دکنی ادب کی توانا آواز: دکن کی مٹی، لفظوں کی خوشبو میرؔ بیدری کا تخلیقی وقار۔۔ازقلم : محمد امین نواز۔


دکنی ادب کی توانا آواز: دکن کی مٹی، لفظوں کی خوشبو میرؔ بیدری کا تخلیقی وقار۔۔
ازقلم : محمد امین نواز۔

 معروف ادیب، قادرالکلام شاعر اور کہنہ مشق صحافی محمد یوسف رحیم المعروف میرؔ بیدری عصرِ حاضر میں دکنی اردو ادب کا وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے اپنی خالص دکنی شاعری اور منفرد افسانچوں کے ذریعے اردو ادب میں ایک جامع، مضبوط اور جداگانہ شناخت قائم کی ہے۔ ان کی تخلیقات نہ صرف ادبی حلقوں میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں بلکہ عام قارئین کے دلوں میں بھی اپنی سادگی، فطری پن اور تہذیبی رنگ کے باعث خاص مقام رکھتی ہیں۔ محمد یوسف رحیم میرؔ بیدری کا اصل وصف یہ ہے کہ انہوں نے دکنی زبان کو محض روایت کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ادبی اظہار کے طور پر پیش کیا۔ ان کے افسانچے دکن کی مٹی کی خوشبو، یہاں کے لوگوں کی روزمرہ زندگی، دکھ سکھ، رسم و رواج، مزاح اور درد کو نہایت اختصار مگر گہرے تاثر کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ افسانچے جیسی مختصر صنف میں بھرپور معنویت، فکری وسعت اور جذباتی تاثیر پیدا کرنا ہر قلم کار کے بس کی بات نہیں، مگر میرؔ بیدری نے اس صنف کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ان کے دکنی افسانچوں کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے افسانچوں کے مختلف زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں اور ملک و بیرونِ ملک متعدد ادبی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے ان افسانچوں پر مبنی نمائشیں منعقد کی گئیں، جنہیں ناظرین اور قارئین کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہ پذیرائی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ میرؔ بیدری کی تخلیقات محض مقامی یا علاقائی سطح تک محدود نہیں رہیں بلکہ آفاقی احساسات اور انسانی قدروں کی وجہ سے وسیع تر حلقوں میں قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔ ان کے افسانچوں نے دکنی ادب کو ایک نیا وقار اور بلند مقام عطا کیا ہے۔صحافت کے میدان میں بھی محمد یوسف رحیم میرؔ بیدری کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ ایک صحافی کی حیثیت سے ان کی تحریروں میں عصری شعور، سماجی ذمہ داری اور حق گوئی نمایاں نظر آتی ہے۔ یہی صحافتی بصیرت ان کے ادبی اسلوب میں بھی جھلکتی ہے، جہاں وہ زندگی کے تلخ حقائق کو نہایت سادہ مگر اثر انگیز پیرائے میں پیش کرتے ہیں۔ ان کی تحریر میں بناوٹ یا تصنع نہیں بلکہ سچائی، خلوص اور درد مندی کی کیفیت نمایاں ہوتی ہے۔
