حضرت زین العابدین الدین عمر مدنیؒ اہل قریش، پاڈلی تعلقہ جننر ضلع پونہ کے ١٢٣٤واں اور مست مولا مست قلندر شمش الاولیاء صوفی سرمست حضرت تاجی کا ١٤ واں عرس مبارک کے موقع بزرگوں کی کرامات خدمات تبلیغ دین طرز زندگی کا مختصر تعارف۔۔حضرت زین العابدین الدین عمر مدنیؒ |۔ جنّر کی سرزمین پر مدینہ کی خوشبو(پاڈلی، تعلقہ جنّر ضلع پونہ ، آستانہ مبارک: اہلِ قریش قبرستان)تحریر: عقیل خان بیاولی، جلگاؤں مہاراشٹر۔
حضرت زین العابدین الدین عمر مدنیؒ اہل قریش، پاڈلی تعلقہ جننر ضلع پونہ کے ١٢٣٤واں اور مست مولا مست قلندر شمش الاولیاء صوفی سرمست حضرت تاجی کا ١٤ واں عرس مبارک کے موقع بزرگوں کی کرامات خدمات تبلیغ دین طرز زندگی کا مختصر تعارف۔۔
حضرت زین العابدین الدین عمر مدنیؒ |۔
جنّر کی سرزمین پر مدینہ کی خوشبو
(پاڈلی، تعلقہ جنّر ضلع پونہ ، آستانہ مبارک: اہلِ قریش قبرستان)
تحریر: عقیل خان بیاولی، جلگاؤں مہاراشٹر۔
جنّر کی پہاڑی فضاؤں میں آج بھی اگر کسی نے دل کی سماعت رکھی ہو تو اسے ایک خاموش صدا سنائی دیتی ہے، وہ صدا جو صدیوں پہلے مدینہ کی گلیوں سے اٹھی تھی اور دکن ہند کی مٹی میں رچ بس گئی۔ اس صدا کا نام تابعین تبع تابعین الشیخ الحدیث الجلیل الخطیب السبیل برکت الاسلام رفیع المقام رئیس العارفین الم الصالحین العارف باللہ و تعالیٰ ناشیر الشریعت دل ملتی والدین سیدنا و مولانا زین العابدین عمر مدنی الحنفی اور قطب شاہ فقیر پیر شاہ بابا رحمتہ اللہ علیہ اور ١٤ واں عرس مبارک حضرت القطب الغوث الغردل جامع الکبیر شمش العرفان مست مولا قادر شمش الاولیاء صوفی سرمست شیخ سیدنا زین العابدین الحامد سید شمس الدین القادری الرفاعی الشمشی الشادلی السہروردی الچشتی التمامی رحمت اللہ کا عرس مبارک ہے
*حضرت زین العابدین الدین عمر مدنیؒ*
یہ وہ درویشِ بے نشاں جنہوں نے نہ سلطنتوں کی طلب کی، نہ شہرت کی خواہش، بس ایک چراغ ہاتھ میں لیے آئے اور جنّر کی تاریک راتوں میں روشنی بانٹتے چلے گئے۔ اہلِ دل کہتے ہیں کہ آپ کا سفر نقشِ پا کے بغیر نہیں تھا، بلکہ اس نسبت کے ساتھ تھا جو امام ابو حنیفہ ،الحسنی حسینی، مدینہ کی مٹی سے بندھی ہوئی ہے۔
نسبتِ مدینہ، نسبتِ دل
حضرت زین العابدین الدین عمر مدنیؒ القریش کا نام سنتے ہی مدینہ کی خوشبو ذہن میں اُتر آتی ہے۔ روایت ہے کہ آپ اسی سرزمین کے رہنے والے تھے جہاں حضور اکرم مصطفیٰ ﷺ نے دلوں کو فتح کیا۔ بتوں کا خاتمہ کیا، اسی نسبت نے آپ کے دل میں نور لہجے میں نرمی، آنکھوں میں حیا اور کردار میں وہ وقار رکھا جسے دیکھ کر دل خود بخود جھک جاتا ہے۔ آپ دکن ہند میں آئے تو تلوار ساتھ نہیں لائے، صرف مسکراہٹ، سچائی استقامت،دین اور صبر کو اپنا ہتھیار بنایا۔ جنّر کی مٹی نے جب اس مسافر کو پہچانا تو وہی مٹی آپ کی امانت بن گئی۔