جلگاؤں نابالغ لڑکی سے درندگی۔"ماسٹر مائنڈ سمیت تمام شریک ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ".“9 سے 22 فروری تک خاموشی کیوں؟ اقلیتی بچی کے لیے خواتین و سماجی تنظیمیں آگے کیوں نہ آئیں؟” ایکتا سنگھٹنا کا تیکھا سوال۔


جلگاؤں( عقیل خان بیاولی)  مقامی ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آئے نابالغ لڑکی کے اغوا اور جنسی زیادتی کے سنگین معاملے میں پولیس نے 22 فروری کو بچی کو برآمد کرتے ہوئے قانونی کارروائی مکمل کی، طبی معائنہ کرایا اور اسے والدین کے سپرد کیا۔ 
ابتدائی طور پر مقدمہ بھارتی نیائے سنہتا کی دفعہ 137(2) کے تحت درج کیا گیا تھا، تاہم ملزم اور لڑکی کی برآمدگی کے بعد بی این ایس کی دفعات 63 (ڈی) (زیادتی)، 63(6) (18 سال سے کم عمر لڑکی کے ساتھ جرم)، 64(1) (سخت سزا ) نیز POCSO ایکٹ کی دفعہ 4 (نفوذی جنسی حملہ) اور دفعہ 8 (جنسی استحصال) کا اضافہ کیا گیا ہے۔ مرکزی ملزم نکھل کیلاش پاٹل کو معزز خصوصی سیشن جج ایس۔ آر۔ جھاور کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے 27 فروری تک پانچ دن کی پولیس تحویل میں بھیج دیا گیا۔ “یہ اکیلے کا جرم نہیں، پوری چین بے نقاب کی جائے!” ایکتا تنظیم کا مطالبہ 
ایکتا تنظیم کے کنوینر فاروق شیخ نے مطالبہ کیا: کہ اس واردات کے پیچھے محض ایک شخص نہیں بلکہ ایک “ماسٹر مائنڈ” اور دیگر معاونین شامل ہو سکتے ہیں۔ اصل سازش کار کو شناخت کرکے فوری گرفتار کیا جائے۔ دیوہاری گاؤں کے جس مکان اور دیگر مقامات پر بچی کے ساتھ زیادتی کے الزامات ہیں، اس مکان کے مالک، ملزم کے والد کیلاش پاٹل، چچا گوپال بھگوان پاٹل اور متعلقہ بھائی کے خلاف بھی مقدمہ درج کرکے گرفتاری عمل میں لائی جائے۔ساتھ ہی انسٹاگرام پر کھلے عام دھمکیاں دینے والے نامعلوم شخص کے خلاف فوراً سائبر کرائم کا مقدمہ درج کیا جائے۔ سماج میں دہشت پھیلانے والوں کو کسی صورت بخشا نہ جائے۔
“چودہ دن تک سناٹا کیوں؟” — خواتین و سماجی تنظیموں سے سوال۔۔۔تنظیم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 9 سے 22 فروری تک پورے 14 دن گزر گئے، مگر جلگاؤں شہر اور ضلع کی مختلف بہوجن خواتین تنظیموں اور دیگر سماجی اداروں نے اس اقلیتی نابالغ بچی کے حق میں کوئی مؤثر احتجاج، محضر مطالبات (میمرینڈم) یا اجتماعی یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کیا۔تنظیم کے روح رواں نے کہا: “جب کسی معصوم بچی پر ظلم ہوتا ہے تو یہ محض ایک خاندان کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے سماج کی غیرت اور انصاف کا سوال بن جاتا ہے۔ پھر 14 دن تک خاموشی کیوں؟ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہر سماجی تنظیم کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔”
انتظامیہ کو وارننگ دی گئی کہ اگر شریک ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہ آئی، ماسٹر مائنڈ کا پردہ فاش نہ ہوا اور دھمکی دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی تو ایکتا سنگھٹنا جمہوری طریقے سے شدید احتجاج کرے گی:
A) ضلع کلکٹر دفتر آندولن سامنے سخت دھرنا
B) پولیس انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مارچ
C) ہائی کورٹ میں قانونی جدوجہد
D) ریاستی انسانی حقوق کمیشن اور کمیشن برائے حقوقِ‌ اطفال میں شکایت کی جاۓ گی
 تنظیم نے کہا کہ “یہ صرف ایک خاندان کی لڑائی نہیں بلکہ ہر نابالغ بچی کے تحفظ کی جدوجہد ہے۔ مجرموں اور انہیں پناہ دینے والوں کو کسی بھی قیمت پر نہیں چھوڑا جائے گا۔”ان پر قانونی سخت کارروائی ہونی چاہیئے ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