 دکنی شاعری کے میدان میں بھی میرؔ بیدری نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا ہے۔ اب تک دکنی زبان میں ان کے دو شعری مجموعے منظرِ عام پر آ کر ادبی دنیا میں رونق افروز ہو چکے ہیں، جو دکنی شاعری کے ذوق رکھنے والوں کے لیے ایک بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ ان مجموعوں میں دکنی زبان کی مٹھاس، محاوراتی حسن، عوامی لہجہ اور فکری گہرائی یکجا ہو کر ایک دلکش اور مؤثر شعری فضا قائم کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں دکن کی تہذیب، محبت، انسان دوستی اور سماجی شعور نمایاں طور پر جلوہ گر ہے۔ میرؔ بیدری کی شاعری کا امتیاز یہ ہے کہ وہ قاری اور سامع سے براہِ راست مکالمہ کرتی ہے۔ ان کے اشعار میں سادگی کے ساتھ گہرائی بھی ہے اور مقامی رنگ کے ساتھ آفاقی معنویت بھی۔ یہی سبب ہے کہ ان کی شاعری نہ صرف اہلِ ادب بلکہ عام قارئین میں بھی یکساں طور پر مقبول ہے۔محمد یوسف رحیم میرؔ بیدری نے اپنے ادبی سفر کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر تخلیق میں خلوص، زبان سے محبت اور تہذیبی شعور شامل ہو تو علاقائی زبان بھی عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا سکتی ہے۔ دکنی افسانچوں اور شاعری کے ذریعے انہوں نے اردو ادب کے دامن کو وسیع کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط ادبی روایت قائم کی ہے۔ بلا شبہ میرؔ بیدری کا نام دکنی ادب کی تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے، اور ان کی ادبی خدمات دیر تک یاد رکھی جائیں گی۔
 محمد یوسف رحیم میرؔ بیدری کی ادبی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے دکنی زبان و ادب کو محض ماضی کی یادگار کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اسے عہدِ حاضر کے فکری، سماجی اور تہذیبی تناظر میں ایک نئی معنویت عطا کی۔ ان کی تخلیقات میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج ملتا ہے، جہاں قدیم دکنی لہجہ جدید احساسات اور عصری مسائل کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ یہی وصف انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔ میرؔ بیدری کے افسانچوں میں علامتی اظہار، معنوی گہرائی اور فکری وسعت نمایاں طور پر جلوہ گر ہے۔ مختصر لفظوں میں وسیع کائنات سمیٹ دینا ان کا خاص ہنر ہے۔ ان کے افسانچے قاری کو چونکاتے بھی ہیں، سوچنے پر مجبور بھی کرتے ہیں اور بسا اوقات خاموشی سے دل میں اتر جاتے ہیں۔ سماجی ناہمواری، انسانی رشتوں کی پیچیدگی، معاشرتی تضادات اور عام انسان کی جدوجہد جیسے موضوعات کو انہوں نے نہایت سادگی مگر گہرے اثر کے ساتھ پیش کیا ہے۔ دکنی شاعری میں بھی میرؔ بیدری نے زبان کی اصل روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے نئے آہنگ سے روشناس کرایا۔ ان کی شاعری میں دکن کی مٹی، وہاں کے رسم و رواج، عوامی جذبات اور روزمرہ زندگی کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ وہ نہ صرف دل کی بات کہتے ہیں بلکہ سماج کے ان پہلوؤں کو بھی اجاگر کرتے ہیں جو عموماً نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ ان کے اشعار میں درد بھی ہے، محبت بھی، طنز بھی اور امید کی کرن بھی، جو قاری کو ایک مکمل جذباتی تجربہ فراہم کرتی ہے۔ میرؔ بیدری کی زبان سادہ، رواں اور اثر انگیز ہے۔ انہوں نے دکنی محاورات اور مقامی لفظیات کو اس خوبی سے برتا ہے کہ تحریر میں کہیں بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری اور نثر دکن کے عوام سے براہِ راست جڑتی ہے اور ان کے دل کی آواز بن جاتی ہے۔ ان کا اسلوب اس بات کا مظہر ہے کہ زبان جب زمین سے جڑی ہو تو وہ دلوں تک پہنچتی ہے۔