خاموش تبلیغ دین کا چراغ حضرت زین العابدین الدین عمر مدنیؒ کی خانقاہ نہ وسیع و عریض تھی نہ بلند فلک بوس گنبدوں والی تھی نہ کشادہ صحنوں والی۔ آپ کی خانقاہ بس دلوں میں تھی۔ حضرت بچوں کو قرآن کے حروف سکھاتے، غیر مسلموں کو دین اسلام باتیں بتاتیں ،بوڑھوں کے ہاتھ تھام کر انہیں رب کی پہچان کرواتے اور اجڑے دلوں اور ٹوٹی آس میں امید کے بیج بوتے۔ آپ کی مجلس میں نہ شور ہوتا تھا نہ دعوے، بس ایک قلبی سکون راحت ہوتی تھی جو تھکے ہوئے انسان کو آرام بخشتی ۔ درویشی زندگی کا جمال کہا جاتا ہے کہ آپ نے دنیا کو دیکھا ضرور مگر دنیا کو دل میں جگہ نہ دی نہ اسے اپنایا ۔آپ کی راتیں سجدوں میں گزرتیں، دن خلقِ خدا کی خدمت میں۔ آپ کو دو لاکھ سے زائد احادیث مبارکہ ازبر تھیں آپ کو علم فقہاء پر دسترس حاصل تھی ۔کبھی
لبوں پر شکوہ نہ آیا، ہاتھوں میں کبھی انکار نہ آیا۔لوگ کہا کرتے تھے:
“یہ بزرگ اپنے لیے کم، دوسروں کے لیے زیادہ جیتے ہیں۔” کرامت نہیں، کرم کی عادت تھی
اہلِ جنّر میں آج بھی یہ روایت زندہ ہے کہ: جب قحط نے زمین کو تھکا دیا زمین بانجھ ہونے اپج بند ہونے کو آئ تو آپ کی دعا سے بادل مہربان ہو گئے اور رحمت خداوندی برس پڑی۔ جب بیماری نے قہر مچایا انسان کو توڑ دیا،
لوگ موت کے گھاٹ اترنے لگے تو آپ کی دعا نے انہیں شفا بخشی، آج بھی کئی خطرناک امراض والے آپ کے یہاں سے شفایابی حاصل کر رہے ہیں بالخصوص کینسر جیسے موزی مرض والوں پر آپ کی خصوصی عنایت ہوتی ۔ جب جنگل کے جانور فصلوں پر ٹوٹ پڑے تو آپ کی دعا فصلوں کے لیے حصار بن گئی اور فصلوں کو جنگلی جانور نقصان نہ پہنچا سکے ۔ان پر بھی آپ خود فرماتے تھے:“یہ سب اللہ کا کرم ہے، زین الدین کا اس میں کچھ بھی نہیں۔”
آستانہ عالیہ پر اگر دل سے دعا کی جائے، راستہ بن جاتے ہیں جب حضرت زین العابدین الدین عمر مدنیؒ نے اس فانی دنیا سے ظاہری رخصت لی تو اہلِ قریش قبرستان نے ایک چراغ اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ آج بھی وہاں خاموشی بولتی ہے، فضا ذکر کرتی ہے اور مٹی دعا مانگتی محسوس ہوتی ہے۔ اسی لیۓ حضرت صوفی حکیم عثمان جوہری مدظلہ قطب زماں تلمیذ ابو حنیفہ و حسن شیبان ماہر شیخ الحدیث کامل معرفت و عرفان حضرت کی شان با صفات میں یوں نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں ۔۔"
" تیرے تقوے کی زینت ذکر حق قرباں فنا فی اللہ ۔
فداۓ دین من خواجہ صفت سلطاں فنا فی اللہ ۔
تصوف علم خالص مائل عرفاں فنا فی اللہ فقیہہ ملتمس حاجت روانی قرب پیمانہ۔
مست قلندر مست پیمانہ عمر مدنی کا میخانہ ۔۔۔ عمر مدنی کا میخانہ ۔۔
"تجلی بو حنیفہ اور حسن شیبان من علمی
علی کی چشمِ باطن فاطمہ کی جان من علمی
قطب شاہ شریعت اور طریقت شان من علمی ۔
ولایت درد شبیری بروۓ جانانہ۔
