جمعیۃ العلماء تلنگانہ کے مشاورتی اجلاس سے وزیراعلیٰ کا خطاب، جمعیۃ کی جانب سے 6 ملی مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ۔
حیدرآباد7 فروری (نمائندہ)چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ جمعیت العلماء ہند نے ملک کی آزادی کی جدو جہد میں تاریخی کردار ادا کیا اور جمعیت العلماء ہند اور کانگریس نے ملک کی آزادی کے لئے کئی قربانیاں دی ہیں جبکہ آج بھی جمعیت العلماء ہند ، اقلیتی اور اکثریتی طبقات کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دے رہی ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج جمعیت العلماء ہند تلنگانہ کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ اجلاس میٹرو کلاسک کنونشن آرام گھر ایکس روڈ پر منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت صدر جمعیت العلماء تلنگانہ مولانا سید شاہ احسان الدین نے کی۔ اجلاس میں نائب صدر نشین ٹمریز محمد فہیم قریشی، صدرنشین حج کمیٹی سید شاہ غلام افضل بیابانی پا پیر احمد صابر خسرو پاشاہ، جنرل سکریٹری جمعیت العلماء پیر خلیق احمد صابر اور جمعیت العلماء کے اضلاع کے نمائندے اور دیگر نے شرکت کی ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ ملک گیری لوک سبھا حلقہ کے انتخابات میں جمعیت العلماء نے ان کی رضا کارانہ طور پر مدد کی اور انہیں گلی سے دہلی تک پہونچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس حلقہ کے ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں نے مجھے منتخب کر کے پارلیمنٹ بھیجا تھا اور لوک سبھا میں انہوں نے راہول گاندھی کے ساتھ ملکر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی مخالف عوام پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں اقلیتوں کی تائید سے تلنگانہ میں کانگریس حکومت قائم ہوئی۔ کانگریس نے ہمیشہ اقلیتی قائدین کو آگے بڑھایا جن میں سلمان خورشید، احمد پٹیل جیسے کئی لیڈرس شامل ہیں جبکہ ریاست میں کانگریس نے اسمبلی انتخابات میں محمد اظہر الدین اور محمد علی شبیر کو ایم ایل اے کا ٹکٹ دیا تھا اور آٹھ کارپوریشنوں میں اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی۔ یہاں تک انتخابات میں شکست کے باوجود محمد اظہر الدین کو ایم ایل سی کی نامزد کرتے ہوئے اُنہیں ریاستی وزیر بنایا گیا۔ انہوں نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ بلدی انتخابات میں کانگریس کو ووٹ دیکر کامیاب بنائیں اس کے ساتھ انہیں اقلیتی امیدواروں کو بھی کامیاب بنانا چاہئے ۔ انہوں نے اعلا ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نفرت انگیز تقاریر پر قابو پانے کیلئے آئندہ اسمبلی کے اجلاس میں قانون بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں اتحاد اتفاق امن وامان اور سرمایہ کاری کا تحفظ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے اقلیتوں کو چار فیصد تحفظات فراہم کئے تھے۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ذات پات کی مردم شماری میں اقلیتی آبادی کا اندراج کیا گیا اور سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے وقت یہ اعداد و شمار پیش کئے جائیں گے تاکہ 4 فیصد تحفظات پر مکمل عمل درآمد ہو سکے ۔ امیت شاہ کی جانب ہے اقلیتوں کو دستیاب 4 فیصد تحفظات ختم کرنے کے بیان کو چیلنج کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ان میں دم ہے تو تلنگانہ میں اقتدار حاصل کر کے دکھائیں۔ نائب صدر نشین ٹمر یز محمد فہیم قریشی نے صرف 2 یوم کے کم وقت میں جمعیت العلماء کے نمائندوں کی آج کے اجلاس میں شرکت پر تمام کا شکریہ ادا کیا ۔ جمعیۃ العلماء نے ہمیشہ کانگریس کی تائید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تمام طلبہ کے اسکالر شپ جاری کر دیئے گئے ایک روپیہ بھی باقی نہیں ہے۔ انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اوور سیز اسکالر شپ سے استفادہ کر کے اپنے بچوں کو امریکہ و دیگر ممالک کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کیلئے روانہ کریں ۔ انہوں نے بلدی انتخابات میں کانگریس کا ساتھ دینے کی اپیل کی ۔ جمعیت العلماء تلنگانہ کی جانب سے مطالبات پر مبنی یادداشت حوالے کی گئی حکومت سے مسلمانوں سے منشور میں کئے گئے دعوں پر پر مبنی کو عمل آوری کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس میں نفرت پر مبنی تقاریر کو روکنے کیلئے قانون بنانے ، اقلیتوں کیلئے سب پلان دینے اور ہر سال حکومت کی جانب سے اقلیتوں کیلئے جو بجٹ مختص کیا جاتا ہے اسے پورا خرچ کرنے ، حکومت کی جانب سے مسلم نوجوانوں کو 80 فیصد سبسیڈی پر 5لاکھ کا قرض فراہم کرنے، ائمہ کے اعزازیہ میں اضافہ کر کے 12 ہزار مقرر کرنا شامل ہے۔ حکومت کی جانب سے سال 2024 میں ذات پر مبنی مردم شماری کرنے پر حکومت کی ستائش کی گئی۔ جنرل سکریٹری جمعیت العلماء پیر خلیق احمد صابر نے ان مطالبات کو پڑھ کر سنایا اور جمعیت کے نمائندوں نے ان مطالبات کی تائید کی۔واضح رہے کہ جمعیۃ علماء نے جن چھ مطالبات کا ذکر کیا انکی تفصیلات اس طرح ہیں
1 تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں ایک جامع نفرت انگیز جرائم اور نفرت انگیز تقاریر کا بل متعارف کرانا، جو کہ آئین کے آرٹیکل 14، 19(2) اور 21 پر مبنی ہے، 2023 کے انتخابات سے قبل مرحوم حافظ پیر شبیر جماعتی احمد، ریاستی صدر، تلنگانہ کو دی گئی یقین دہانی کے مطابق۔ مولانا محمود اسد مدنی، قومی صدر، جمعیۃ علماء ہند کی رہنمائی کے مطابق۔
2 مجوزہ قانون کے تحت تمام جرائم کو قابل ادراک اور ناقابل ضمانت قرار دینا، جس میں انسدادی پولیس کے اختیارات، تیز رفتار تفتیش، خصوصی عدالتیں، اور احتسابی طریقہ کار شامل ہیں۔
3 مسلم اقلیتوں سے کیے گئے منشور کے وعدوں کا وقتی نفاذ، بشمول:
(a) متناسب بجٹ مختص کے ساتھ اقلیتی ذیلی منصوبہ کا تعارف؛ (نہ ہونے والا)
(b) مسلمانوں کے لیے ایک وقف اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کا قیام؛
(c) مسلم نوجوانوں کے لیے 80% سبسڈی کے ساتھ 5 لاکھ تک کے سبسڈی والے قرضوں کی فراہمی۔
4 حکومت تلنگانہ کے ذریعہ 2024 میں کی گئی ذات پات کی مردم شماری کی رسمی شناخت اور تعریف - آزاد ہندوستان میں کسی بھی ریاست کی طرف سے اس طرح کی پہلی جامع مشق - اور ثبوت پر مبنی پالیسی سازی کے لیے اس کے نتائج کا استعمال۔
5 عوامی تقرریوں، سیاسی نمائندگی، فلاحی اسکیموں، مشاورتی اداروں اور فیصلہ ساز اداروں میں اقلیتوں سمیت تمام برادریوں کی مساوی اور متناسب نمائندگی کو یقینی بنانا، ذات کی مردم شماری کے اعداد و شمار اور آئینی اصولوں کے مطابق سختی سے۔
6 مساجد کے اماموں اور مؤذن کے ماہانہ اعزازیہ کو بڑھا کر 12,000 کرنے کے عہد کی تکمیل، جیسا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد وعدہ کیا گیا تھا، اس طرح نچلی سطح پر خدمات انجام دینے والے مذہبی کارکنوں کے لیے عزت اور مالی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
مندرجہ بالا مطالبات آپ کی قیادت پر مکمل اعتماد اور آئینی اخلاقیات، سماجی انصاف اور جامع طرز حکمرانی کے عزم کے ساتھ رکھے گئے ہیں۔ ان مسائل پر ابتدائی اور فیصلہ کن کارروائی سے عوامی اعتماد کو نمایاں طور پر تقویت ملے گی اور ہم آہنگی اور مساوات کے قومی ماڈل کے طور پر تلنگانہ کے کردار کو تقویت ملے گی۔۔۔۔
Comments
Post a Comment