 ادبی دنیا میں محمد یوسف رحیم میرؔ بیدری کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے نئی نسل کے لکھنے والوں کو دکنی زبان کی طرف راغب کیا۔ ان کی تحریریں نوجوان قلم کاروں کے لیے رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ وہ یہ پیغام دیتے ہیں کہ اپنی تہذیب، اپنی زبان اور اپنی شناخت کے ساتھ ادب تخلیق کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ محمد یوسف رحیم میرؔ بیدری نے دکنی افسانچوں اور شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک مضبوط اور دیرپا نقوش ثبت کیے ہیں۔ ان کی ادبی کاوشیں نہ صرف موجودہ دور کے لیے اہم ہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی ایک قیمتی ورثہ ثابت ہوں گی۔ دکنی ادب کی ترویج، فروغ اور وقار میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں اور وہ بجا طور پر دکنی اردو کے معتبر اور روشن چراغ سمجھے جاتے ہیں۔ الغرض محمد یوسف رحیم میرؔ بیدری کا ادبی سفر خلوصِ فکر، تہذیبی شعور اور تخلیقی صداقت کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے دکنی افسانچوں اور شاعری کے ذریعے نہ صرف اردو ادب کے دامن کو وسعت بخشی بلکہ دکن کی زبان، ثقافت اور عوامی احساسات کو ایک باوقار ادبی شناخت عطا کی۔ ان کی تحریریں وقت کے ساتھ اپنی معنویت برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور یہی کسی بڑے ادیب کی پہچان ہوتی ہے۔ امید ہے کہ میرؔ بیدری کی یہ تخلیقی کاوشیں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں گی اور دکنی ادب کا یہ روشن چراغ اسی طرح اردو ادب کی فضا کو منور کرتا رہے گا۔
  محمد یوسف رحیم بیدری کے افسانچوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ ان کے یہاں افسانچوں کے عنوان محض نام نہیں بلکہ پورے افسانچے کی فکری کنجی ہوتے ہیں۔ ہر عنوان قاری کو ابتدا ہی میں ایک ذہنی سمت عطا کرتا ہے اور اختتام تک پہنچتے پہنچتے وہ عنوان اپنے پورے معنوی تنوع کے ساتھ کھلتا چلا جاتا ہے۔افسانچہ ”کچ کرنا“ بظاہر ایک سادہ سا عنوان ہے، مگر اس کے اندر ہمارے سماج کی وہ تلخ حقیقت پوشیدہ ہے جہاں ہجوم، افواہ اور اجتماعی ذہنیت انسان کو سوچے سمجھے بغیر کسی فیصلے پر آمادہ کر دیتی ہے۔ یہ عنوان عمل اور ردِّعمل کی اس اندھی دوڑ کی علامت بن جاتا ہے جو اکثر پچھتاوے پر منتج ہوتی ہے۔اسی طرح”مسرت کی تصویر“ ایک خوشگوار اور مثبت تاثر دیتا ہوا عنوان ہے، لیکن افسانچے کے متن میں داخل ہوتے ہی یہ خوشی مشروط اور سوالیہ بن جاتی ہے۔ یہاں مسرت محض ظاہری نہیں بلکہ اس کے پیچھے قربانی، خاموشی اور بعض اوقات محرومی کی پرچھائیاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ عنوان قاری کو ایک تصور دیتا ہے اور افسانچہ اس تصور کی نئی تعبیر پیش کرتا ہے۔
