سابق طلبہ کی اپنے استاد کو خراجِ تحسین۔ 88/ برس کی عمر میں بھی دل جیت لینے والے استاد! رفیع انصاری سر کی ایک پکار پر 40 سال بعد پورا بیچ جمع ہوا۔
سابق طلبہ کی اپنے استاد کو خراجِ تحسین۔
88/ برس کی عمر میں بھی دل جیت لینے والے استاد! رفیع انصاری سر کی ایک پکار پر 40 سال بعد پورا بیچ جمع ہوا۔
ممبئی(نامہ نگار):14 فروری 2026 ، استاد کی جاذبیت اور رحم دلی کا کمال ہےکہ جیسے عاشق اپنے معشوق سے ملنے کے لیے بے چین رہتاہےاسی طرح چند فرمانبردار طلبہ اپنے استاد سے ملنے کو بہت بے قرار رہتے ہیں اس کی ایک زندہ و جاوید مثال سامنے آئی ہے ایک ایسا رشتہ جس کی مثال اکثر و بیشتر دیکھنے کوکم ہی ملتی ہے استاد اور شاگرد کا رشتہ ایک جذباتی رشتہ ہوتا ہے اسی یاد کو تازہ کرنے کے لیے کرلا ویسٹ کے "نورجہاں " میں ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جو الفاظ میں قید نہیں ہو سکتا_88 /سالہ استادِ محترم رفیع انصاری سر – جو کبھی ملاڈ سیکنڈری میونسپل اسکول کے سپروائزر تھے – اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے، مسکراتے ہوئے اپنے "بچوں" کا انتظار کر رہے تھے۔
اور پھر وہ آئے... 1983 سے 1994 کے بیچ کے وہی شرارتی لڑکے، جو آج 60-70 سال کے ہو چکے ہیں، بڑے عہدوں پر فائز، مگر سر کے سامنے آتے ہی وہی بچپن والا احترام، وہی جھک کر سلام۔ گھر کا صحن یوں گونج اٹھا جیسے اسکول کا پرانا گراؤنڈ ہو گیا ہو۔
محمد شاہد، عبدالمبین شاہ، ایاز شیخ، سلطان پٹیل، صادق، یونس شیخ، سلیم انجینیر، دبیر شیخ اور باقی سب – سب نے مل کر ایک منظوم سپاس نامہ پیش کیا۔
شعر پڑھتے ہوئے آواز لرز رہی تھی، آنکھوں میں یادیں چمک رہی تھیں:
"وہ چھڑی جو کبھی ڈراتی تھی، آج وہی ہاتھ ہمارے سر پر شفقت سے رکھا جا رہا ہے..."
"بچپن کی شرارتیں، کلاس میں چھپ کر کھیلنا، سر کی ڈانٹ – سب کچھ شعروں میں سمو دیا گیا۔" سر نے جب تقریر کی تو پورا ہال سناٹے میں ڈوب گیا۔ عمر کے اس موڑ پر بھی وہی پرانی آواز، وہی پدرانہ لہجہ: "تم سب آج کہاں پہنچ گئے ہو، یہ میری دعاؤں کا نتیجہ ہے... مگر یاد رکھنا، کامیابی کے ساتھ ساتھ انسانیت بھی ساتھ رکھنا۔"
سر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ میزبانی کر رہے تھے – ہاتھوں ہاتھ چائے، سموسے، مٹھائیاں – اور ہر شاگرد کے ساتھ ذاتی باتیں، جیسے کل ہی کلاس میں تھے۔ ایک شاگرد نے کہا: "سر، آپ کی ایک مسکراہٹ نے آج 40 سال پرانا قرض اتار دیا۔"
یہ محض سابق طلبہ نہیں تھی – یہ ایک زندہ ثبوت تھی کہ
استاد کا چراغ کبھی نہیں بجھتا،اس کی روشنی سے نہ صرف شاگرد بلکہ پوری نسلیں منور ہوتی ہیں۔ آج کی نسل دیکھے تو سیکھے: محبت، احترام اور وفاداری کی عمر نہیں ہوتی۔
88/ سال میں بھی ایک استاد اپنے شاگردوں کو "اپنے بچے" کہہ کر پکار سکتا ہے، اور 70 سال کا شاگرد "جی سر" کہہ کر سر جھکا سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment