ادبی خاکہ: وقت کے روزن سے جھانکتا خادمِ اردو: جاوید عزیزی خاکہ نگار : خان حسنین عاقب۔۔


ادبی خاکہ:
 وقت کے روزن سے جھانکتا خادمِ اردو: جاوید عزیزی
خاکہ نگار : 
خان حسنین عاقب۔۔
________________

صائب تبزیزی کا مشہور زمانہ شعر ہے:
صائب دو چیز می شکند قدر شعر را 
تحسین ناشناس و سکوتِ سخن شناس 
لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ یہ دو چیزیں صرف شعر کی ہی نہیں بلکہ اچھے خاصے قابل اور اہم انسانوں کی قدر و قیمت کو بھی دھندلا کر دیتی ہیں۔
 صحیح وقت پر کسی کی خدمات کا اعتراف نہ صرف قدردانی کا اظہار ہوتا ہے بلکہ صحیح لوگوں کے ذریعے قدردانی اس انسان کی قدر و قیمت میں اضافہ ہی کرتی ہے۔ چلئے، اس مختصر سی تمہید سے آگے بڑھتے ہیں۔ 
اہلِ علم کا ماننا ہے کہ کسی شہر کی اصل پہچان اس کی عمارتیں، سڑکیں یا بازار نہیں ہوتے بلکہ وہ انسان ہوتے ہیں جو اپنی اپنی صلاحیت، ہنر اور خدمات کے ذریعے خاموشی کے ساتھ یا ہنگاموں کے درمیان اس شہر کی روح کو زندہ رکھتے ہیں۔ مہاراشٹر کے علاقہ ء برار کا تاریخی شہر آکولہ جو اپنا ایک علمی، ادبی، سیاسی اور ثقافتی پس منظر رکھتا ہے، یہی شہر میرا وطن ہے۔ میں نے اسی شہر میں اپنی آنکھیں کھولیں اورتین دہائی قبل روزگار کے سلسلے میں پوسد کی جانب ہجرت کرنے سے قبل تک یہ آنکھیں ہر روز صبح اسی سرزمین پر کھلتی رہیں۔ تن کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ من کی آنکھیں کھلنے کی ابتداء بھی یہیں ہوئی یعنی بنیادی تعلیم بھی یہیں حاصل کی۔ 
میرے لڑکپن اور پھرنوجوانی کے زمانے میں شہر کا سب سے زیادہ بھیڑبھاڑ والا مسلم علاقہ محمد علی چوک تھا۔ محمد علی روڈ کی شروعات محمد علی چوک سے ہوتی ہے۔ اگر آپ انڈے والی مسجد (موجودہ مرکز کی مسجد) روڈ سے آگے بڑھیں تو محمد علی چوک سیدھا ذوالفقار ہوٹل پر جاکر ختم ہوتا ہے۔ یہی کارنر محمد علی چوک کہلاتا ہے۔ یہاں سے اگر بائیں طرف مڑیں تو یہ راستہ حسینی شاپ سے ہوتے ہوئے گاندھی چوک نکل آتا ہے۔ اوراگرآپ محمد علی چوک سے دائیں جانب مڑیں تو کچھیان مسجدکے سامنے سے ہوتا ہوا یہ راستہ سیدھا انعامدار پورہ اور پھر اس سے آگے کی جانب نکل جاتا ہے۔ خیر چلئے، ہم واپس آتے ہیں پھلاری گلی کی جانب۔ محمد علی روڈ اور پھلاری گلی کا یہ وہ علاقہ ہے جہاں کے چائے خانوں کے سامنے بچھی ہوئی بنچوں پر سیاسی مذاکرات، ادبی مباحثے اور علمی گفتگو کے ہنگامے بپا ہوا کرتے تھے۔اس گلی کا نام پھلاری گلی اس لئے پڑا کہ یہاں ایک قطارمیں اور آگے پیچھے گُل فروشوں کی دکانیں ہیں۔
