روشن مستقبل کے ضامن : اسامہ اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج بھساول،کا اپنے اساتذہ کی علمی و فکری میراث کو شاندار خراجِ تحسین۔
روشن مستقبل کے ضامن : اسامہ اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج بھساول،کا اپنے اساتذہ کی علمی و فکری میراث کو شاندار خراجِ تحسین۔
بھساول (یامین شیخ )علم وہ ابدی نور ہے جو جہالت کی تاریک راہوں میں زندگی کی قندیل روشن کرتا ہے، اور اس نور کو اپنے لہو سے سینچنے والے وہ عظیم اساتذہ ہیں جو اپنی تمام تر توانائیاں نسلِ نو کے مستقبل کو درخشاں بنانے کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ اسی پاکیزہ جذبے اور علمی تشنگی کو مٹانے والے خاموش خدمت گاروں کی قدر دانی کے لیے مقامی تعلیمی ادارے اسکول ’اسامہ اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج،بھساول‘ کے زیراہتمام ۵ فروری ۲۰۲۶ کو ایک پروقار، روح پرور اور مہر و وفا سے لبریز تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے سحر نے پورے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جس کی مثال علمی حلقوں میں مدتوں دی جائے گی۔
اس تقریب کی صدارت کے فرائض محترمہ رقیہ عبدالروف خان صاحبہ نے نہایت متانت، وقار اور فہم و فراست کے ساتھ انجام دیے -ان کی خدمت میں محترمہ وحیدہ میڈم نے نہایت والہانہ انداز میں محبتوں کے نذرانے پیش کیے اور انہیں خوش آمدید کہا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی جناب راجندر آوٹے صاحب (شکشن سبھاپتی، نگر پالیکا بھساول) تھے، جن کی تشریف آوری نے محفل کی رونق کو دوبالا کر دیا۔ ان کے ہمراہ اسٹیج پر انجینئر راجیش چندرا صاحب، ادارے کے روحِ رواں جناب اسامہ عبدالروف خان صاحب، صدر مدرس سید نوید سر اور محترم پرتھوی پاٹل صاحب جیسی معزز شخصیات جلوہ افروز تھیں، جن کے دم قدم سے یہ نشست علمی و سماجی وقار کا مرقع نظر آ رہی تھی۔ مہمانِ خصوصی راجندر آوٹے صاحب کے اعزاز میں جناب اسامہ عبدالروف خان صاحب نے عقیدت کی شال اوڑھا کر اور مہکتا ہوا گلدستہ پیش کر کے ان کا ’شاہانہ‘ خیر مقدم کیا۔جبکہ انجینئر راجیش چندرا صاحب کی آمد پر صدر مدرس سید نوید سر نے نہایت تپاک سے ان کا استقبال کیا اور اپنی مسرت کا اظہار کیا-
پروگرام کی پُر وقار شخصیت محترم پرتھوی پاٹل صاحب کا استقبال محترم ناصر حسین سر نے روایتی شائستگی کے ساتھ کیا اور انہیں گلدستہ پیش کر کے اپنی محبتوں کا محور بنایا۔" تقریب کی کوریج کے لیے تشریف لائے ہوئے میڈیا کے دوستوں کا استقبال محترم زبیر سر نے نہایت خندہ پیشانی اور محبت کے ساتھ کیا۔
تقریب کا با قائدہ آغاز اس وقت ہوا جب فضاؤں میں نور کی برسات محسوس ہونے لگی جماعت ہشتم کے طالب علم حسان شیخ فاروق نے اپنی سحر انگیزاورپرسوز آواز میں تلاوتِ کلامِ پاک کا شرف حاصل کیا۔ حسان شیخ فاروق کے لبوں سے جب خالقِ کائنات کے مقدس کلمات ادا ہوئے، تو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے آسمان سے نور کے ہالے اتر رہے ہوں اور ہال میں موجود ہر ذی روح کے دل کو سکون و اطمینان کی دولت میسر آ رہی ہو۔ ان کے ترنم،لحن اور تجوید کی پختگی نے سامعین کو ایک ایسی روحانی دنیا میں پہنچا دیا جہاں صرف سکون ہی سکون تھا۔ اس نورانی کیفیت کو مزید جلا بخشنے کے لیے عبدالمتین شیخ مبین اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئے اور انہوں نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے نعتیہ کلام پیش کیا۔ ان کی آواز میں وہ سوز اور تڑپ تھی کہ محفل میں موجود ہر شخص لبیک یا رسول اللہ ﷺ کی صداؤں میں کھو گیا۔ نعت کے ایک ایک شعر نے حاضرین کے دلوں کو مہرِ نبوت سے منور کر دیا اور پوری فضا خوشبو سے معطر ہو گئی جس نے اس علمی محفل کو ایک مبارک بزم میں تبدیل کر دیا۔ اس موقع پر نوید خان سر نے نہایت باوقار انداز میں تحریکِ صدارت پیش کی اور محفل کی صدارت کے لیے معزز شخصیت کا انتخاب عمل میں لایا -
اگلے مرحلے میں جیسے ہی اساتذہ کرام نے پنڈال میں قدم رکھا،شاگردوں نے اپنی محبت اور عقیدت کے پھول بکھیر دیے۔مخملی شالوں اور گلدستوں کے تحائف ان کی عظمت کی ایک ادنیٰ سی جھلک تھے؛ سچ تو یہ ہے کہ ان کے لیے وہ دیدہ و دل فرشِ راہ کیے گئے جن کا تصور کسی بادشاہ کے مقدر میں بھی محال ہے۔"
