڑہ کالج آف ایجوکیشن اورنگ آباد سے بی ایڈ (B.Ed) میں امتیازی نشانات سے کامیابی حاصل کی۔ علم نفسیات سے ان کی گہری وابستگی نے انھیں چین سے بیٹھنے نہیں دیا۔ ایم جی ایم یونیورسٹی اورنگ آباد سے کاؤنسلنگ سائیکالوجسٹ کی وہ تربیت حاصل کررہی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول نے ان کی شخصیت سازی میں بڑا اہم رول ادا کیا اور ان کے مزاج میں علمی وسعت اور فکری گہرائی کے نقوش بدرجۂ اتم پائے جاتے ہیں۔ وہ بچپن ہی سے نہایت ذہین و فطین واقع ہوئی ہیں۔ اس کے باوصف کم سنی کے باوجود اُن کی تحریروں میں محض الفاظ گشت نہیں کرتے بلکہ انسان کے باطن کو وہ اشکار کرنے میں کامیاب نظر آتی ہیں۔
ثناء وقار ایک فعال اردو رائٹر ہیں۔ حالاتِ حاضرہ سے وہ بخوبی واقف ہیں۔ ان کا قلم سست روی کا شکار نہیں، وہ جہاں بھی سماج میں نابرابری اور بے انصافی کو دیکھتی ہیں وہ اپنے قلم کو جنبش دیتی ہیں ۔ سچائی کو بیان کرنے میں ان کا قلم نہ رکتا ہے اور نہ ہی تھکتا ہے بلکہ وہ اپنی منزل کی تلاش میں رواں دواں رہتی ہیں۔
ثناء وقارکے حصے میں اُن کا ادبی ذوق خاندانی وراثت ہے۔ داداجان عبدالمجید ( ہیڈماسٹر ) کی قائم کردہ ذاتی لائبریری نے بچپن ہی سے کتابوں کے مطالعے کا شوق ان کے اندر پیدا کیا۔ اِن کے والد تحفے میں معیاری کتابیں دیتے اِن تحفوں کی بناپر کتابیں پڑھنے کاجذبہ وجستجو اور زیادہ پروان چڑھا۔ اخبارات اور رسائل سے قربت نے ان کے تخیلات کو جلا بخشی۔ مطالعے کو انھوں نے صرف مشغلے کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ مطالعہ ان کے لئے ایک مشق کی حیثیت حاصل کرتارہا، جس کی مدد سے ان کے مزاج میں غوروفکر ، تدبر اور مشاہدے کی قوت میں اضافہ ہوتارہا۔
ثناء وقار ابھی نوجوانی کی دہلیز پر ہیں لیکن ان کاماننا ہے کہ اچھا ادب وہی ہوسکتاہے جس کے اندر انسان دوستی کے عناصر موجود ہوتے ہیں۔ ادب انسانی ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہے جونسل در نسل منتقل ہوتا رہتاہے۔ یہ معاشرے اور ثقافت کا عکس ہے جس کی مدد سے ذہنی وسعت پیدا ہو تی ہےاور ادب ایسا ہو جس سےصالح معاشرے کی تشکیل ہوسکے۔ ان کے نزدیک ادب ، فراخ دلی ، علمی وسعت اور دنیا بھر کے انسانی معاملات کو زیربحث لانے کا نام اور ادب سیاست, شہرت یا علاقائی تعصب کا سبب نہیں بلکہ ادب انسانی قدروں، اخلاقی شعور اور عمدہ فکر کاحامل ہونا چاہئے۔ اسی طرح کا رجحان و میلان ثناءوقار کی تحریروں میں نمایاں نظر آتاہے۔
ان دنوں ثناء وقار باقاعدگی سے اپنے ادبی سفر کی طرف رواں دواں ہیں۔ انھوں نے کئی اصلاحی مضامین ، موضوعاتی مضامین ، معاشرتی مضامین تحریر کئے اور کالم نگاری سے بھی انھیں شغف رہا ہے۔ اِن کی یہ تحریریں ملک ہندوستان اور بیرون ملک کے مؤقر رسائل و اخبارات میں تواتر سے شائع بھی ہوتے ہیں۔ وہ جو بھی لکھتی ہیں ڈوب کر لکھتی ہیں اور دردمندانہ اپیل بھی کرتی ہیں۔ نفسیاتی مسائل کو سلجھانے والی ان کی تحریروں کا ان کا اپنا منفرد(skill) ہوتاہے اور اپنی بات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں اور سائنٹفک طریقے سے بجا طور پر منوانے کی بھی وہ سعی کرتی ہیں۔
ثناء وقار کو ان کے فعال کردار ، شفاف ذہن اورمعیاری تحریرات کے لئے انھیں کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔جن میں لوک سیوا ایجوکیشن سوسائٹی اور جماعت اسلامی ہند جیسے ادارے قابل ذکر ہیں اور یہ اعزازات یقینی طور پر ان کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف ہے۔
بحیثیت معلمہ ، ماہر نفسیات، مشیر (councelor) کے ان کی تحریروں میں ہمیں جابجا دینی، تعلیمی، نفسیاتی اور سماجی آگاہی کاجامع نمونہ ملتا ہے۔ ان کا مقصد صرف لکھنا نہیں ہے بلکہ وہ خدمت خلق، شعور کی بیداری اور مثبت تبدیلی لانا چاہتی ہیں جس کے لئے وہ مسلسل جدوجہد میں لگی ہوئی ہیں ۔ انھوں نے اپنی زندگی کا مقصد نیک انسان بننے اور بامقصد زندگی گزارنے اور نیک اعمال کرتے ہوئے خدمت انسانیت کو اپنا شعور بنایا ہے۔
قرآن مجید ، سیرت النبیؐ اورمعیاری دینی و فکری کتب ان کے فکری سفر کی رہنما ہیں اور حضوراکرمؐ ، والدین اور اساتذہ ان کی پسندیدہ شخصیات ہیں۔
ثناء وقار کاقلم آج بھی اسی یقین کے ساتھ رواں دواں ہے کہ ’’ قلم پر فخر ہے مجھ کو - ادب پہچان ہے میری‘‘
بہرکیف ثناء وقار ابھی کچی عمر کے مراحل طئے کررہی ہیں لیکن ان کے خیالات کی بلندی ، ان کے مزاج کی پختگی ، ان کے کردار کی بالیدگی یقینا اُن کے معاصر خواتین کے لئے مشعل راہ ہے اور ان کے معاصر قلمکاروں کے لئے رہنمائی کا سبب بھی ہے۔ اِس عمر میں جب خواتین اپنے چہرے مہرے کی تروتازگی کو بنائے رکھنے کی مشق میں لگی رہتی ہیں، ایسے حالات میں ثناء وقار اپنے قوم کے بچے اور بچیوں کی زندگیوں کو سنوارنے کی کشمکش میں ہیں۔ یقینا ان کا قلم اور ان کا عمل قابل ستائش ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ’’عمرے کی سعادت‘‘ سے بھی مشرف کیا ہے۔ دعاگو ہوں کہ اللہ ان کے مستقبل اور ان کی زندگی کو سنوارے اور وہ اپنے گوہر مراد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوں ۔ آمین
٭٭٭
Comments
Post a Comment