شبِ براءت میں کیا ثابت ہے اور کیا نہیں ؟خامہ بکف : محمد پالن پوری۔


شبِ براءت میں کیا ثابت ہے اور کیا نہیں ؟
خامہ بکف : محمد پالن پوری۔ 

شبِ براءت امت کے شعور میں حدیثی ذخیرے اور تعاملِ سلف سے جڑی ہوئی ایک حقیقت ہے افسوس یہ ہے کہ اس باب میں دو انتہائیں پیدا ہو گئیں ایک طبقہ سرے سے اس رات کی فضیلت کا منکر ہو گیا اور دوسرا طبقہ ایسی رسومات کا مرتکب ہوا جو شریعت سے ثابت نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دلیل کی روشنی میں اعتدال کا راستہ اختیار کریں۔۔۔۔۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ شعبان کی پندرھویں رات اللہ تعالیٰ خاص نظرِ رحمت فرماتے ہیں، استغفار کرنے والوں کو بخش دیتے ہیں اور کینہ رکھنے والوں کو محروم چھوڑ دیتے ہیں (شعب الایمان للبیہقی)۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس رات عمومی مغفرت کا ذکر ہے مگر مشرک اور دل کے کینہ والے کے لیے محرومی کی وعید آئی ہے (مجمع الزوائد، الترغیب والترہیب) جبکہ ایک روایت میں سالانہ معاملات کے فرشتوں کے سپرد ہونے، اعمال کے اٹھائے جانے اور رزق کی تقسیم کا بیان ہے (مشکوٰۃ) ان روایات کی اسنادی حیثیت اگرچہ یکساں مضبوط نہیں مگر چونکہ یہ متعدد طرق سے مروی ہیں اور سلفِ امت کے تعامل سے مؤید ہیں اس لیے محدثین نے انہیں فضائل کے باب میں قابلِ قبول قرار دیا اور اسی بنیاد پر شبِ براءت کی اصل فضیلت کو تسلیم کیا ہے۔ ۔۔۔
  اس کے بارے میں سب سے بڑا اشکال وہ روایت بنتی ہے جس میں ذکر آتا ہے کہ اس رات سال بھر کے پیدا ہونے اور مرنے والوں کے فیصلے لکھے جاتے ہیں اور بعض لوگ اسی کو بنیاد بنا کر یہ شبہ پیدا کرتے ہیں کہ گویا تقدیر کا فیصلہ اس رات ہوتا ہے حالانکہ قرآنِ مجید صاف اعلان کرتا ہے کہ شھر رمضان الذی أنزل فیہ القرآن اور أنا أنزلناہ فی لیلۃ القدر نیز سورۂ دخان میں فیھا یفرق کل أمر حکیم آیا ہے جس کی تفسیر جمہور مفسرین نے لیلۃ القدر سے کی ہے،ل تو کیا شبِ براءت والی روایات قرآن کے خلاف ہو گئیں؟ نہیں یہاں دراصل ایک دقیق علمی نکتہ ہے جسے سمجھے بغیر تعارض کا گمان پیدا ہوتا ہے۔ تقدیر کے مراتب علماء نے بیان کیے ہیں۔ ایک تقدیرِ ازلی ہے جو لوحِ محفوظ میں ازل سے لکھی جا چکی اس میں کوئی تبدیلی نہیں پھر ایک تقدیرِ سنوی ہے جو ہر سال فرشتوں کے سپرد کی جاتی ہے اور یہی مفہوم ان روایات کا ہے کہ اس رات فہرستیں منتقل ہوتی ہیں۔ فیصلے نئے نہیں ہوتے بلکہ ازلی فیصلوں کی تنفیذ کا مرحلہ ہوتا ہےبجیسے ایک عظیم حکومت میں اصل حکم مرکزی دفتر میں پہلے سے محفوظ ہو مگر سالانہ نظام چلانے کے لئے متعلقہ محکموں کو فہرستیں جاری کی جائیں تو یہ نیا فیصلہ نہیں بلکہ پرانے فیصلے کا انتظامی اجراء ہوتا ہے اسی لئے مفسرین نے لکھا کہ لیلۃ القدر میں اصل تفریقِ امور ہوتی ہے اور شعبان کی پندرھویں رات میں اس کی تفصیلات ملائکہ کے حوالے کی جاتی ہیں( واللہ اعلم بالصواب) اس طرح نہ قرآن کے خلاف کوئی بات رہتی ہے اور نہ حدیث کا انکار لازم آتا ہے بلکہ دونوں ایک دوسرے کی شرح بن جاتے ہیں۔ یہی وہ توازن ہے جو سلف نے اختیار کیا۔