جناب شیخ شکیل سر کو جب ’Heart of the Class‘ کی ٹرافی کے لیے پکارا گیا تو پنڈال میں موجود ہر طالب علم کی آنکھ ان کے لیے محبت سے لبریز تھی۔ ان کی یہ ٹرافی ان کے اس مشفقانہ رویے کا اعتراف تھی جس کے باعث وہ محض ایک استاد نہیں بلکہ طلبہ کے لیے ایک ہمدرد ساتھی اور روحانی والد کا درجہ رکھتے ہیں۔وہیں محترم رفیق سر کو ’Mentor of Excellence‘ کے ایوارڈ سے نوازا گیا، جو دراصل ان کی اس مخلصانہ رہنمائی کا ثمر ہے جس نے نوجوانوں کو نہ صرف میدانِ کھیل کا شہسوار بنایا بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں سرگرم رہنے کا ہنر بھی سکھایا۔ طلبہ کو کھیلوں کی جانب راغب کرنے، انہیں فنی مہارتوں سے آراستہ کرنے اور ہر مشکل گھڑی میں ایک شفیق استاد کی طرح ان کی ڈھال بننے پر، انہیں اس اعزاز کا حقدار ٹھہرایا گیا ۔"پھر باری آئی ریاضی کے جادوگر، شیخ زاہد سر کی جنہیں Mathematics Maestro‘ کی ٹرافی دی گئی -انہوں نے ریاضی کے اعداد و شمار کی خشک اور بے رنگ دنیا کو اپنی بصیرت کے رنگوں سے ایک خوبصورت گلستاں بنا دیا ہے۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ انہوں نے ریاضی جیسے کٹھن اور بوجھل مضمون کو طلبا کے لیے ایک دلکش مشغلے میں بدل دیا ہے-ان اعزازات کی تقسیم کے دوران ماحول میں موجود جوش و خروش دیدنی تھا، کیونکہ ہر ٹرافی کے پیچھے سالہا سال کی ریاضت اور قربانی کی ایک طویل داستان پوشیدہ تھی
اس موقع پر محترم زاہد سر نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے نہایت رقت آمیز لہجے میں کہا کہ "آج ہمیں جو عزت اور جو ٹرافی دی گئی ہے، یہ محض لکڑی یا دھات کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ یہ اس ذمہ داری کا ایک نیا عہد ہے جو ہم نے اس ملک کے بچوں کی صورت میں اٹھا رکھی ہے؛ جب ہمیں اس طرح سراہا جاتا ہے تو ہماری تمام تھکن مٹ جاتی ہے اور ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہماری محنت رائیگاں نہیں گئی"۔
" مہمان خصوصی جناب راجندرا آوٹے صاحب نے اپنے خطاب میں اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انتظامیہ کی کاوش کو جی بھر کے سراہا"-وہیں اسکول انتظامیہ نے اپنے خصوصی پیغام میں واضح کیا کہ ان کا ادارہ اساتذہ کی قدر دانی کو اپنا اولین فریضہ سمجھتا ہے اور یہ اعزازات دراصل ان کی عظمت کے سامنے ایک ادنیٰ سا ہدیہ ہے۔
صدر جلسہ محترمہ رقیہ عبدالروف خان نے اپنے خطاب میں بڑی خوبصورتی سے اس حقیقت کی گرہ کھولی کہ قوموں کی تقدیر کا فیصلہ میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ استاد کی آغوش میں پلنے والی نسلوں کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ:
"استاد کا پیشہ محض ایک ملازمت نہیں، بلکہ ایک الہامی ذمہ داری ہے۔ یہی وہ ہنر مند ہیں جو خام مٹی کو کندن بنا کر قوموں کے عروج و زوال کی لکیریں کھینچتے ہیں۔"
محفل کی رونق کو کمال تک پہنچانے میں ناصر حسین سر کی جادوئی نظامت نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انھوں نے جب اپنے مخصوص شیریں لب و لہجے، ادبی لطافت اور انتخابِ کلام سے گفتگو کا سلسلہ دراز کیا تو سامعین مسحور ہو کر رہ گئے۔ ان کی نظامت کا وصف یہ تھا کہ انہوں نے ہر استاد کی خدمات کو لفظوں کے ایسے حسین پیرائے میں بیان کیا کہ ہر جملہ دل میں اترتا محسوس ہوا۔ انہوں نے اپنی شگفتہ بیانی، برجستہ اشعار اور اساتذہ کی شان میں کہے گئے پُرکشش جملوں سے محفل کی سنجیدگی اور مسرت کا توازن برقرار رکھا اور ثابت کر دیا کہ ایک ناظم اپنے الفاظ سے کس طرح کسی تقریب کو تاریخی بنا سکتا ہے
اگرچہ باہر دوپہر کی تمازت اپنے عروج پر تھی، مگر پنڈال کے اندر اعزازی تقریب کی شادابی اور چمک نے ماحول کو بوجھل نہ ہونے دیا۔"
محترم ظفر سر نے تمام مہمانانِ گرامی بشمول میڈیا کے نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔" یہ تقریب اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، لیکن شرکاء کے چہروں پر موجود اطمینان اور دلوں میں تازہ ہونے والا عزم اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ اس محفل کی بازگشت طویل عرصے تک سنائی دیتی رہے گی۔
یامین شیخ۔۔
رابطہ 9225436348
Comments
Post a Comment