 پھلاری گلی کے نکڑ پر ہی عزیزیہ بک ڈپو ہے۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالاتب سے پوسد آنے تک، اس دکان پر دو لوگوں کو یکے بعد دیگرے بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ایک ہیں جاوید عزیزی اور دوسرے ان کے چھوٹے بھائی ساجد عزیزی۔ ساجد بھائی فی الوقت جنتا بنک میں برسرملازمت ہیں اس لئے وہ کم کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔لیکن آپ کو اس ناپختہ اور قدیم دکان سے لگے شیلفوں سے مختلف ناول، افسانے، شعری مجموعے، بچوں کے ناول، رسالے، اخبارات وغیرہ اپنا سر باہر نکال کرجاوید عزیزی کوبڑے شوق سے، بلکہ شوق سے زیادہ ذوق سے تاکتے ہوئے ملیں گے۔ اس لئے کہ جاوید بھائی نے ہی اردو کی ان کتابوں، رسائل اور اخبارات کو سب سے زیادہ وقت دیا ہے۔پورے شہر کا سب سے زیادہ ہجوم والا علاقہ یہی ہے۔ رمضان کے مہینے میں تو یہاں مغرب کے بعد سے نصف رات تک سر ہی سر نظر آتے ہیں اور رہی بات رمضان کے آخری عشرے کی تو بلامبالغہ ان راستوں پر تِل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی۔ اور موجودہ تعصب اور فرقہ واریت کے زمانے میں بھی خوشگوار حیرت ہوتی ہے یہ دیکھ کر کہ آخری عشرے اور چاند رات کی خریداری کے لئے مسلم مرد وخواتین کے ساتھ ساتھ غیر مسلم بھائی اورمائیں بہنیں بھی بے خوفی کے ساتھ خریداری کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔نہ کسی کو دھکہ لگتا ہے اور نہ کسی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوتی ہے۔ یہ آکولہ شہر کے سب سے زیادہ مسلم اکثریتی والے علاقے کی خصوصیت ہے۔
 پہلے یہاں عام دنوں میں اتنا ہجوم نہیں ہوتا تھا لیکن آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے پاس دولت کی ریل پیل نے اس علاقے کو بہت زیادہ بھیڑبھاڑ والا علاقہ بنادیا ہے۔ کھانے پینے کی اتنی ہوٹلیں کھل گئی ہیں کہ گنتی مشکل ہے۔جی،آپ صحیح سمجھے، بس یہیں نکڑ پر جاوید عزیزی کی کتابوں کی دکان ہے۔اردو کتابیں، رسائل، جرائد، ناول، افسانے، شعری مجموعے، اخبارات وغیرہ کی فراہمی کا یہ سلسلہ زائد از نصف صدی سے جاری ہے۔ پورے آکولہ شہر میں اردو کے حوالے سے یہ واحد دکان ہے۔ چند سال پہلے ایک دو دکانیں کھلیں بھی تو وہ درسی کتابوں اور نصابی مواد کی فروخت تک محدود رہیں۔ یہاں سے آتے جاتے عزیزیہ بک ڈپو کے سامنے بلٹز، نشیمن، دعوت وغیرہ جیسے ہفت روزہ اور انقلاب، اردو ٹائمز وغیرہ جیسے روزنامے ہینگر سے لٹکے دکھائی دیتے ہیں۔ میرے والد صاحب ھما ڈائجسٹ کے عادی ہیں۔ ان سے ہم دونوں بھائیوں یعنی ایڈوکیٹ علی رضا خان اور راقم کووراثت میں کچھ اور بھلے ہی نہ ملا ہو لیکن یہ عادت ضرور ملی ہے۔ ہم اس وقت سے شبستان اور ھما وغیرہ خریدتے رہے جب اس کی قیمت پانچ روپئے ہوا کرتی تھی، پھر بارہ روپئے ہوئی اور پھر بتدریج بلندی کی طرف سفر کرتی ہوئی ان دنوں شاید ایک سو بیس روپئے ہے۔ ھما کی قیمتیں وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی گئیں لیکن جہاں یہ ڈائجسٹ دستیاب ہوتا تھا، وہ دکان نہیں بدلی۔ اگر جاوید عزیزی چاہتے تو کتابوں کی فراہمی کا یہ واحد مرکز بہت آرام سے مسلمانوں کی لذت کام و دہن کی سیرابی کا مرکز بن جاتا اور اس کے کاؤنٹر پر کتابوں اور اخبارات کے بجائے سموسے اور کوفتے سجے ہوتے اور اردو کتابوں اور اخبارات کی فروخت کا پچاس گنا زیادہ گلہ روزانہ حاصل ہوتا۔ لیکن جاوید عزیزی کی ہمت کہ انھوں نے حوصلہ نہیں کھویا اور آج بھی اردو ادب اور اردو صحافت کی امین یہ واحد دکان، واحد ہی ہے۔محمد علی چوک اور اس کے آس پاس کی گلیاں،پھلاری گلی اور مومن پورہ،محض جغرافیائی نام نہیں بلکہ اردو تہذیب کی سانسیں ہیں۔ انہی سانسوں کے درمیان، پھلاری گلی میں نصف صدی سے زائد عرصے سے قائم جاوید عزیزی صاحب کی دکان ایک ایسی ادبی آماجگاہ ہے جس نے وقت کے بے شمار نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ یہ دکان محض کتابوں اور رسائل کی خرید و فروخت کی جگہ نہیں بلکہ اردو کے زباندانوں، ادب کے سنجیدہ قاریوں اور مسلم سماجی و سیاسی شعور رکھنے والے افراد کی فکری بیٹھک رہی ہے۔ یہاں آنے والا شخص صرف مطبوعات نہیں خریدتا، بلکہ گفتگو، روایت اور فکری ربط کا حصہ بن جاتا ہے۔
شخصی اوصاف کے اعتبار سے جاوید عزیزی صاحب ایک نہایت خوش شکل، خوش مزاج اور شائستہ انسان ہیں۔ ان کی گفتگو مختصر مگر بامعنی ہوتی ہے۔ وہ کم بولتے ہیں، لیکن جب بولتے ہیں تو لہجے میں ٹھہراؤ اور بات میں وزن محسوس ہوتا ہے۔ ان کے چہرے پر سنجیدگی کے ساتھ ایک ایسی شرافت جھلکتی ہے جو سامنے والے کو بے ساختہ احترام پر آمادہ کر دیتی ہے۔ محفل میں وہ خود کو نمایاں کرنے کی کوشش نہیں کرتے مگر ان کی موجودگی خود بہ خود محسوس کی جاتی ہے۔
جاوید عزیزی شہر کے ان گنے چنے افراد میں شامل ہیں جنہوں نے شہرت، نمود و نمائش اور وقتی فائدے کی دوڑ سے الگ رہ کر اپنی پہچان علم، شائستگی اور زبان سے وفاداری کے ذریعے قائم کی ہے۔وہ کم گفتار ہیں لیکن ان کی کم گوئی کے پیچھے ایک بردبار انسان چھپا ہے۔ اردو کے رسائل کو سنبھال کر رکھنا، نئی نسل کو کتاب کی طرف مائل کرنا اور ادبی روایت کو کاروباری دباؤ کے باوجود قائم رکھنا،یہ سب ان کے روزمرہ کے ایسے کام ہیں جن پر شاید وہ کبھی فخر کا اظہار نہ کریں، مگر یہی ان کا اصل تعارف ہیں۔
اس لحاظ سے جاوید عزیزی کی سب سے بڑی پہچان ان کی اردو سے بے لوث محبت ہے۔ ایسے دور میں جب ہر شے کو منافع کے ترازو میں تولا جاتا ہے، انہوں نے اپنی دکان کو آسان اور فوری کمائی کا ذریعہ بنانے کے بجائے اردو رسائل اور کتابوں کی فراہمی کو آج بھی ترجیح دی۔ یہ فیصلہ کسی ضد کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک گہری تہذیبی وابستگی کا اظہار ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک قوم کی تاریخ، احساس اور شناخت ہوتی ہے، اور اسی شناخت کی حفاظت وہ خاموشی سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے ایک شادی کی تقریب میں ان سے ملاقات ہوئی تو اس لمحے کو تصویر کی صورت محفوظ کر لیا گیا۔ تصویر کے درمیان جاوید عزیزی صاحب کی متوازن اور پُرسکون شخصیت نمایاں ہے۔ یہ تصویر دراصل دو افراد کی نہیں بلکہ آکولہ کی اس تہذیبی روایت کی نمائندہ ہے جس میں علم، شائستگی اور باہمی احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