 محمد یوسف رحیم بیدری نے دکنی زبان کی مٹھاس، لوک لہجہ، اور عام انسان کے دکھ سکھ کو شاعر نے نہایت سلیقے سے شعری قالب میں ڈھالا ہے۔ وقت، انسان اور سماج کے باہمی رشتوں پر گہری معنوی گفتگو کرتا ہے۔ شاعر سوالیہ انداز میں قاری کو جھنجھوڑتا ہے اور انسانی رویّوں پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔محمد یوسف رحیم بیدری کا یہ دکنی کلام دکن کی تہذیبی مٹھاس، عوامی شعور اور عصری حسّاسیت کا نہایت بلیغ اور جاندار اظہار ہے۔ ان کے اشعار میں دکنی زبان کی فطری سادگی، مکالماتی انداز اور روزمرہ زندگی سے جڑی ہوئی کیفیات اس طرح گھل مل جاتی ہیں کہ قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ شاعری نہیں بلکہ گلی، محلے اور گھر کی بولی ہوئی باتیں ہوں ؎ :
کھانا وقت پر کھاروں ماں 
 کالج پھر میں جاروں ماں 
یہ مصرعے ایک عام دکنی گھرانے کے طالب علم کی تصویر پیش کرتے ہیں جہاں ماں کی شفقت، نظم و ضبط اور تعلیم کی طرف رغبت فطری انداز میں جلوہ گر ہے۔ یہاں شاعری کسی تصنع یا بناوٹ کی محتاج نہیں، بلکہ سادہ جملوں میں پورا ایک سماجی پس منظر ابھر آتا ہے۔ اسی نظم میں گاندھی جی کا ذکر دکن کی عوامی سیاست اور قومی شعور کی علامت بن کر سامنے آتا ہے، جو شاعر کے وسیع فکری افق کی دلیل ہے۔

 اجتماعی حالات اور معاشرتی رویّوں پر طنزیہ اور قدرے المیہ انداز نمایاں ہے ؎ :
ہم لوگ برے سنئیں رے
 ہنگامے کرے نئیں رہے
یہاں شاعر اپنے عہد کے انسان کو آئینہ دکھاتا ہے۔ بظاہر خاموشی ہے، مگر اس خاموشی میں ایک گہرا اضطراب پوشیدہ ہے۔”زندہ ہیں، مر ے نئیں رے”* جیسے مصرعے زندگی اور موت کے بیچ معلق وجود کا استعارہ بن جاتے ہیں، جو سماجی بے حسی اور خوف کی کیفیت کو نمایاں کرتے ہیں۔

 معصومیت اور ظلم کا تضاد نہایت دردناک انداز میں ابھرتا ہے ؎ :
راز کے باتاں ہوں گے اس میں 
 چھوٹے بچے کونی مارے
یہ اشعار عصری سانحات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جہاں بے گناہ بچے تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ شاعر ذاتی تجربے اور اجتماعی المیے کو اس طرح جوڑتا ہے کہ قاری کے دل میں گہری کسک پیدا ہو جاتی ہے۔”میں تھی امے کے بازو میں“ جیسا مصرع ماں کی آغوش کو تحفظ کی علامت بناتا ہے، جس کے بالمقابل ظلم کی تاریکی اور زیادہ ہولناک محسوس ہوتی ہے۔

حمد کے اشعار میں شاعر کا لہجہ بدل جاتا ہے اور سراپا سپردگی میں ڈھل جاتا ہے ؎ :
تو جو بولا، سو میں کرتوں 
 تیری خاطر تس سے ڈرتوں 
یہاں دکنی زبان میں عقیدت، توکل اور بندگی کی ایسی سادہ مگر پُراثر تصویر ملتی ہے جو دل کو براہِ راست چھو لیتی ہے۔ رزق اور قسمت کا ذکر عوامی عقیدے کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں خدا کو زندگی کے ہر پہلو کا ضامن مانا گیا ہے۔

نعتیہ اشعار میں خوشی، نور اور آمدِ رسول ﷺ کا تصور انتہائی دلکش انداز میں سامنے آتا ہے ؎ :
اُنوں ائے، بہاراں لئے، ائے
 وہی رب کا فرماں، لئے ائے
یہاں دکنی لفظیات کے ذریعے نعت کی روایت کو مقامی رنگ میں ڈھالا گیا ہے، جس سے عقیدت مزید مانوس اور اثر انگیز بن جاتی ہے۔مجموعی طور پر محمد یوسف رحیم بیدری کا یہ دکنی کلام زبان، تہذیب، عقیدت اور عصری شعور کا حسین امتزاج ہے۔ وہ دکنی شاعری کو محض ماضی کی یادگار نہیں بناتے بلکہ اسے موجودہ سماجی، سیاسی اور روحانی مسائل سے جوڑ کر زندہ اور متحرک رکھتے ہیں۔ یہی وصف ان کے کلام کو اہم، مؤثر اور دیرپا بناتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