پندرہ شعبان کے روزے کے بارے میں جو روایت آئی ہے اس میں رات کے قیام اور دن کے روزے کی ترغیب ملتی ہے اگرچہ اس کی سند ضعیف ہے مگر چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود شعبان میں کثرت سے روزے رکھتے تھے اور یہ دن ایامِ بیض میں بھی شامل ہے اس لئے فقہاء نے اسے جائز بلکہ مستحب کہا ہے تاہم اسے لازم، سنتِ مؤکدہ یا خاص شعار سمجھ لینا درست نہیں۔ رکھ لے تو ثواب، چھوڑ دے تو گناہ نہیں۔
قبرستان جانے کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس رات جنت البقیع تشریف لے گئے تھے اس سے اصلِ جواز ثابت ہوتا ہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر ہمیشگی اختیار کرنا ثابت نہیں اس لئے کبھی انفرادی طور پر زیارت کر لی جائے تو مضائقہ نہیں لیکن اسے لازمی معمول بنا لینا، اجتماعی شکل دینا، میلہ یا چراغاں کرنا بدعت اور منکرات میں داخل ہو جاتا ہے۔ سنت یہی ہے کہ جس درجے میں عمل ثابت ہے اسی درجے میں رکھا جائے۔
نیز اس اکابرین امت کے ان اقوال کو بھی دیکھنا مناسب ہوگا۔ حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لیلۃ القدر کے بعد نصف شعبان سے افضل رات کوئی نہیں (لطائف المعارف) اور ابن رجب حنبلی لکھتے ہیں کہ اہلِ شام کے تابعین مثلاً خالد بن معدان اور مکحول اس رات خصوصی عبادت کرتے تھے اور لوگوں نے انہی سے اس رات کی تعظیم سیکھی۔ امام شافعی رحمہ اللہ نصف شعبان کو قبولیتِ دعا کی راتوں میں شمار کرتے ہیں مگر صاف لکھتے ہیں کہ یہ استحباب ہے فرض نہیں۔ ابن نجیم حنفی اسے مستحب شب بیداری میں شمار کرتے ہیں۔ علامہ انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں کہ اس کی فضیلت پر روایات صحیح المعنی ہیں اور حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس رات کی اصل ثابت ہے گویا پوری علمی روایت ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ فضیلت کو مانا جائے مگر غلو نہ کیا جائے۔
 اس رات کی روح یہ نہیں کہ ہم رسمیں ایجاد کریں بلکہ یہ ہے کہ دل کا کینہ صاف کریں کیونکہ احادیث میں بار بار آیا کہ مشرک اور کینہ رکھنے والا محروم رہتا ہے یعنی اصل فیصلہ عبادت کی مقدار سے پہلے دل کی کیفیت پر ہوتا ہے جو شخص اخلاص سے توبہ کرے، دعا کرے، انفرادی عبادت کرے وہ اس رات کی خیر پا سکتا ہے مگر اجتماعات، خود ساختہ نمازیں، چراغاں، میلے اور لازمی رسومات اس رات کی برکت کو رسم میں بدل دیتے ہیں۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