جاوید عزیزی جیسے لوگ کسی اخبار کی سرخی نہیں بنتے، نہ ہی ان کے نام بڑے اسٹیجوں پر پکارے جاتے ہیں مگر شہر کی فکری اور تہذیبی بنیادیں ایسے ہی لوگوں کے کندھوں پر سفر کرتی ہیں۔
آکولہ میں رہتے ہوئے بھی مجھے ذاتی طور پر جاوید عزیزی سے بہت زیادہ ملاقاتوں کا موقع نہیں مل سکا تھا۔ اس کی وجہ ہم دونوں کی عمروں کا فرق اور ان کی سنجیدہ مزاجی، دونوں ہیں۔لیکن ہم دونوں میں درج بالا فرق کے علاوہ کوئی قدر مشترک نہیں تھی جو مجھے ان کے قریب لے جاتی۔ ہوسکتا ہے میرا لاابالی پن بھی اس کا ذمہ دار ہو۔
 اپنی نوجوانی میں مجھے جاوید عزیزی نہایت خوبصورت لگتے تھے، وہ ہیں بھی خوبصورت۔کبھی وہ سفاری پہنتے ہیں تو کبھی پٹھانی، اور ہر لباس میں وہ اتنے ہی جاذب
 دکھائی دیتے ہیں۔ میں اپنی نوجوانی میں ان کی خوش شکلی سے متاثر تھا۔ میں روزانہ ان کی دکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھتا کہ یہاں شہر کے تمام ممتاز سیاست داں اور نامور ادیب و شاعر اپنی نشست جمایا کرتے تھے۔ ان سب کی آمد و رفت یہاں لگی رہتی تھی۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ البتہ اب کبھی کبھار آکولہ جانا ہوتا ہے تو چند منٹوں کے لئے ہی کیوں نہ ہو، میں بھی ان نشستوں کا حصہ بن جاتا ہوں۔ پوسد میں رہتے ہوئے میں ان نشستوں کو بہت یاد کرتا ہوں۔ 
اپنی نوجوانی میں جاوید عزیزی سماجی کاموں میں نہایت متحرک اور فعال رہے۔ سیاسی اور تعلیمی سرگرمیوں میں جارحانہ انداز میں حصہ لیا۔ اپنے وقت کے مشہور سیاست دانوں کے ساتھ بھی ان کے مراسم رہے لیکن انہوں نے ان سے کیا کام کروائے اور وہ کس طرح ان کے ساتھ انگیج رہے یہ میں نہیں جانتا۔ البتہ اب جو ان کا تاثر میرے ذہن پر قائم ہے اور گزشتہ چند ملاقاتو ں پر مشتمل ہے جن میں انھوں نے میری ادبی اور علمی کاوشوں کی دل کھول کر ملفوظی پذیرائی کی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ وہ ایک باخبرانسان ہیں اور جانتے ہیں کہ حسنین عاقبؔ کیا لکھ رہے ہیں اور کہاں شائع ہورہے ہیں۔ چونکہ وہ اکثر اساتذہ کی طرح محض پڑھے لکھے آدمی نہیں ہیں بلکہ پڑھنے لکھنے والے انسان ہیں اس لئے اردو کتابیں اور رسائل و خبارات صرف فروخت ہی نہیں کرتے بلکہ پڑھتے بھی ہیں۔ اس لیے ان کو اس بات کا علم ہے کہ ادب میں کون کیا کام کررہا ہے۔ جب سے انھیں معلوم ہوا کہ میں مصور کارنجوی کی کلیات کی تدوین کررہا ہوں تو گزشتہ دو تین ملاقاتوں میں پوچھ چکے ہیں کہ کام کہاں تک پہنچا۔ ان کی اس بازپرس نے مجھے تحریک دی کہ پبلشر کو فون لگاکر کتاب کی اشاعت میں دیر نہ کرنے کی تلقین کروں۔بس یہ سمجھ لیجئے کہ آکولہ شہر اور آکولہ ضلع میں اگرکہیں اردو کتابوں، اردو رسائل اور اردو اخبارات کی اگر بات ہو رہی ہے تو یقینا جاوید عزیزی کی بات ہورہی ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