خواتین نے شاعری کے ذریعہ قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔۔ایوان احمد شعبہ ٔ خواتین کے ادبی اجلاس و مشاعرہ سے ادھیش رانی باوا و دیگر کا خطاب،شاعرات کو بھرپور داد۔۔
حیدرآبا-12/ فبروری (پریس نوٹ) ایوان احمد ملک پیٹ شعبہ خواتین کے زیر اہتمام "خواتین کا ادبی اجلاس و مشاعرہ رباط محبان اردو، ملک پیٹ میں عظیم الشان پیمانے پر منعقد ہوا مشاعرہ کو شاعرات اور خاتون سامعین کے لیے ہی مختص کرنے پر شاعرات اور خواتین نے اپنی بھرپورپسندیدگی کا اظہار کیا کنوینر ادبی اجلاس ومشاعرہ بیگم پروفیسر مسعود احمد نے ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ سماجی برائیوں کے نشاندہی اصلاح اور قوم کی تعمیر میں خاتون شعرا کا اہم رول ناقابل فراموش ہے لڑکیاں اور خواتین گھریلو ذمہ داریوں کوبہ حسن خوبی نبھانے کے ساتھ ساتھ معاشرہ کی صالح تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں کنوینر اجلاس نے مزید کہا کہ عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ خواتین صرف گھریلو ذمہ داریاں نبھاتی ہیں لیکن آج کے دور میں خواتین کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کو پالنے، پوسنے اور اپنی اولاد کو اسکولوں اور کالجس تک لانےولیجانے کی ذمہ داری اور دیگر امور کی انجام دہی میں صبح سے شام تک مصروف ہیں یہی نہیں بلکہ تعلیم اور تدریس کے ساتھ مختلف سماجی کاموں میں حصہ لیتے ہوئے اہم رول نبھا رہی ہیں صدر اجلاس و محب اردو محترمہ او دیش رانی باوا نے کہا کہ حیدرآباد گنگا جمنی تہذیب کا عظیم گہوارہ ہے یہاں پر مختلف مذاہب کے لوگ جس طرح سے آپس میں مل جل کر رہتے ہیں اس کی مثال دنیا بھر میں نہیں ملتی انہوں نے کہا کہ بھائی چارگی کی یہ روایات ہمیشہ قائم رکھنے میں شعری و ادبی محفلوں کابھی اہم رول رہا ہے۔ اور اس صنف میں خواتین نے بھی اپنی صلاحیتوں کے بہترین جوہر دکھائے ہیں انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھر میں خواتین کی صلاحیتوں اور ان کی خدمات سے استفادہ کیا جا رہا ہے ڈاکٹر اودیش رانی نے ایوان احمد شعبہ خواتین کے زیر اہتمام اس عظیم الشان ادبی اجلاس و مشاعرہ برائے خواتین کو ایک بہترین اور سلجھی ہو ئی محفل قرار دیا اور کہا کہ ایسی محفلیں وقت کا تقاضہ ہے انہوں نےکنوینر محفل کو اس سلسلے میں دلی مبارکباد بھی پیش کی انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی تخلیقات میں زیادہ تر سماجی مسائل کا احاطہ کریں اور سماج میں خواتین پر ہونے والے مظالم پر کھل کر اظہار خیال کریں انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد گنگا جمنی تہذیب کا ایک شہر ہے اس شہر کی خاص خوبی یہ ہے کہ سماج کے مختلف طبقات آپس میں مل جل کر رہتے ہیں ۔ ڈاکٹر گل رعنا نے کہا کہ زندگی کی تیز رفتار دوڑ میں خواتین بھی مرد حضرات کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں کئی خواتین تعلیم کے شعبے میں اور کئی خواتین طب کہ میدان میں بڑی سرگرمی کے ساتھ خدمات انجام دے رہی ہیں وہیں شعر و ادب میں بھی ان کا قابل ذکر رول ہے شاعرات نے ہمیشہ سماجی مسائل، ناروا سلوک اور خواتین پر ہونے والے ظلم و ستم اورتشدد پر اظہار خیال کیا ہے خواتین کی شاعری عام انسانوں کی ترجمانی ہوتی ہے یہ ایک خاص جوہر ہے جو خواتین کے حصے میں آیا ہے انہوں نے کہا کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر خواتین نے شاعری کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور سماج میں خواتین نے اپنا ایک اونچا اور مستحق مقام پایا ہے لیکن بعض لوگ خواتین کی توقیر و عظمت سے ناواقف ہونے کے سبب اپنی کم علمی کا مظاہرہ کرتے ہیں جوکہ نامناسب بات ہے اس خواتین کے ادبی اجلاس و مشاعرہ کی نظامت ممتاز ناظمہ ڈاکٹر عطیہ مجیب عارفی نے بہت ہی حسن و خوبی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دئے اور سبھی کا حسب مراتب تعارف پیش کیا اور تقریب کی خوبصورتی میں اضافہ کیا ۔ مشاعرہ میں شاعرات ثریا جبین،تقیہ غزل، ارجمند بانو، صبیحہ تبسم،ٓرزو مہک، رفیعہ نوشین ، سبحتہ المرجان، اوما دیوی، سویتا سونی، عذرا سلطانہ ، تجمل تاج، ناہید اختر، صائمہ متین ، ثمینہ بیگم ، ڈاکٹر روبینہ شبنم، نے اپنا کلام پیش کیا جسے سامعات نے بھرپورداد و تحسین سے نوازا۔
Comments
Post a Comment