قلندر مست پیمانہ عمر مدنی کا میخانہ ۔۔۔ عمر مدنی کا میخانہ ۔۔۔
مسلمان ہوں یا غیر مسلم، دل کے دکھ لے کر آنے والا ہر فریادی یہاں اپنی مراد پری کر سکون پا لیتا ہے۔ یہی اس بزرگ کی سب سے بڑی پہچان ہے۔یہاں ٹوٹے دل جڑتے ہیں قلب کو سکون و راحت نصیب ہوتا ہے
پیغامِ مدنی درویش
حضرت زین الدین عمر مدنیؒ اور حضرت تاجی کی زندگیاں ہمیں بتاتی ہے کہ: دین کا راستہ نہ نعروں سے بنتا ہے نہ تلواروں سے، وہ کردار سے بنتا ہے، وہ خدمت سے بنتا ہے، وہ محبت سے بنتا ہے۔ وہ انسانیت سے بنتا ہے، پاڈلی جنّر کی زمین پر اگر آج بھی ایمان کی خوشبو ہے تو اس میں حضرت زین العابدین الدین عمر مدنیؒ اور حضرت تاجی جیسے کئی خاموش درویشوں کا حصہ ضرور ہے۔ انہیں کے ساتھ آپ ہی کے سلسلہ کے حضرت تاجی کا بھی ١٤ واں عرس مبارک منعقد ہو رہا ہے آپ کو بھی حضرت تاج الدین ولی رحمت اللہ علیہ کے سینے سے علم و عرفان حاصل ہیں آپ کا شمار بڑے بزرگوں میں ہوتا ہیں آپ کی معرفت بھی حاجت مند اپنی حاجت روانی کر تکمیل و فیض پاتے ہیں۔ یہ عرس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ: “ولی وہ نہیں جو کرامت دکھائے، ولی وہ ہے جو دل بدل دے۔” دل بدلنے کی کرامات اہل دل اہل قریش قبرستان پاڈلی جنر میں کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ۔اس عرس مبارک میں بلا تفریق مزہب قومی اور بین الاقوامی سطح کے عاشقان اہل قریش، اہل بیت ،کی آمد رہتی ہیں ١٢٣٤ واں عرس مبارک ٨ فروری ٢٠٢٦ بہ روز پیر سے آغاز ہوگی جو کم بیش ٤ دنوں تک مختلف تقریبات کی صورت میں جاری رہے گی یہ تقریبات آل رسول ﷺ اولاد علی وجہہ الکریم شہزادہ حضرت غوث الاعظم کرامات خواجہ پیا واقف علم اصرار فقیر ذی وقار سیدنا و مولانا حضرت سید ابوالحسن محب اللہ الحسنی ول حسینی القادری الرفاعی اش شادلی الچشتی السہروردی النقشبندی التاجی طوالہو عمرھو کی زیر قیادت میں ہوگی۔ اسی آستانہ عالیہ مبارکہ دیار فیض و حکمت سے قمری سال رواں میں جلگاؤں خاندیش مہاراشٹر کے عظیم صوفی شاعر رفیق امت، ہمدرد قوم، حضرتِ عثمان جوہری حکیم صاحب دامت برکاتہم کو حضرت موصوف نے القطب الغوث الغردل جامع الکبیر شمش العرفان مست مولا مست قلندر شمش العرفان صوفی شیخ سیدنا بابا شمش الدین الرفاعی الشمشی الشادلی السہروردی الچشتی کے تبکرات عالیہ امامہ شریف، جبہ شریف رومال و تسبیح مبارکباد مع سند عطا کی ۔ یہ تبرکات نہ صرف صوفی حکیم صاحب حضرت عثمان جوہری قبلہ بلکہ علاقہ خاندیش اور عاشقان اہل بیت تابعین تبع تابعین کے لئے باعثِ فخر و خیر و برکت کا وسیلہ بنے گا ۔ اور دل سے بس یہی دعا نکلتی ہے ۔۔
"ہوعطا صدقہ ہمیں بھی اہل بیت اہل قریش ,
اور ملے نور ہدایت اہل بیت اہل قریش،
نسبت صلی علیٰ ﷺ سے معرفت قائم رہے،
ہے یہ سرمایہ عقیل بہ صفت اہل قریش۔"
Comments
Post a Comment