آئیڈیا—اردو تھیٹر کی نئی روح، نئے معنی۔بتاریخ 15 فروری بروز اتوار شام ۵ اور رات ۸ بجے اوشیوارا میں۔


ممبئی (راست) اردو تھیٹر کی دنیا میں آئیڈیا (IDEA) نے گزشتہ چند برسوں میں جس دلجمعی اور مسلسل محنت کے ساتھ اپنے ڈراموں کو پیش کیا ہے، اس نے نہ صرف اردو زبان کی شیرینی کو نئی نسل تک پہنچایا ہے بلکہ اسٹیج پر اس کی ادبی روایت کو بھی ایک نئی تازگی عطا کی ہے۔ اس سفر میں “آوارہ پھروں” اور “عشق جلے تو جلے ایسا” دو ایسے ڈرامے ہیں جو اپنے موضوع، اسلوب اور تاثیر کے باعث مسلسل مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔
آوارہ پھروں دراصل مجاز لکھنوی کی رومانوی، بےسمت اور تخلیقی زندگی کا ایک فنکارانہ عکس ہے۔ وہ شاعر جس کے دل کی آگ اور نگاہ کی نمی، دونوں نے اردو ادب کو ایک نئی سمت عطا کی — اس ڈرامے میں اسی مجاز کی روح سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔
دوسری جانب “عشق جلے تو جلے ایسا” معروف ادیبہ امرتا پریتم اور مصور امروز کے اُس لطیف، غیرروایتی اور روحانی رشتے کی ڈرامائی تشکیل ہے جس نے ادب اور فن دونوں میں اپنی الگ پہچان قائم کی۔ یہ محبت، قربت اور تخلیق کے اس سفر کی کہانی ہے جس کا ذکر کیے بغیر ڈرامے کا اصل مفہوم ادھورا رہتا ہے۔
آئیڈیا کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے فنکاروں میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جن کی مادری زبان اردو نہیں، لیکن اس کے باوجود اسٹیج پر ان کی زبان و بیان کی شستگی حیران کر دیتی ہے۔
عشق جلے تو جلے ایسا کے مرکزی کردار بندیل کھنڈی، گجراتی اور مراٹھی پس منظر سے ہیں، جبکہ آوارہ پھروں کے فنکار گجراتی، مراٹھی اور کنڈ زبان بولنے والے ہیں۔ اردو مکالموں میں انکی روانی یہ ثابت کرتی ہے کہ زبان محبت، مشق اور لگن سے سیکھی جاتی ہے — وراثت سے نہیں۔
گزشتہ چار برسوں میں عشق جلے تو جلے ایسا اور تین برسوں میں آوارہ پھروں کے لگاتار شوز اس بات کا ثبوت ہیں کہ اردو ڈرامہ آج بھی ناظرین کے دلوں میں اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔ خصوصی طور پر خوش کن بات یہ ہے کہ شوز میں آنے والے افراد میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کا اردو پس منظر نہیں، لیکن وہ اردو کے لہجے، نرمی اور آہنگ سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں۔
آوارہ پھروں کو اپنے برجستہ اور شگفتہ مکالموں سے قاضی مشتاق احمد نے زندگی بخشی ہے، جبکہ عشق جلے تو جلے ایسا کی لو صادق انصاری کے قلم سے روشن ہوئی ہے۔ ان دونوں پروڈکشنز کو اپنی ہمہ گیر، چابک‌دست اور باوقار ہدایت کاری و اداکاری سے مُجیب خان نے ایک مستقل شان عطا کی ہے- 

شام 5 بجے — “آوارہ پھروں
رات 8 بجے — “عشق جلے تو جلے ایسا”
مقام: شکنتلم اسٹوڈیو، اوشیوارا
مزید معلومات کے لیے رابطہ:
9821044429

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